09برفانی تودے

ہم دونوں سرکاری و غیر سرکاری طاقتوں کی طرف سےناجائز مداخلت کے خلاف انٹرنیٹ و دیگر ذرائع ابلاغ کے نظاموں کا دفاع کرتے ہیں۔

نیٹ کی تعمیر میں غیر جانبداری

ان انجینیروں اور پربصارت لوگوں نے جنہوں نے انٹرنیٹ کو بنایا اس کا ڈیزائن کچھ یوں رکھا کے کوئی بھی معلومات کمپیوٹر الف سے کمپیوٹر بے تک ہزاروں مختلف راستوں سے ‘پکیٹیوں’ کی صورت میں پہنچے. انہوں نے اس کو ‘آخر-سے-آخر تک اصول‘ کا نام دیا. اس اصول کی کئی قسمیں ہیں لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ نیٹورک معلومات کے پیکٹ لے کر اس کو مختلف رستوں سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچے تاکہ اس معلومات میں کوئی تفریق نہ ہو. پیچیدگی، امتیاز اور دانشمندانہ انتخاب کو آخر میں مرکوز ہونا چاہیے. ہمیں ان کی ہی ضرورت ہے جن کو انٹرنیٹ کے بانیوں نے جن کو ‘بیوقوف پائپ’ کہا تھا.

بعد میں اس کی توسیع کر کے ایک زیادہ عام اصول بنا دیا گیا: ‘انٹرنیٹ کی غیر جانبداری‘. اس فقرے کے پیھچے انٹرنیٹ کی تعمیر کے پیچیدہ کے تکنیکی عناصر ہیں. اس خیال کی سب سے ریڈیکل تشریح یہ کہتی ہے کہ کسی بھی قسم کی کوئی تفریق یا امتیاز نہیں ہونا چاہیے. چاہے یہ ایک سادہ سی ای-میل ہو یا بینڈوتھ خانے والی فحش فلم، انٹرنیٹ کی سروس فراہم کرنے والوں کو – جو کے اصل میں، زمینی اور سطح سمندر سے نیچے کیبلوں سمیت، انٹرنیٹ کے سارے ڈھانچے کے مالک اور اس کو چلانے والے ہیں – سارا مواد بغیر کسی خوف یا اعانت کے فراہم کرنا چاہیے. ‘نیٹ پر غیرجانبداری’ کے زیادہ پیچیدہ ورژن ‘مناسب ٹریفک مینیجمنٹ’ کی اجازت تو دیتے ہیں لیکن کومکاسٹ اور ورائزون جیسے نیٹورک فراہم کرنے والوں کو وہ مواد آھستہ کرنے یا (کیبل ٹی وی والوں کی طرح) خارج کرنے سے نہیں روکتا جو کے ان کے معاشی مفادات سے مقابلے میں ہو. اور نا ان کو وہ چیزیں مشکل کر دینی چاہیئیں جن کے لئے دوسرے لوگ زیادہ پیسے دینے کے لئے تیار ہوں.

ایک ایسے عالمی نیٹورک میں جو کے تقریبا پوری طرح ہی نجی قوّتوں کے ہاتھ میں ہے ہمیشہ ‘انٹرنیٹ کی غیر جانبداری’ اور منافع کی روش میں کشیدگی رہتی ہے. اس پیچیدہ معاملے کے بارے میں اور معلومات حاصل کرنے کے لئے آپ سائبر قانون کے مایاناز ماہر لیری لیسگ کی یہ وضاحت دیکھ سکتے ہیں، ایوگنی موروزوو کا ہمیشہ کی طرح یہ پر-مغز آرٹیکل پڑھ سکتے ہیں یا اور بھی زیادہ گہرائی میں جانے کے لئے ان دو کتابوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں جن کا وہ تفصیلی ذکر کرتے ہیں: ٹم وو کی ‘دی ماسٹر سویچ‘ اور باربرا وین سچویک کی ‘انٹرنیٹ کا تعمیراتی ڈیزائن اور جدّت‘.

انٹرنیٹ کا اس سمت میں ترقی کرنا پہلے سے طے ہرگز نہیں تھا. اگر روسی فوج یا ایرانی آیاتوللہ نے انٹرنیٹ ایجاد کیا ہوتا تو اس کی شکل یقینن مختلف ہوتی، اور ہو سکتا ہے اتنی زیادہ مختلف ہوتی کے ہم اس کو پہچان بھی نہ پاتے. اور نہ ہی یہ طے ہے کہ یہ اسی طرح رہے گا. سیاسی وجوہات کی بنا پر کئی ریاستوں نے اور معاشی وجوہات کی بنا پر بہت سی کمپنیوں نے پہلے ہی اصل خواب کو گھلا دیا ہے. ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کے جانے بغیر، ہماری کمپیوٹر سکرینوں کے پیچھے اور موبائل فونوں کے اندر طاقت کی ایک جدّوجہد چل رہی ہے. اگر ہم یہ چاہتے ہیں کے الیکٹرانک مواصلات کی سہولتیں ہمیں وہ آزادیاں دے کرے جو وہ فراہم کر سکتی ہے تو ہمیں وہ چیزیں سمجھنا پڑیں گی جو اس وقت رونما ہو رہی ہیں.

حکومتیں کیا کرتی ہیں

زیادہ تر لوگ قومی ‘فائر والز’ کی طرف سے سنسرشپ کے بارے میں واقف ہیں. کسی بھی ملک میں معلومات اور خیالات کچھ مخصوص بیچوانوں کے کیبلوں اور وائر لیس نیٹورکوں کے ذریعے پہنچتی ہے جیسے کہ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے، فون کمپنیاں وغیرہ. حکومتیں اکثر ان سے کہتی ہیں کہ ‘آپ اس کو بلاک کریں، اس کو فلٹر کریں. اگر آپ نہیں کریں گے تو ہم آپ کو بند کر دیں گے یا آپ کے خلاف کاروائی کریں گے’. بلاک کرنے کے سب سے واضح طریقوں میں سے ایک یوں ہے کے جیسے ہی آپ کسی ویب سائٹ پر جانے کی کوشش کریں تو – ٹریفک کے تکون خطرے کے نشان کی طرح – ایک خبردار کرنے کا نشان ابھرتا ہے جو کے آپ کو یہ بتاتا ہے کہ یہ ویب سائٹ بلاک ہے (مجھے اس کا ایران میں تجربہ ہوا). چین، پاکستان یا ترکی میں آپ کو مختلف طریقوں سے اسی قسم کے پیغامات ملیں گے. اگر آپ کسی مقام پر کوئی ویب سائٹ بلاک ملے تو آپ اس کو ہرڈکت مانیٹر کو رپورٹ کر سکتے ہیں اور یہ دیکھ سکتے ہیں کے کیا دوسرے لوگوں کو بھی یہ ہی مسئلہ درپیش ہے.

لیکن پوری طرح بلاک کر دینا کنٹرول کا ایک بہت نیچ طریقہ ہے. آج کل ریاستوں کے پاس کنٹرول کے بہت نفیس طریقے بھی موجود ہیں. یہ کسی بھی واقعے کے مختلف ورژن نکلتی ہیں جو کے اکثر جھوٹ یا تحریف زدہ ہوتے ہیں اور آپ کے سرچ نتیجوں پر سب سے اپ ار ہوتے ہیں اور آپ کے ان باکس کو بھی بھر دیتے ہیں. جن ویب سائٹوں کو یہ پسند نہیں کرتے ان کے خلاف ‘سہولت کی نا فراہمی’ کے حملے کرے جاتے ہیں. یہ قانونی یا غیر قانونی طور پر لوگو کے ای-میل اکاؤنٹ میں گھس کر سرچوں پر جاسوسی کرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کے مختلف افراد ایک دوسرے کو کیا کہ رہے ہیں. اور پھر ہو سکتا ہے کہ بلکل پرانے طریقوں کے مطابق یہ لوگوں کو اپنے دل کی بات کہنے پر یا معلومات کا تبادلہ کرنے پر جیل میں ڈال دیں.

مغرب کی جمہوری حکومتیں ان طریقوں کی اکثر مذمّت کرتی ہیں. سرکاری طور پر امریکی حکومت ایسی ٹکنالوجی کی ترقی کو فروغ دیتی ہے جو آمرانہ فائر وال کو طور سکے. لیکن مغربی حکومتیں اپنے حساب سے اچھے مقاصد کے لئے خود انٹرنیٹ کو بلاک اور فلٹر کرتی ہیں اور انٹرنیٹ اور فون صارفین پر جاسوسی کرتی ہیں: جیسے دہشتگردی روکنے، سائبر جرم کے خلاف، بچےبازوں کو روکنے کے لئے، حق رازداری کے تحفّظ کے لئے اور کئی ساری یورپی ملکوں کے کیس میں نفرت زدہ تقریر کو سنسر کرنے کے لئے. اکثر دائیاں ہاتھ اسی چیز کے خلاف لڑ راہ ہوتا ہے جس کو بایاں ہاتھ فروغ دے راہ ہوتا ہے. وکی لیکس نے ایک ایسا پروگرام استعمال کر کے جو کے جزوی طور پر امریکی حکومت کے پیسوں سے بنا تھا (ٹور) راز فاش کرنے والوں کو امریکی حکومت کے راز سامنے لانے میں مدد کی.

کمپنیاں کیا کرتی ہیں

یہ عوامی طاقتیں صرف کہانی کا آدھ حصّہ ہیں. معلوماتی ٹکنالوجی کی ترقی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نجی (یا جزوی ٹور پر نجی) کمپنیوں کی ایک نسبتا چھوٹی تعداد کہ پاس بھی کافی مقدار میں یہ طاقت ہے کہ وہ اس بات احاطہ کر سکتے ہیں کہ آپ کیا دیکھ، سن یا پڑھ سکتے ہیں. گوگل اور فیس بک، بیدو اور روسٹیلیکام، کوم کاسٹ، مائکرو سافٹ، ورائ زون، چائنا موبائل، ایپل: ہر کوئی اس چیز پر حدود لگاتا ہے کے ان کے صارفین کیا وصول کر سکتے ہیں اور کیا بھیج سکتے ہیں. یہ جزوی تور پر ان ممالک کے قانون یا سیاسی ماحول کی وجہ سے ہے جدھر یہ کمپنیاں کام کرتی ہیں. (٢٠٠٤ میں یاہو کے بیجنگ آفس نے بدنام طور پر چین کی حکومت کو شی تاؤ نامی صحافی کی اس-میل تفصیلات، نام اور ای-میل کا مواد فراہم کر دیا. نتیجتا اس کو دس سال جیل کی سزا سنائی گئی.)لیکن یہ نجی قوّتیں یہ کام اپنے عقائد، ایڈیٹوریل معیار اور معاشی مفادات کے فروغ کے لئے بھی کرتی ہیں. عالمی آزادی اظہار کے لئے گوگل کے اقدام جرمنی کے اقدام سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں.

دیوتاؤں کے مقابلے گوگل بمقابلہ چین میں گوگل آخر میں ایک جابرانہ طاقت کے خلاف آزادی اظہار راۓ کی طرف پایا گیا. لیکن کئی سارے ممالک میں سب سے معروف سرچ انجن ہونے کے ناتے گوگل کے پاس بھی آزادی اظہار پر پابندیاں لگانے یا اس کو بگاڑنے کی کافی زیادہ صلاحیت ہے. مثال کے طور پر حالات حاضرہ میں گوگل خود بچوں سے متعلقہ فحش مواد کو بلاک کرتا ہے اور قانون ساز اداروں کو بچے بازوں تک پہنچنے میں مدد کرتا ہے. ہم میں سے زیادہ تر لوگ اس کو ایک اچھا اقدام ہی سمجھیں گے. لیکن اس وقت کیا ہوتا جب آج سے کچھ سال بعد گوگل کی ایک مختلف قیادت ان ہی لوگوں کے پیچھے پڑ جاۓ جن کو امریکی حکومت بھی پسند نہیں کرتی؟ امریکی مصنف ایلی پاریسر گوگل کے ایک سرچ انجنئیر کا حوالہ دیتے ہوئے کمپنی کے مشہور نعرے (‘برے مت بنو’) پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ‘ہم برا نہ ہونے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن اگر ہم چاہیں تو ہم بہت زیادہ برے ہو سکتے ہیں!’

اس کے علاوہ اور بھی کئی طریقے ہیں جن کے ذریعے نجی قوّتیں ہماری الیکٹرانک مواصلات اور تبادلوں کی آزادی پر حدود لگا سکتی ہیں ہیں اور لگاتی بھی ہیں. مثلا یہ ایسے معاہدے کرتی ہیں کے لوگ پیسے دے کر اس بات کی گارنٹی کر سکتے ہیں کے ان کے خیالات، پیغامات یا مصنوعات دوسرے لوگوں سے پہلے پہنچے یا آپ کی سکرین پر زیادہ اونچی نظر آئے. ایک آزادی پسند فری مارکیٹ میں یقین رکھنے والے اس کے جواب میں کہے گا اس میں کیا مثلا ہے؟

آپ یہ سوچتے ہیں کے یہ آپ کا کنڈل، آئ پیڈ یا لیپ ٹاپ ہے لیکن اس کے بنانے والے یا آپریٹر کو اس تک ابھی بھی رسائی ہے اور یہ اس وقت بھی اس میں موجود چیزوں دیکھ یا محفوظ کر سکتے ہیں جب آپ سو رہے ہوں. جولائی ٢٠٠٩ میں ایک دیں یوں ہوا کے اماذان دات کام کے کچھ گاہکوں کو پتا چلا کے ان کے کنڈل سے جارج آرویل کی ١٩٨٤ کی کاپی غائب ہو گئی ہے. (ہو سکتا ہے کے یہ وہ مشہور حصہ پڑھ رہے ہوں  جدھر مصنف ‘میموری ہول’ کے بارے میں بتاتے ہیں جدھر بگ برادر کے کہنے پر دستاویزات ہمیشہ کی تباہی کے لئے ڈال دے جاتے ہیں.) یہ معلومات اور مواصلاتی کمپنیاں بھی ہمارے بارے میں بہت ساری نجی معلومات اپنے پاس رکھتی ہیں. اس کی حق رازداری پر خطرات کے بارے میں اور جاننے کے لئے اصول ٨ کی بحث دیکھئے.

کونسی حدود جائز ہیں؟

صرف ایک دیوانہ وار آزادی پسند یہ کہہ سکتا ہے کے انٹرنیٹ پر کوئی حدود نہیں ہونی چاہیئیں. مثلا آج کی دنیا میں بچوں پر تشدّد فروغ دینی والی ویب سائٹوں کو بلاک کرنے کے اقدام کی تقریبا عالمی حمایت ہے. سائبر جرم اب ایک اربوں ڈالروں کا کاروبار ہے جو کے انٹرنیٹ کے کھلے پن کا فائدہ اٹھاتا ہے. دہشتگرد آن لائن بھرتیاں بھی کرتے ہیں.

اسی لئے ہمارا دوسرا ڈرافٹ اصول ساری حدود کو نا ججائز قرار نہیں دیتا، یہ نا جائز حدود کےبارے میں بہت خیال سے بات کرتا ہے. لیکن ہمیں جائز اور نا جائز کے درمیان کدھر لائن کھینچنی چاہیے؟ بہت سے چینی شہری اپنی حکومت کا انٹرنیٹ پر کنٹرول کو ‘عوامی سکون’ کے جواز کے بنا پر ٹھیک سمجھتے ہیں. یہ سطر کون کھیچے گا؟ اور کیسے؟ ہم کس حد تک طاقتور اور منافع پر مبنی کمپنیوں پر اپنے آپ کو ریگولیٹ کرنے کے معاملے میں بھروسہ کر سکتے ہیں؟ ہم کہاں تک انفرادی طور پر خود مختار ریاستوں کے قانونی نظامات پر بھروسہ کر سکتے ہیں؟ بین الاقوامی ایجنسیوں کا اس معاملے میں کیا کردار ہونا چاہیے؟ کیا یہ ٹھیک ہے کہ ڈومین کہ نام ایک کیلفورنیا میں رجسٹر ہوئی ایکان نامی ایک غیر منافع بخش کمپنی دیتی ہے نا کہ ایک بین الحکومتی ادارہ؟ کیا اقوام متحدہ کےانٹرنیٹ حکومتی فورم کا کوئی فائدہ بھی ہے؟ انٹرنیٹ پر آزادی اظہار راۓ کے معاملات پر ایک تفصیلی رپورٹ کے لئے اقوام متحدہ کے کھوسسی رپپورتیر فرانک لا ریو کی رپورٹ ادھر پڑھیے.

ہم انٹرنیٹ کے شہری

ہمارے سارے ڈرافٹ اصولوں کی طرح یہ بھی ‘ہم’ کے لفظ سے شروع ہوتا ہے. اس کا اشارہ اس طرف ہے کے ہم لوگ جو کے اس دنیا اور انٹرنیٹ کے شہری ہیں کچھ ٹھوس اقدام اٹھا سکتے ہیں: ‘ہم دفاع کرتے ہیں…’. لیکن ہم یہ کس طرح کر سکتے ہیں؟ پہلے ہمیں حالت حاضرہ کو سمجھنا ہو گا. اس کے لئے آن لائن کچھ بہترین وسائل موجود ہیں. مثلا آپ ہارورڈ یونیورسٹی کے برکمان سینٹر کی ویب سائٹیں، الیکٹرانک فرونٹیر فاونڈیشن، کھلا نیٹ اقدام،چللنگ ایفیکٹس پراجکٹ اور یورپی اقدام ڈیجیٹل حقوق کی ویبسائٹیں دیکھیں.

پھر ہمیں اس بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے آن لائن یا فون پر آزادی اظہار کی حدود کیا ہونی چاہیئیں. اس میں یہ دیکھنا ہو گا کے دوسرے لوگ کیا سوچتے ہیں، ان معاملات پر ان سے تبادلہ خیال کرنا ہو گا اور یہ اخذ کرنا ہو گا کے ہم کن چیزوں پر مشترک ہیں – اور کن چیزوں پر مخالف ہیں. اس کے لئے یہ ویب سائٹ موجود ہے.

اگر ہمیں کوئی چیز غلط لگتی ہے تو ہم اپنی حکومتیں سے ان قانونوں اور عملیات کو بدلنے کے لئے لابی کر سکتے ہیں. ہم ان معاملات کو ریگولیٹ کرنی والے بین الاقوامی اداروں پر بھی دباؤ ڈالنے کی کوشش کر سکتے ہیں. اس کے لئے بہت سی این جی او ادارے موجود ہیں جو کے ان معاملات کا تجزیہ کرتی ہیں اور حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں دونو کو لابنے کرتی ہیں. ایسے اداروں کی کئی ممالک میں تفصیلی فہرست اور اس میں حالیہ پیشرفت آئ فیکس پر دیکھی جا سکتی ہے.

اتنا ہی ضروری ہمارا نجی طاقتوں پر دباؤ ڈالنا ہے. آخر کار ہم ان کے گاہک ہیں. اگر ہم ان کی سہولیات کا استعمال نا کریں تو ان کا وجود بھی نہ ہو. کبھی کبھی یہ صرف اس بات کا معاملہ ہو سکتا ہے کہ ہم وہ آپشن استعمال کریں جو انہوں نے پہلے ہی ہمیں دے رکھے ہیں – پرفرنسس کی فہرست میں کسی کونے میں. لیکن اس کا مطلب عوامی دباؤ بھی ہو سکتا ہے جس طرح گاہکوں کی طرف سے دباؤ نے گوگل کو بز کے عمل دخل کرنے والوں حصّوں کوبدلنے پر مجبور کر دیا (اور بعد میں اس کو گوگل پلس کے اندر ڈال دیا گیا) اور فیس بک کو اس کا بیکن ہٹانے پر قائل کیا. یا آپ ایک اور سہولت فراہم کرنے والے کو استعمال کر سکتے ہیں اور پرانے کو چھوڑنے کی وجوہات کھلے عام بتا سکتے ہیں.

کچھ ایسی تکنیکی چیزیں ہیں جو ہم خود بھی کر سکتے ہیں. ای ایف ایف کی ویب سائٹ پر اس معاملے میں کچھ اچھی تجاویز ہیں. برکمان سینٹر ایک پراجکٹ پر کام کر رہ ہے ہے جو کہ اس بات کو یقینی بنا سکے گا کہ وہ معلومات جو ہم آن لائن ڈالیں وہ کوئی عوامی یا نجی طاقتیں اس بنا پر ‘غائب’ نہ کر سکیں کے ان کو یہ پسند نہیں. مواصلات کے دوسرے ذریعوں کی طرح انٹرنیٹ پر بھی بری نجی اور حکومتیں طاقتیں کام کرتی ہیں – لیکن کروڑوں کے حساب سے نیٹ کے شہری ایک بہت بڑی طاقت ہیں.

کسی بھی زبان میں تبصرہ کیجئے

کیا آپ اس اصول سے اتفاق کرتے ہیں؟

جی ہاں نہیں


آزادی اظہار راۓ آکسفرڈ یونیورسٹی کا ایک تحقیقی پراجکٹ ہے جو کہ سینٹ اینٹونی کالج کے ڈیرنڈورف پروگرام براۓ مطالعہ آزادی کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے

اوکسفرڈ يونيورسٹی