ترکی میں کردش، بلغاریہ میں ترک

کریم اوکتم بلغاریہ اور ترکی کی حکومتوں کا اپنی سب سے اہم اقلیتوں کے زبان کے حقوق کا موازنہ کرتے ہیں.

کیس

بلغاریہ اور ترکی دونوں م این ہی بری اقلیتیں بستی ہیں: بلغاریہ میں ٨ سے ١٠ فیصد عوام ترک نژاد ہے جب کے ترکی میں ١٥ فیصد لوگ کرد ہیں. دونوں ممالک میں اقلیتوں کی طرف ریاستی رویے کچھ زیادہ اچھے نہیں اور دونوں ممالک میں نسلی اور مذہبی بنیادوں پر مبنی قومیت کے تصورات بحث مباحثے اور تعلیمی اداروں میں عام ہیں. بونوں ممالک میں اقلیتی زبان کا استعمال اصولی طور پر ریاستی و قومی یکجہتی کے خلاف سمجھا جاتا ہے (بلغاریہ میں بلغارین اور ترکی میں ترک زبان یکجہتی کی علمبردار ہیں). لیکن دونوں ممالک میں اقلیتی زبان کے استعمال کی اجازت اور پابندی کی پالیسی بھی مختلف ہے.

یورپی یونین کی ممبر ریاست بلغاریہ میں مادری زبان میں تعلیم ایک بنیادی حق سمجھہ جاتا ہے جو کے آئین میں تو محفوظ نہیں لیکن وزیروں کی ایک کونسل نے ضرور محفوظ کر رکھا ہے. جبکے اقلیتی سکول تو نہیں قائم (چار مذہبی کالج اس سے استثنیٰ کرتے ہیں) ترکی میں اقلیتوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم کا حق ضرور حاصل ہے. لیکن اصولوں کی پابندی اور مقامی تعلیمی اداروں اور سکولوں کی اپنی سیاست ان حقوق پر عمل درآمد میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہے: ترک زبان کی کلاس کے لئے اس کے استاد اور کم از کم ١٢ طالب علم ہونا ضروری ہیں. ان کلاسوں کا شمار طالب علم کے حتمی نمبروں میں نہیں ہوتا اور یہ دوسری الیکٹوو کلاسوں (جیسے کے کمپیوٹر کے کورس اور اضافی بیرونی زبانیں) کے ساتھ بھی مقابلے میں ہوتی ہے. اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پرنسپل طالب علموں کی ترک زبان پڑھیں سے حوصلہ شکنی کرتے ہیں. حتمی طور پر وہ تعلیمی ادارے جدھر ملک کے ترک زبان کے اساتذہ کو تربیت دی جاتی تھی معاشی وجوہات کی بنا پر بند کر دیے گئے ہیں. نتیجتا بلغاریہ میں صرف مٹھی بھر ترک طالب علم ترک زبان کو الیکٹو کے طور پر پڑھتے ہیں اور اس لئے بلغاریہ کے ترکوں کی زبانی صلاحیتیں کم ہوتی جا رہی ہیں جب کہ بہت سے ترک افراد اپنی زبان سے بہتر بلغارین زبان بلتے ہیں.

پھچلے آٹھ سال سے بلغاریہ کے رویاستی ٹی وی چینل نے روز ایک ١٥ منٹ کا ترک زبان میں نیوز بلٹن دکھایا ہے. جب کہ یہ بلغاریہ میں بسنے والے ٧٥٠،٠٠٠ ترکوں کے لئے واحد ترک زبان کا ٹی وی پروگرام ہے، اس کو دفع اس بنیاد پر بین کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ ایک بیرونی زبان کو فروغ دیتا ہے. یہاں تک کہ وزیر اعظم بویکو بوریسوو نے بھی اس مہم کی یہ کہہ کر حمایت کی کہ بلغاریہ کی صرف ایک ریاستی زبان ہے: بلغارین. روزنامہ ٹی وی نیوز بلٹن (جو کہ روز سہ پھر میں دکھائی جاتی ہے) کا مستقبل کافی غیر یقینی نظر آتا ہے.

یورپی یونین میں شمولیت کی امیدوار ترکی میں کچھ غیر مسلم اقلیتی درس گاہوں کے علاوہ پرائمری اور سیکنڈری لیول پر اقلیتی زبانوں میں کوئی تعلیم نہیں ہوتی. سکول میں کرد طالب علموں کو کرد زبان میں تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہے. لیکن پچھلے کچھ سالوں میں کرد زبان اور ثقافت پر تحقیق کرنے کے لئے یونیورسٹی ڈپارٹمنٹ کھلے ہیں اور کردش زبان میں ڈپلومہ کورسس کرد علاقوں کی یونورسٹیوں میں کافی عام ہو گۓ ہیں. نججی طور پر کردش زبان کے کورس کھلنے کے بھی امکان نظر آتے ہیں لیکن ان کورسس کے لئے تفویض کی گئی جگہوں پر حد درجہ عمارتی وضاحت کی بنا پر پڑھائی رکی ہوئی ہے. جو کچھ کورس شروع کئے گۓ ان کو بہت زیادہ فیس رکھنی پڑی جس کی وجہ سے وو ایک غریب کمیونٹی میں اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہے. ان میں سے کئی کورس اب بند کر دیے گۓ ہیں.

لیکن میڈیا کے شعبے میں حالات کافی مختلف ہیں: ترکی کا ریاستی چینل ٹی آر ٹی ٦ پچھلے کچھ سالوں سے ٢٤ گھنٹے کردش میں نشریات کرتا ہے. ٹی آر ٹی ٦ کے ساتھ اب دو اور نججی ٹی وی سٹیشن بھی شامل ہو گۓ ہیں جو کے ٢٤ گھنٹے کردش زبان میں نشریات کرتے ہیں.

مصنف کی راۓ

دونوں ممالک کی سب سے ضروری اقلیتی کمیونٹی کے مادری زبان کے حقوق کے حالات کافی خراب ہیں. بلغاریہ میں اقلیتی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا حق اصولا ضرور موجود ہے. لیکن حقیقتا وزارت تعلیم سے لے کر مقامی پرنسپل تک تمام ریاستی حکام ہی ترک زبان میں تعلیم کے حق کے خلاف کام کرتے ہیں. اور یہ بات کہ ایک صرف ١٥ منٹ کا نیوز بلٹن جو کہ ایک ایسے وقت پر چلایا جاتا ہے جب بہت ہی کم لوگ اس کو دیکھیں ایک قومی سطح پر پٹیشںوں اور مہمات کا سلسلہ شروع کر سکتا ہے اقلیتی زبان بو=لنے والوں کے حقوق کے لئے ایک غلط رویے کی طرف اشارہ کرتا ہے.

ترکی میں مادری زبان میں پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کا حق کردوں اور دوسری مسلمان اقلیتوں سے چھینا جاتا ہے. اور کیوں کہ اپنی مادری زبان میں تعلیم کا حق روکا جاتا ہے یہ عالمی اور یورپی انسانی حقوق کے اصولوں کی صاف خلاف ورزی ہے. ریاستی ٹی وی کا کردش پروگرام دکھانا اور اس کو فروغ دینا لوگوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے حق کا بدل نہیں ہے. بلکے یہ ایک عجیب صورت ہال پیدا کرتا ہے جس میں ریاست ایک طرف تو کردش زبان کے فروغ کے لئے کام کر رہی ہے اور دوسری طرف اس کی تعلیم کو روک رہی ہے.

- Kerem Öktem

مزید پڑھئے:


تبصرے (0)

گوگل کے ترجمے آٹومیٹک مشین ترجمے فراہم نہیں کرتے. ان سے آپ کو کہنے والے کی بات کا لب لباب تو پتا لگ سکتا ہے لیکن یہ آپ کو بات کا بلکل درست ترجمہ بشمول اس کی پیچیدگیوں کے نہیں دے سکتا.ان ترجموں کو پڑھتے وقت آپ یہ بات ضرور ذہن میں رکھیے

  1. آپ کا تبصرہ ماڈریشن کے مراحل میں ہے۔

    Dear Friends,

    I am a Kurdish/Turkish girl living in Lebanon, holding both IDs, the Lebanese and the Turkish. My grandfather moved to Lebanon because of the Turkish violation against kurds and the breach of their rights. They have suffered long history with discrimination and persecution in many surrounding countries as well. They were not allowed to raise their flag nor use their native language (that is the reason why I am weak in speaking kurdish!). Both sides hope for a peaceful settlement to avoid bloody civil war. The mass Kurdish exodus from Iraq triggers foreign government and public opinion to firmly engage on the kurdish question.

  2. آپ کا تبصرہ ماڈریشن کے مراحل میں ہے۔

    Dear colleague,

    I am somewhat puzzled by your conclusion that Turkish people in Bulgaria are more and more fluent in Bulgarian. As far as I know it is exactly the opposite — they know less and less Bulgarian, although this does not mean that all is good with the Turkish language education. Can you please quote your sources of information, academic, statistic or others?

    Milena Borden (Dr. UCL-SSEES)

  3. آپ کا تبصرہ ماڈریشن کے مراحل میں ہے۔

    Very nice example of collaboration between two nations.

  4. آپ کا تبصرہ ماڈریشن کے مراحل میں ہے۔

    Dear mpetkova,

    Thank you very much for your thoughtful comments.

    You are right about the DPS’ importance for the Turkish community (there, however, several Turkish parties in Macedonia, I should add).

    What I conclude from my fieldwork is that the DPS needed to walk a very fine line as ethnic politics are unconstitutional in Bulgaria. It seems that while they were perceived as a ‘Turkish party’, they had to take great care in demonstrating their commitment to being a ‘Bulgarian’ party, hence also including Bulgarians from other backgrounds. For what reason exactly one might disagree, but the DPS seems to have been much better in clientelist politics than in expanding the rights of the Turkish and other minorities.

    In fact, this does resound a bit with the Turkish case, where there also is a de-facto Kurdish party (BDP), which is legal but the moment it crosses into the territory of Kurdish identity politics is ruthlessly prosecuted.

    By the way, after writing this case, I received news of the Bulgarian Parliament’s apology for the "Renaissance” campaign. I wonder what you think about it? Is it a sign that things might be about to change?

    Best wishes

    http://setimes.com/cocoon/setimes/xhtml/en_GB/features/setimes/features/2012/01/18/feature-01

  5. آپ کا تبصرہ ماڈریشن کے مراحل میں ہے۔

    Thank you, Kerem, for this insightful article. Indeed, the rights of the Turkish minority in Bulgaria have long been abused. Towards the end of the communist regime, the party leadership sought the escalate ethnic tensions in my country by launching the so-called "Renaissance Process” to change the names of all Turks to "Bulgarian” ones. Of course, this resulted in violence, arrests, and even deaths and thousands of embittered Turks left. Since the fall of the regime and its pro-ethnic-tension politics in Bulgaria, there has not been an attempt to re-think recent history and launch discussions on the position of minorities in the country because our amateurish political elite cannot move beyond populism. Furthermore, the way history is taught in Bulgarian textbooks has not changed since 1989, so all propaganda targeting the "Western NATO enemy” Turkey has not been removed. To this day Bulgarians cannot come to terms with the Ottoman conquest. It’s been 150 years already. So do not be surprised about the petitions against the 15-minute news in Turkish. I do have to note, however, that unlike many of our neighbors, we have had a Turkish party (DPS) in parliament since 1989. How representative they are of the Turkish minority is another question.

کسی بھی زبان میں تبصرہ کیجئے

جھلکیاں

سب ہا‏ئيلائٹس ديکھنے کے ليے دائيں طرف سوا‏ئپ کيجئيے


آزادی اظہار راۓ آکسفرڈ یونیورسٹی کا ایک تحقیقی پراجکٹ ہے جو کہ سینٹ اینٹونی کالج کے ڈیرنڈورف پروگرام براۓ مطالعہ آزادی کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے

اوکسفرڈ يونيورسٹی