08رازداری

ہمیں ایسی بنیادوں جیسا کہ قومی تحفظ کے جواز کی وجہ سے معلومات کی آزادی پر لگنے والی پابندیوں کو للکارنے کے لیے مجاز ہونا چاہیے۔

ہمیں آزادی اظہار راۓ پر تمام حدود کو چلینج کرنے کی آزادی ہونی چاہیے. لیکن جو تین چیزیں ہم نے مثال کے طور پر چنی ہیں – قومی سلامتی، عوامی نظم و ضبط اور اخلاقیات – یہ ایسے ہی نہیں چنی گئی ہیں. یہ وہ وجوہات ہیں کو کے حکومتیں، دونوں جمہوری اور غیر جمہوری اقسام کی، آزادی اظہار راۓ پر حدود لگانے کے لئے عام طور پی دیتی ہیں. اسس کے ساتھ ہی یہ وہ تین وجوہات ہیں (‘عوامی صحت’، جو کے بوہت ہی کم استمعال کیا جاتا ہے، اور ‘دوسروں کی عزت اور حقوق’ کے ساتھ، ہمارے اصول ٨ اور ٩ دیکھئے) جو کے بین الاقوامی معاہدہ براۓ سول اور سیاسی حقوق کے دفع ١٩ میں حدود لاگو کرنے کے لئے جائز اور نا جائز جواز قرار دے گے ہیں – جب تک یہ ‘قانون کے ارے اور ضروری ہوں’. لیکن اسس کے احاطہ کون کرے گا کہ ‘ضروری’ کیا ہے؟

وہ حکومتیں بھی جنہوں نے اس معاہدے پر دستخط اور اسس کی توثیق کی ہے (نقشہ دیکھئے) ان میں سے ایک چیز کو ایک لچکدار طریقے سے آزادی اظہار راۓ پر حدود لگانے کے لئے استمعال کرتی ہیں. آمرانہ اور، سیاسی سائنسدانوں کے بقول، ‘ہائبرڈ’ حکومتوں میں (جن میں دونوں آمرانہ اور جمہوری عناصر موجود ہوں) اس کے استمعال کی بےشمار مثالیں موجود ہیں .حکومتی پالیسیوں کی تنقید روکنے کے لئے ان اصولوں کا لچکدار استعمال، اور ان کو چلینج کرنے کے لئے موثر قانونی طریقے نہ ہونا، ایسی ریاستوں کی نشانی ہے. مثلا مصر میں حسنی مبارک کے ہٹنے کے بعد کے بلاگروں کو صرف فوج کی تنقید کرنے پر قید کر دیا گیا.

بغاوت، رازداری، دہشتگردی

جمہوری حکومتوں میں بھی اس کی کے مثالیں ہیں. دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان برطانوی نوآبادیاتی زمانے کے پینل کوڈ کے دفع ١٢٤-اے کے تحت اختلاف روکتا ہے. (اس زمانے میں گاندھی نے اس قانون کو ‘پینل کوڈ کے شہریوں کی آزادی ختم کرنے والے قانونوں کا شہزادہ’ قرار دیا). اس کا استمعال ارندھتی راۓ جیسے ادیبوں اور کارکنان، جو اس بارے میں ادھر بات کرتی ہیں، کے خلاف گیا ہے. ٢٠١١ میں جنوبی افریقہ میں ایک سرکاری رازداری بل لاگو کیا گیا جو کے خفیہ معلومات کو ظاہر کرنے پر ٢٥ برس تک کی ظالمانہ سزا تجقیز کرتا ہے (ہماری کیس سٹڈی ادھر پڑھیے).

ستمبر ٢٠١١ کے دہشتگردی کے واقعات اور پھر مدرڈ اور لندن میں بم دھماکوں کے بعد کئی معروف مغربی جمہوری ریاستوں میں قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے نام پر آزادی اظہار راۓ پر حدود لگائی گئی. امریکا میں یہ ‘دہشتگردی کے خلاف جنگ’ کے خیالات سے متاثر تھا. بےشمار جگہوں اور اوقات پر ‘جنگ’ اور ‘قومی ایمرجینسی’ کو ایسی حدود لگانے کا جواز بنایا گیا ہے جو کے امن کے وقت میں قابل قبول نہیں ہوتی. لیکن اس کا احاطہ کون کرتا ہے کے ‘جنگ’ یا ‘قومی ایمرجینسی’ کیا ہوتا ہے؟ یہ لکھنے کے وقت سوازی لینڈ میں پچھلے ٣٨ سال سے زائد سے ‘قومی ایمرجینسی’ رایج ہے. جب کے مصر میں ١٩٨١ سے ٢٠١١ تک ‘قومی ایمرجینسی’ رہی. ملک کے فوجی حکمرانوں نے ٢٠١٢ کے شروع میں یہ جزوی طور پر ہٹا دیں لیکن پوری طرح نہیں.

اپنی کتاب ‘خطرناک اوقات: جنگ کے وقت میں آزادی اظہار‘ میں امریکی سکالر جیفری سٹون یہ کہتے ہیں کے پہلی ترمیم میں جنگ کے خلاف بولنے کے تحفظات جارج بش کی حکومت میں قائم تھے. لیکن نام نہاد ‘پتریوٹ ایکٹ’ اور دوسرے اقدامات کو مشتبہ دہشتگردوں کو مقدمے کی سماعت اور تفصیلی الیکٹرانک معلومات کو جمع کئے دیر تک نظربند رکھنے کے لئے استمعال کیا گیا.

برطانیہ میں ٢٣ سالہ سمینہ ملک – جو کہ ہیتھرو ہوائی اڈے پر دکان میں اسسٹنٹ ہیں، اور جنہوں نے اپنے آپ کو ایک ‘شاعرانہ دہشتگرد’ قرار دیا اور نفرت آمیز جہادی مواد ڈاؤن لوڈ کیا – کو دہشتگردی کے خلاف قانون کے تحت سزادی گئی. (سزا کو اپیل پر ختم کر دیا گیا) ٢٠٠٦ کی دہشتگردی ایکٹ نے یہ تک تجویز دی کہ دہشتگردی کی تمجید کو جرم بنا دیا جاۓ. ناقدین نے کہا کے اگر شیر ییٹس حیات ہوتے تو وو اسس قانون کے تحت اپنی شاعری کے ذریعے ائر لینڈ کی برطانوی راج کے خلاف ١٩١٦ ایسٹر بغاوت کے لے لیڈران کی تعریف کرنے کے جرم میں پکڑے جاتے – کیوں کے وہ حکومت کی نظر میں دہشتگرد تھے.

عوامی سکون اور اخلاقیات

آزادی اظہار راۓ پر حدود اکثر ‘عوامی سکون’ کے نام پر ڈالی گئی ہیں. جیسے کے ہم نے اس ویب سائٹ میں دوسری جگہوں پی لکھا ہے، برطانیہ میں پبلک آرڈر ایکٹ کی مختلف شقوں کو اظہار راۓ کے ایسے زریعوں کو روکنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے جن کو اجازت ہونی چاہیے تھی. اس اکٹھ کا ١٩٨٦ کا ورثن دھمکی دینا، برا بھلا کہنا یا توہین آمیز الفاظ یا رویّے کو جرم قرار دیتا ہے جو کے ‘ایسے آدمی کی نظر یا سماعت میں کیا جاۓ جو کے ہو سکتا ہے کے اس کو سن کر پریشان ہو جاۓ یا خطرہ محسوس کرے’. صرف ‘ہو سکتا ہے’؛ اس قسم کی پریشانی پیدا کرنے کی نیت کو ثابت کرنا ضروری نہیں. اگر سزا نہیں بھی دی جاتی پولیس اس قانون کو استعمال کر کے گرفتاریاں کرتی ہے یا کرنے کی دھمکیاں دیتی ہے. اور یہ صرف برطانیہ میں ہے، دوسری جگہوں پر ‘عوامی سکون’ کا مطلب وہ کچھ ہو سکتا ہے جو موجودہ حکمران چاہتے ہوں.

اخلاقیات کا، جن کو کبھی کبھار عوامی اخلاقیات بھی کہا جاتا ہے، احاطہ کرنا اور بھی زیادہ مشکل ہے. فحاشی، لباس اور جنسی معاملات کے طور طریقے جگہ اور وقت کے حساب سے بہت مختلف ہوتے ہیں. یہ کسی ایک وقت میں ایک ہی ملک میں بھی مختلف ہو سکتے ہیں. فحش مواد کے معاملے میں امریکی سپریم کورٹ نے اکثر اس بات پہ زور دیا ہے کہ ایک آدمی کو کوئی کوئی چیز ‘اس کمیونٹی کے  معیارات کے مطابق’ ناگوار گزر سکتی ہے. لیکن یہ آگے اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کا دار و مدار اس کمیونٹی پر بھی ہے. وہ چیز جو کے سان فرانسسکو کے کاسٹرو ڈسٹرکٹ میں عام سمجھی جاتی ہے وو آئیووا جیسے چھوٹے اور قدامت پسند مذہبی شہر میں بلکل ناقابل قبول ہو گی. اس وجہ سے کورٹ نے یہ تجویز دی کے انفرادی ریاستیں اس معاملے میں اپنے اپنے فیصلے خود کریں. لیکن انٹرنیٹ ان تمام کمیونٹیوں اور ریاستوں کی روایتی سرحدوں سے بارا ہے. تو پھر فیصلہ کون کرے؟ اور کس بنیاد پر کرے؟

کیا کیا جاۓ؟

اقوامی متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی کا جنرل تبصرہ اس چیز کے علاوہ بوہت عمدہ ہے کے وہ ان مشکل معاملات کے بارے میں بلکل سطحی باتوں کے علاوہ کچھ نہیں کہتا. یہ قومی سلامتی کے بارے میں کافی مخصوص ہے اور ایسے قانونوں کے خلاف خبردار کرتا ہے جو کے ‘عوام تک ایسی اجتماعی مفاد کی معلومات پہنچانے سے روکیں جو کے قومی سلامتی کو نقصان نہ پہنچے یا پھر صحافیوں، تحقیق دانوں، ماحولیاتی کارکنان، انسانی حقوق کے محافظوں یا دوسرو کو ایسی معلومات پھیلانے پر سزا دے’. اجتماعی سکون کے معاملے میں یہ صرف یہ کہتا ہے کہ ‘کچھ حالات میں یہ ہو سکتا ہے کے کسی عوامی جگہ پر تقریر کرنے کو ریگولیٹ کیا جاۓ’. اخلاقیات پر یہ تقریبا جواب دے جاتا ہے. یہ ایک دوسرے جنرل تبصره کا حوالہ دیتا ہے (٢٢ نمبر) جو کے یہ کہتا ہے کے ‘اخلاق کا تصوّر مختلف سماجی، فلسفیانہ اور مذہبی روایت سے نکلتا ہے: نتیجتا، حدود… جو کے اخلاقیات کے تحفّظ کے لئے لاگو کی جائیں ان کو صرف ایک روایت سے نہیں ہونا چاہیے’. لیکن اس کا عملی طور پی کیا مطلب ہوتا ہے؟

ایک طریقہ یہ ہیں کے ان جنرل اصولوں کو زیادہ مخصوص اور تفصیلی بنایا جاۓ. دفع ١٩ کے تحت جمع ہے ماہرین نے اپنی ١٩٩٥ جوہانسبرگ اصول براۓ قومی سلامتی، آزادی اظہار راۓ اور معلومات تک رسائی کے ذریعے یہ ہی کیا. اوپن سوسائٹی فونڈیشن کے جسٹس انیشیٹو کے ذریعے ان اصولوں کو اور بہتر بنانے کی کوششیں ابھی تک جاری ہیں اور یہ عوام کی معلومات تک رسائی کے حق پر خصوصی زور ڈالتی ہیں – جو کے سانڈرا کولور اس سائٹ پہ کہتی ہیں کے ہمارے دس اصولوں میں شامل ہونا چاہیے. اس سب کی سب سے جدید صورت ادھر دیکھی جا سکتی ہے. اس بات کا امکان کم ہی لگتا ہے کے اس سطح کی وضاحت عوامی سکون کے نام پر حدود کے لئے پے جا سکتی ہیں – جب کے اخلاقیات کے لئے یہ تو اور بھی زیادہ مشکل ہے.

ان عالمی، ثقافتی معیارات کو ٹھوس طریقے سے قائم کرنے کی مشکل ہی اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ چلینج کرنے کی آزادی کا اصول بہت ضروری اور واضح ہو. اگر کوئی کسی ملک میں آزادی اظہار راۓ کی حدود کو کم کرنے کے لئے جان بوچ کر قانون توڑتا ہے تو اس شخص کو یہ توقع کرنی چاہیے کے اس کو جرمانہ ادا کرنا پڑے گا یاں سول پینلٹی ہو گی. لیکن کسی کو کبھی بھی – کہیں پر بھی، چاہے جو بھی حالات ہوں – حد لگانے والے قانون کے بنیادی اصول یا اس کے اطلاق کو چلینج پر سزا نہیں ملنی چاہیے.


تبصرے (12)

گوگل کے ترجمے آٹومیٹک مشین ترجمے فراہم نہیں کرتے. ان سے آپ کو کہنے والے کی بات کا لب لباب تو پتا لگ سکتا ہے لیکن یہ آپ کو بات کا بلکل درست ترجمہ بشمول اس کی پیچیدگیوں کے نہیں دے سکتا.ان ترجموں کو پڑھتے وقت آپ یہ بات ضرور ذہن میں رکھیے

  1. The link abowe, in the text "here” ("There’s a useful discussion of what the public interest does mean here”), it doesn’t run.
    Thanks!

  2. Once again we are given the opportunity to read a wonderful, enlightening, thought provoking and educating article; and all the subsequent comments. This subject has been of some interest to me for some time. Please forgive me if my comments seem more than a little incredulous, and perhaps somewhat crazy. I do agree with all that is conveyed within the article. This seems to be an immensely complex subject and I am far form being anything of a writer; with no education, as you have probably gathered by now. We live in changing times, technology is advancing and making it easier to collect information of all types and also to distribute information. All this information technology has multiple uses and can be mixed with other ingredients of generic day to day life to make many byproducts. If we use Facebook we willingly give some personal details out towards strangers and whoever. We also enter a world in which we are well liked and very popular because it is the nature of Facebook to bring us smiling loyal friends and remove any who grumble or disagree with our comments. This does not require any direct action by Facebook staff or anyone else; it’s a natural process. It appears to me there are many aspects of if issue that are completely, or almost unknown to the public; but known to the rare breed of specialists. The poorly educated are helped greatly by modern information technology; but the whole mass of the general public are open to manipulation on a massive scale. If we move form one web site to another and do the same with news outlets we can find on the popular "high hit rate” sites radicalization on a large scale, people with angry opinion but no, or very little knowledge of what their anger is about. I am not very good explaining these things; but I really do believe we must beware. Terrorism and pedophiles are subjects that are genuinely profoundly disturbing; but are we being whipped into hysteria to make us proud to give up our privacy to those with surreptitious agendas. Our TV pumps out lots of propaganda which adds to the mix and sometimes encourages the giving up of more privacy. We also have a problem that all those ‘little guys’ who don’t have any real fire power and capacity to do violence; will be dealt with severely; others , state actors, private contractors and so forth are OK and will get away with anything. Much of the data collecting paraphernalia is owned and used by multiple organisations, business, civil public sector, military, intelligence gathering and so on, one way or another. We sometimes read sensational stories that make "conspiracy theories” of secret Intelligence gathering; when it’s just some day to day mundane operation. The really important issue here is should we be happy for more of our personal information to be stored, and more of our privacy given up. In my limited, but considered opinion definitely not, we cannot trust those in power, if we consider terrorism there are scandals of torture, lies and massive fraud. Look deeper and we find much more of the same going back many years.

  3. First of all, congratulations for the project. It’s quite interesting.

    I agree with most of the comments above. The definition of public interest online is a very shady business, in particular because the perpetual memory of the internet can, in my view, constrain the usual definitions of the concept, mostly because anything can become of public interest at any time. You can go back years and years on end and find anything related to someone who’s suddently under the spotlight and anything that is unrelated, but still damaging comes up again, even if not in the public’s interest.

    There’s a two-fold approach to this, in my view: there’s a need for an education for privacy, in which people are taught how to behave online (and I’m not just referring to social media). We focus a lot on companies privacy policies, but we seldom talk about how the people use the internet, something which, I am sorry to say, the majority seems to know very little about. Then there’s also a need for a regulated approach to privacy, which applies to companies, but also individuals, by which one can enforce not a right to be forgotten, which is technically unfeasible so far, but a right not to be found (see for instance the recent EU Court of Justice referral regarding Google). As Prof. Schoenberg wrote in his book ("Delete”), online abstinence is not a good approach anymore, but neither is online binging, especially involving personal data.

    Finally, I strongly feel that, as difficult as it may be, a limit should be set as to how the internet – and internet-linked technologies – should enter our daily lives. This of course involves a serious reflexion on big data, profiling, data retention and so on and so forth.

  4. Privacy sounds like a nice thing. If I could have a right to privacy without this interfering with free speech, then I’d be tempted. But what are we supposed to do? If I do tell someone an intimate secret, can I really be given a right to force them never to reveal this information? That sounds an awful lot like limiting free speech.

    Attempts to enforce a right to privacy can easily interfere with free speech – and free speech is more important than privacy. It shouldn’t be a question of trying to ‘balance’ a ‘right to privacy’ against ‘the public interest.’ It is not in the public interest to compromise on free speech without an extraordinarily good reason – and preventing people being embarrassed is not an extraordinarily good reason for limiting free speech. Are we really going to argue – without any trace of irony – that, in order to protect free speech, we have to force people to keep quiet about things that might embarrass other people? Very often, this embarrassment results from people being two-faced and deceitful. They want to present one image of themselves to certain people whilst the truth lies elsewhere. Should we compromise free speech in order to protect liars from being discovered?

    I am also concerned to challenge the central argument that privacy is a condition of free speech – as expressed in the top paragraph. Providing we don’t have a police state – which obviously wouldn’t have free speech anyway – the argument about a lack of privacy preventing free speech doesn’t hold water. It is true that, even without a police state, most people will still limit what they say if they think their words will not remain private. That, however, is their choice. They are not being forced to keep quiet. Their right to free speech has not been taken away. They are choosing not to share their views – usually because it doesn’t suit them for certain other people to know the truth about what they think.

    There are legitimate ways in which we can seek to protect our rights to privacy. Mainly, however, these should focus on restricting some of the more intrusive methods that people might use to gain information about us rather than on restricting how they can disseminate information they have obtained legitimately. Limiting free speech in order to protect people’s privacy, however, is another matter.

    We shouldn’t be compromising our free speech principles. When people have concerns about such things as privacy, instead of pandering to any demands they might have that free speech should be limited, we should stand by our principles and argue our case that, however much we might enjoy our privacy, free speech is far, far more important.

    • The problem is not so much that you can’t force someone to reveal your intimate secret, is the fact that it can be revealed potentially to four billion people and that it will stay there forever. You can change jobs, city, country and it will stay there. And this can have horrible consequences. That’s the main issue. The public space changes when it becomes a virtual (online) public space.

      The same goes for the concept of free speech. If you apply self-censorship (which in some cases could just be called "common sense”), then you’re restraining your freedom of speech, because you know that the perpetual and open nature of the internet can have consequences in the future. I’m all for making people responsible for their comments, but I also know that people don’t really understand how the internet works and that often they may make comments for a specific group in a specific situation which can then spilled by others and can become potentially harmful. I’m talking about hate speech as much as political, religious or any other views. I don’t agree with the balance metaphor either, but I do think that these two fundamental rights are equally important.

  5. I couldn’t agree more with the opinion concerning the importance of freedom of speech, but freedom of speech doesn’t mean public interest, at least not anytime. The right of private life, the public interest and freedom of speech are three legal concepts which are interconnected but different, and obviously, should not exclude each other. Moreover any right involves a correlative duty. Freedom of speech is not incompatible with the right to privacy as long as it is used without breaching the other’s rights, as they are ruled by the relevant statutes.

  6. This principle is always going to be a difficult one to juggle. I agree that ‘public interest’ is very vague and could be used to justify either immense amounts of press intrusion or very little depending on where the bar is placed. But as a free speech principle enshrining the right to privacy without some way around it in the statement would seem to be doing the opposite of what much of the project is promoting. A principle of privacy would present a block on freedom of speech rather than an attempt to break down such barriers as most of the other principles do. Indeed I am slightly surprised that the principle was not more radical the other way towards there not being much right to privacy. Principle 8 seems to turn what might otherwise have been quite a radical manifesto for free speech into a much more status quo idea.

  7. The second part of the principle 8 is too vague to be accepted as such, without a precise definition of ‘public interest’. This is the reason why I would maintain only the first part of the principle, namely: ‘we are entitled to our private life’, as one of the fundamental human rights enshrined by the European Convention of Human Rights and the ECHR’s judgments delivered according to this.
    Any infringement of this right should be justified only either on the legal grounds concerning criminal investigations (including those relating to terrorism and more), and/or the public interest relating to public servants’ activities (public activities and private activities which could make these individuals vulnerably as regards their public status).

  8. People shouldn’t be entitled to a private life if it means that they can use their privacy to cause harm to other people. What if someone used their privacy to build a terrorist following?

  9. The public interest is far too fickle to consider encroachment onto privacy tolerable. Allowing it to be cherry-picked allows far too much room for abuse.

  10. I don’t necessarily agree with this statement as we don’t currently have an accurate way of measuring what’s in the public interest. As a result people believe they are interested in the topics which are in the media, but these might not have been the interests they would have formed left to their own devices.

کسی بھی زبان میں تبصرہ کیجئے

کیا آپ اس اصول سے اتفاق کرتے ہیں؟

جی ہاں نہیں


آزادی اظہار راۓ آکسفرڈ یونیورسٹی کا ایک تحقیقی پراجکٹ ہے جو کہ سینٹ اینٹونی کالج کے ڈیرنڈورف پروگرام براۓ مطالعہ آزادی کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے

اوکسفرڈ يونيورسٹی