07آبرو

ہمیں اپنے حقِ پوشیدگی کو محفوظ رکھنا چاہیے اور اپنی شہرت پر لگنے والی تہمت کا مقابلہ کرنا چاہیے لیکن عوامی مفاد میں ہونے والی کوپڑتال کو منع نہیں کرنا چاہیے۔

آبرو، غیرت، وقار؟

بین الاقوامی معاہدہ براۓ شہری و سیاسی حقوق کی دفعہ ١٩ “دوسروں کے حق یا آبرو کے احترام” کو آزادی راۓ پر جائز حد قرار دیتی ہے. دفعہ ١٧ آپ کی “نجی زندگی، خاندان، گھر یا خط و کتابت” میں ناجائز مداخلت اور آپ کی “غیرت اور آبرو” پر ناجائز حملوں پر پابندی لگاتی ہے.

پوشیدگی ( نجی زندگی) کی طرح، آبرو بھی ایک مشکل تصّورہے. اس کی تعریف، نجی زندگی کی طرح، دور بہ دور جگہ بہ جگہ بدلتی رہی ہے. کیا یہ آپ کی ظاہری شکل ہے جسے کمپنیاں “برینڈ” کہتی ہیں؟ کیا یہ – جیسے دفعہ ١٧  میں ہے – غیرت کے قدیم تصّور کے قریب ہے؟ لیکن تاریخی طور پر غیرت صرف معاشرے کے چند اعلیٰ درجے کے افراد، جیسے کے امراء، کی خاصیت سمجھی جاتی ہے. یا اس کا تعلق ہر انسان کے ذاتی، نا قبل انتقال، مساوی وقار سے ہے؟

ایک بار پھر، امریکہ اور یورپ کے بر اعظم میں کافی فرق ہے. جیسا کہ قانونی عالم جیمز ق ویٹمان نے دعوہ کیا ہےکہ آبرو سے متعلق جدید فرانسیسی اور جرمن روایات قرون وسطیٰ کے تصّورِغیرت سے آغاز کرتی ہیں (جو کہ چند لوگوں پر مختص تھا) اور اسے تمام پر رائج کرتی ہیں. چنانچہ وہ یہ کہتی ہیں کہ “اب آپ سب امراء ہیں!” اس کے برعکس امریکی روایات کہتی ہیں “کوئی بھی یہاں پر امراء میں شامل نہیں”. یورپ سب کو اونچائی میں برابری کراتا ہے، جب کہ امریکہ سب کو نیچا کر کے برابر کرتا ہے. اور یہ صرف روایتی مغرب کا قصہ ہے. چین، عرب دنیا، روس اور انڈونیژیا میں “آبرو” سے کیا مراد ہے؟ ہمیں یہاں پر بتائیے.

انٹرنیٹ اور “بہتان کی سیاحت”

انٹرنیٹ کے دور نے اس موضوع کو دو طرح سے بدلہ ہے. ایک طرف، توہین ایک وبائی مرض سے تیزپوری دنیا میں پھیل سکتی ہے اور اس پر قابو پانا بہت مشکل ہوتا ہے. دوسری طرف، کیونکہ یہ بظاھر بہتانی تحریر اور تصّور کو ایک سے سے زاید ممالک میں حاصل کیا جا سکتا ہے، امیر اور طاقتور لوگ دوسرے ممالک کے قانون توہین کو استعمال کرتے ہوے تنقید کو دبا سکتے ہیں، جس کو “بہتان کی سیاحت” کہا جاتا ہے. آج کی اس جڑی ہوئی دنیا میں کوئی بھی جو لکھتا، تصویر بناتا یا شایع کرتا ہے، جسے انٹرنیٹ کے ذریعے حاصل کیا جا  سکے، وہ یہ خطرہ مول لیتا ہے کہ اس پر کسی اور ملک میں بہتان کا مقدمہ دائر کیا جائے. (اس وجہ سے ہم نے اپنے کمیونٹی کے معیار پر ایک انتباہی نوٹ لگایا ہے جو کہتا ہے “کیونکہ یہ ویب سائٹ اصولی طور پر تمام دنیا میں دیکھی جا سکتی ہے، آپکو آگاہ ہونا چاہیے کہ آپ پر بھی دوسرے ملکوں میں مقدمہ ہو سکتا ہے”.

چنانچہ، مثال کے طور پر، روسی تجارت کاروں بورس برزووسکی اور نکولائی گلوچکوو نے امریکی رسالے فوربز پر برطانوی عدالتوں میں ایک مضمون کی وجہ سے — جس میں ان پر غنڈہ گردی اور کرپشن کے الزام لگاے گۓ تھے — مقدمہ کیا. (فوربز نے امریکہ میں تقریباً آٹھ لاکھ جلدیں بیچی تھیں، جب کہ برطانیہ میں صرف ٦٠٠٠ انٹرنیٹ پر اور کتابی شکل میں شایع ہوئی تھیں). سعودی تجارت کار شیخ خالد بن محفوظ نے برطانیہ کے بہتان کے قانون کو استعمال کرتے ہوۓ امریکی صحافی ریچل ایہرنفیلڈ پراس بناہ پر مقدمہ کیا کہ ان کی کتاب ‘شر کی سرمایہ کاری: دہشت گردی کی سرمایہ کاری کیسے کی جا رہی ہے اور اسے کیسے روکا جاۓ’ میں ان پر الزام لگایا گیا تھاکہ انہوں نے دہشت گردوں کی مالی امداد کی. اس کتاب کی صرف ٢٣ جلدیں ، انٹرنیٹ کے ذریعے برطانوی پتوں پر بھیجی گئی تھیں.

اس کے جواب میں ریاست نیو یارک کی اسمبلی نے قانون پاس کیا جس کو “ریچل کا قانون” کہا جانے لگا، جس کا رسمی نام دہشت گردی کے خلاف بہتان کے بچاؤ کا ایکٹ تھا. اس نے غیر ملکی بہتان سے متعلق فیصلوں کو ریاست نیو یارک میں نا قابلِ نافذ قرار دیا اگر یہ غیر ملکی قانون ملزم کو امریکی پہلی ترمیم کے برابر حقوق نہ دے. ٢٠١٠ میں صدر بارک اوباما نے اس کے وفاقی متبادل کو قانون بنایا جس کو تقریر کا قانون (اسپیچ ایکٹ) کہا جاتا ہے.

قانونِ توہین کا خاکہ؟

قانون توہین مختلف ممالک میں مختلف شکل اختیار کرتا ہے. ہم یہاں پر نسبتی قانون کا جامع العلوم نہیں پیش کر سکتے لیکن ہم ان قوانین کے مطابق ،جو اپنی تشکیل و تفصیل میں مختلف ہوں گے، یہ سوال کر سکتے ہیں کہ کن قواعد اور بنیادی اصولوں سے ان کو اخذ کرنا چاہیۓ. بین الاقوامی کمیٹی براۓ انسانی حقوق کی  دفعہ ١٩ کیمستند تشریح ایسا کرنے کی کوشش کرتی ہے. یہ تشریح اصرار کرتی ہے کہ توہین  کے قوانین اظہار راۓ دبانے کے لئے استعمال نہ ہو سکیں، اس کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اگر کوئی تحریر سچی ہو، یا ایک ایمان دار راۓ بلا عداوت شایع کی جائے، اور/ یا اگر یہ اشاعت عوام کی بھلائی کے لئے ہو تو لوگوں پر کبھی توہین کا مقدمہ نہیں ہونا چاہیے.

آج کل انگلینڈ کے قانون توہین میں ترمیم کی جا رہی ہے- جس کے ساتھ ہماری بحث براۓ آزادئ راۓ چل رہی ہے- کچھ حد تک یہ اس بہتان کی سیاحت کی تنقید کا جواب ہے جس کے پیش نظر “ریچل کا قانون” امریکہ میں بنایا گیا. اظہار خیال کے تجربہ کار وکیل انتھونی لیسٹر کے سرخیل کام کے نتیجے میں برطانوی حکومت نے ٢٠١١ میں بہتان کے قانون کا مسودہ پیش کیا اور لوگوں کو تبصرے کی دعوت دی. یہ بل بین الاقوامی کمیٹی براۓ انسانی حقوق کی تشریح کی طرح واضح طور پر چند بنیادی اصول پیش کرتا ہے. کوئی شایع کردہ تحریر یا تصویر بہتان نہیں ہو سکتی اگر وہ متعلقہ فرد کو “کافی نقصان” نہ پہنچاۓ. بہتان کے دعوے کے خلاف دفاع میں مندرجہ ذیل شامل ہونے چاہیے: “عوامی بھلائی کے معاملات میں ذمہ دار اشاعت”، سچائی (تحریر”کافی حد تک سچ” ہونی چاہیے)، اور “ایماندار راۓ” (عوامی بھلائی کے معاملے میں ایماندار راۓ کی تحریر).

آزادئ راۓ اور اچھی حکومت کے رشتے پر غور کرتے ہوے– جسے ہم نی تیسرے اصول میں بیان کیا تھا– یہ بل  تجویز پیش کرتا ہے کہ ایک خاص آزادئ راۓ کا “استحقاق” جو ویسٹمنسٹر کی پارلیمان کو ١٦٨٨ بل براۓ حقوق میں بخشا گیا تھا اس کی توسیع کر کے “دنیا کی کسی بھی قانون ساز جماعت یا حکومت”، “دنیا میں کہیں بھی حکومتی فرائض انجام دینے والا ادارہ”، اور “بین الاقوامی جماعت یا کانفرنس” کے تمام ایسے دستاویز شامل کیے جائیں جو “عوام کی معلومات کے لیے” ہوں.

ایک اہم نقطہ ہے کہ اس قانون نے “ایک مرتبہ اشاعت کا اصول” متعارف کرایا ہے، تاکہ بار بار مقدمہ نہ کیا جا سکے جب بھی دنیا میں دوبارہ اشاعت کی جاۓ. ہمارے وقت اشاعت یہ غیر واضح ہے کہ یہ قانون انٹرنیٹ کے دور کے اہم سوال سے کس طرح نمٹے گا: بیچوانوں (یا ثالث) کی کیا ذمہ داری ہو گی، یعنی انٹرنیٹ مہیا کرنے والوں سے لے کر اس طرح کی ویب سائٹ جو کہ صارفین کا تیار کردہ مواد شایع کرتی ہیں؟ ہم اس بحث پر نظر رکھیں گے- اس لئے نہیں کہ انگلینڈ منفرد طور پر اہم ہے- بلکے اس لئے کہ یہ جو سوال اٹھاتی ہے وہ ہر جگہ کے لئے اہم ہیں.

آپ اپنی آبرو کا دفاع کس طرح کر سکتے ہیں؟

قانون صرف نصف کہانی ہے. ہمارے اصول کا مسودہ یہ نہیں کہتا کہ “ہم سب کو توہین کا مقابلہ کرنے کے لئے مقدمہ کرنے کی آزادی ہونی چاہیے”. بلکہ یہ کہتا ہے کہ “ہمیں اجازت ہونی چاہیے کہ ہم اپنی توہین کا مقابلہ کر سکیں” جو ایک بالکل مختلف بات ہے. بحث براۓ آزادئ راۓ کے ساتھ ایک انٹرویو میں میکس موزلی توہین اور نجی زندگی میں مداخلت کے متعلق ایک اہم تفریق کرتے ہیں –ان کا خود اس مسلے میں ڈرامائی حد تک ذاتی تجربہ ہوا ہے جب ان پر نیوز آف دی ورلڈ نے صفحہ اول پر الزام لگایا کہ انہوں نے “پانچ ویشیاؤں کے ساتھ گندا نازی ناچ ” کیا- وہ کہتے ہیں کہ نجی زندگی میں مداخلت کو تصحیح شایع کر کے ٹھیک کیا جا سکتا ہے، لیکن توہین کو نہیں. جیسا کہ وہ افسوس کے ساتھ کہتے ہیں، انھیں اس سے کوئی فائدہ نہ ہوتا اگر نیوز آف دی ورلڈ صفحہ اول پر اگلے روز یہ شایع کرتا کہ دراصل یہ ننگا ناچ خلوت میں کیا گیا تھا.

اس کے برعکس، کی گئی توہین کا اکثر واقعے کے بعد ایک بر وقت تصحیح یا جواب کے ساتھ  ازالہ کیا جا سکتا ہے. ‘پراجیکٹ براۓ متبادل بہتان’ کی تحقیق کے مطابق (جو انگلش پی ای این اورانڈیکس آن سینسرشپ  کی فرمائش پر ہوا تھا) زیادہ تر لوگ جن کی توہین کی جاتی ہے ان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ انہیں انصاف ملے: وہ سزا کی بجاے معافی یا تنسیخ کے خواہشمند ہوتے ہیں. ٩٦% مقدموں میں ثالث کے ذریعے دونوں فریقوں میںاطمینان بخش نتائج سامنے آتے ہیں.

جرمنی- جو کہ انسانی وقار کی وقعت کو اپنے آئین میں بالاتر رکھتا ہے- وہ اپنے ملک کے میڈیا سے جواب دہی کا قانونی حق نافذ کرتا ہے ان لوگوں کے لئے جنہیں لگتا ہے کہ ان کی عزت پر داغ لگایا گیا ہے- اسے برابر طول اور برابر اہمیت کے ساتھ شایع کیا جاتا ہے. ہماری ٹیم کا ایک جرمن رکن اس کی تفصیل یہاں بیان کرتا ہے اور یہ تجویز پیش کرتا ہے کہ دیگر ممالک بھی جرمنی کے نقشِ قدم پر چلیں.

لیکن اکیسویں صدی کی آزادانہ بلا سرحد انٹرنیٹ کی دنیا کا کیا بنے گا؟ آپ کیا کر سکتے ہیں اگر آپ کو لگے کہ وہاں آپکی عزت کی دھجیاں اڑائ جا رہی ہیں؟ مقدمہ کریں؟ مقدمہ کس پر کریں؟ کہاں کریں؟ جواب دہی کے حق کا مطالبہ کریں؟ کہاں؟ کیسے؟ ادھر بہترین جوابات قانونی ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی، صحافیانہ اور تکنیکی ہوں گے. سیلیکون ویلی میں مقیم ایک ادارہ آپکی آنلائن عزت “اور اس میں شامل نجی ڈیٹا” جس میں گوگل جیسے سرچ اینجن پر آنے والے نتائج بھی شامل ہیں اس پر “قابو” پانے میں آپکی مدد کر سکتا ہے.

ظاہر ہے وہ فیس لیتے ہیں. (ایک مفت متعارفانہ سہولت ہے جسے آپ آزما سکتے ہیں لیکن میرے لئے یہ مفید ثابت نہیں ہوئی). اور یہ ایک مسلہ ہے. عدالتوں اور قانونی مقدموں کی طرح، آپکی عزت کو آنلائن برقرار رکھنے میں آپ پر لاگت آۓ گی. تو پھر امیروں کے پاس غریبوں سے اور طاقتور کے پاس کمزور سے زیادہ موثر ذرائع ہوں گے.

اپنی عزت کے حقیقی اور جائز دفاع اور آنلائن چکر دینا، پروپوگینڈا اور مکمل بگاڑ کے بیچ کا فرق بہت کم ہے. یہ ادارہ“آپ یا آپ کے بزنس” سے مزید وعدہ کرتے ہیں کہ “آپکے سرچ کے نتائج میں اوپر پیش ہونے والے منفی مواد کو ہمارے ماہر مشیر آپ کے ساتھ مل کر نیچے کریں یا دبائیں گے”. لیکن اگر یہ “منفی مواد” سچ ہوتو پھر کیا ہو گا ؟

کسی بھی زبان میں تبصرہ کیجئے

کیا آپ اس اصول سے اتفاق کرتے ہیں؟

جی ہاں نہیں


آزادی اظہار راۓ آکسفرڈ یونیورسٹی کا ایک تحقیقی پراجکٹ ہے جو کہ سینٹ اینٹونی کالج کے ڈیرنڈورف پروگرام براۓ مطالعہ آزادی کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے

اوکسفرڈ يونيورسٹی