03علم

ہم ممنوع چیزوں کی اجازت نہیں دیتے اور علم کے پھیلاؤ کے ہر موقع کو پکڑتے ہیں

تاحال ممنوعات سے بھری دنیا

یہ کہنا کہ علمی بحث ومباحثے اور اس کے فروغ میں کسی قسم کی ممانعت کا دخل نہیں ہونا چاہیے، شاید ظاہر سی بات لگے. لیکن پھر بھی ہر  دور میں عوام اور خواص قوتوں نے ایسی بندشیں لگانے کی بارہا کوششیں کیں، اور اب بھی کرتی ہیں. ان پابندیوں میں سے چند سب سے زیادہ درپا وہ ہیں جو مذاہب پر مبنی سچائی کے دعووں کو اس سچائی سے بالاتر رکھتی ہیں جو سائنسی تحقیق میں مفروضے کے مخالف دلائل پیش کرکے حاصل کی گئی ہوں. تاریخ کی شاید مشہور ترین مثال وہ ہے جب رومن کتھولک چرچ نے اطالوی سائنسدان گلیلیو گلیلی کو مجبور کیا کہ وہ اپنے اس دعوے کی تردید کرے کہ زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے.

ہمارے اپنے دور میں ایک برطانوی امام اسامہ حسن کو موت کی دھمکیاں دی گئیں کیونکے انہوں نے اپنی مسجد میں یہ دعوه کیا کہ اسلام اور نظریہ ارتقا ہم آہنگ ہیں. ان کے مخالفین میں سے ایک نے طعنہ کسا کہ آپ کو بھری مسجد میں “ارتقا” نہی چللانا چاہیے (یہ طعنہ قانوندان اولیورونڈل ہومز کی مشہور کہاوت کہ، آپ کو تماشائیوں بھری جلوہ گاہ میں “آگ آگ” نہی چللانا چاہیے، سے اخذ کیا گیا تھا). مسلم دنیا کے بیشتر حصّوں میں آج بھی ءنظریۂ ارتقا کو نہیں پڑھایا جاتا. اس کی قطعی ممانعت ہے (اصول ٧ کو دیکھئے).(

کمپنیوں کی ملی بھگت اورپیشہ وار جماعتیں بھی ایسی تحقیقات کو روکتی ہیں جو انھیں تحدید آمیز لگتی ہیں. دواؤں  کی کمپنیاں سائنسی تجربات کے ایسے ثبوت کو دباتی اور نظر انداز کرتی ہیں جو ان کے حق میں نہ ہوں چاہے انہوں نے ان میں بھاری سرمایہ کاری کی ہو. برطانوی انجمن برائے کایروپریکٹک نے برطانوی سائنسی مصنف سائمن سنگھ کے خلاف مقدمہ دائر کیا یہ کہنے پر کہ وہ “جعلی علاج” کو فروغ دیتے ہیں جو “کسی بھی حقائق پر مبنی نہیں”.  بہتان کا قانون ٹھوس سائنسی بحث کو روکنے کے لئے استعمال کیا گیا (اصول ٩ کو دیکھئے).

بہت سے ممالک بھی ممنوعات کا ارتکاب کرتے ہیں. ان کا تعلق کبھی اپنے شہریوں کی نجّی زندگی (اصول ٨دیکھئے) یا سرکاری رازوں کی پاسداری سے ہوتا ہے جن کا جواز ملکی سلامتی جیسی بنیاد کو ٹھہرایا جاتا ہے (اصول ١٠ – ابھی آنا ہے). اس سلسلے میں، بعض پابندیوں کے لیے ایک اصولی دلیل کو قبول کیا جا سکتا ہے. مسلہ حدود کی مقرّری میں تجاوز کا ہے. تاہم، اکثر ان ممنوعات کا تعلق تاریخ کے اہم واقعات اور شخصیات سے جڑا ہوتا ہے. ایسے میں ان کا کوئی جواز نہی بنتا.

ماضی پر بندش

سب سے بری مثالیں وہ ملتی ہیں جن میں مطلق العنان ریاستوں نی منظّم طور تاریخ کے ان ابواب کا انکار کیا یا غلط بیانی سے کام لیا جو ان کے لئے نظریاتی یا قومی سطح پرشرمناک ثابت ہوۓ. کئی دہائیوں تک سوویت اتحاد نے ١٩٣٩ کے خلاف جارحیت معاہدے کی خفیہ رسومات (پروٹوکول) کا انکار کیا؛ جن کی بنا پر پولینڈ کا سوویت اتحاد اور نازی جرمنی کے درمیان بٹوارہ ہوا. (مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک معروف سوویت مؤرخ نے میرے سامنے اس کا انکار کیا). کئی دہائیوں تک انہوں نے یہ بھی دعوه کیا کے وہ پولینڈ کے افسران جنہیں سوویت سیکورٹی اہلکاروں نے کتین میں ١٩٤٠ میں قتل کیا تھا وہ دراصل نازیوں نے ١٩٤١ میں ہلاک کیے تھے. اس کے خلاف بولنے پر لوگوں کو قید کردیا جاتا تھا: یعنی کہ سچ بولنے پر.

آج چین مے آپ ١٩٨٠ میں تیانامین سکویر میں جو ہوا تھا اس پر کھل کر تبصرہ یا معلومات فراہم نہی کر سکتے. اگر آپ چین میں بیدو سرچ انجن پر “تیانامین قتل عام” کو تلاش کریں تو آپ کو یہ پیغام ملتا ہے: “تلاش کے نتائج کو ظاہر نہی کیا جا سکتا کیونکہ وہ مطلقہ قوانین، قواعد وضوابط سے ہم آہنگ نہیں ہیں”. اسلامی جمہوریہ ایران میں آپ ریاست کے بانی آیت الله خومینی کے متعلق تنقیدی سوانح عمری شایع نہیں کرسکتے.

ایسے اقدامات صرف مطلق العنان اور آمرانہ حکومتوں تک محدود نہی ہیں. ترکی میں صحافیوں پر مقدمہ چلایا جاتا ہے اگر وہ ملک کے بنی کمال اتاترک کے بارے میں تنقیدی دعوےکریں. بھارتی ریاست گجرات میں گاندھی کے مطلق ایک قابل التفات سوانح عمری پر اس لئے پابندی لگا دی کہ اس نے مبینہ طور پر تجویز پیش کی کہ وہ دوزوجیہ ہو سکتے تھے (ایسا دعوه  جس سے مصنف خود منکر ہے).

مرگ انبوہ ( ہولوکاسٹ) سے انکار

یورپ کی چند سب سے آزاد خیال قانون کا احترام کرنے والی جمہوریتوں میں تاریخی بحث پر قانونی طور پر پابندیاں عائد ہیں. ادھر آپ کو اس کا انکار کرنے پر جیل ہو سکتی ہے کہ نازیوں نے لاکھوں یورپی یہودیوں کو دوسری جنگ عظیم میں قتل کیا تھا، اس قتل عام کو اب عموماً مرگ انبوہ (یا انگریزی زبان میں ہولوکاسٹ) کہا جاتا ہے. مرگ انبوہ کا انکار کرنے پر پابندی سب سے پہلے جرمنی اور آسٹریا میں ١٩٤٥ کے فوراً بعد عائد کی گئی تھی. یہ ایسا وقت تھا جب نازی احیاء کے بارے میں سنگین ڈر تھا. آج کم از کم ١٠ یورپی ممالک میں مرگ انبوہ سے انکار کو کسی نا کسی طرح جرم قرار دیا گیا ہے.

میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مرگ انبوہ کی یاد بہت اہم ہے. میں تو یہاں تک کہوں گا کہ یہ میرے لئے مقدّس ہے. اس لفظ کے غیر مذہبی معنوں میں. میرے لئے، نا صرف ہم نے ١٩٤٥ سے یورپ میں جو کیا ہے بلکہ ایک بینالاقوامی آزاد نظام کی تشکیل کے وسیع منصوبے کا مقصد، بنیادی طور پر، یہ یقینی بنانا ہے کہ اس جیسا واقعہ پھر کبھی رونما نا ہو پاۓ. لیکن لوگوں پر اس سے انکار پر قانوناً پابندی لگانا سراسر غلط طریقہ ہے.

ایسے بھاری شواہد موجود ہیں جو اس دعوے کو غلط ثابت کرتے ہیں کہ یورپ کے یہودیوں کا قتل عام نہیں ہوا. اگر کوئی ان تمام شواہد پریقین نہیں رکھتا تو وہ صرف اس لئے قائل نہیں ہو گا کہ ایک قانون اس کا مطالبہ کرتا ہے. زیادہ سے زیادہ وہ کھل کر کہنے سے ڈریں گے، جو وہ اکیلے میں سوچتے ہیں. جب ٢٠٠٦ میں آسٹریا  نے مؤرخ ڈیوڈ ارِونگ کو مرگ انبوہ سے انکار کرنے پر قید کیا تو یہ محض جواز بنا کہ وہ اپنے آپ کو آزادی راۓ کا پیکر ظاہر کرے.

ممنوعات کی پیشروی اور دوہرے معیار

نفرت آمیز تقاریر کی باقی اقسام کی طرح، ادھر بھی مستقل پیشروی ہوتی ہے. دوسرے گروہ کہتے ہیں کے “اگر ان کی شہادت کو ایک مقدّس ممانعت کا درجہ حاصل ہو جائے، تو پھر ہمیں بھی ہونا چاہیے”. یورپ میں یہ ہی ہوا ہے.

١٩٩٥ میں عثمانیہ تاریخ کے ماہر برنارڈ لیوس پر ایک فرانسیسی عدالت نے اس دعوے کی بنیاد پر مقدمہ کیا کے عثمانیہ خلافت کے آخری سالوں میں ارمینیوں پر جو بھیانک مظالم ڈھاۓ گئے انھیں بینالاقوامی قانون کی تعریف کے مطابق “نسل کشی” نہیں کہا جا سکتا. ٢٠٠٧ میں ایک ترک سیاستدان اور صحافی کو سویتزرلینڈ میں قید ہویجہاں قانون یہ پابندی عائد کرتا ہے کہ اس بات کا انکار کیا جائے کہ آرمنیوں کے ساتھ جو ہوا وہ نسل کشی تھی. دوسری طرف، ترکی میں نوبیل انعام یافتہ مصنف ارحان پاموک پر مقدمہ دائر کیا گیا ایک سویس رسالے میں یہ تجویز کرنے پر کے آرمینیوں کے ساتھ جو ہوا وہ نسل کشی تھی. جو الپس کے پہاڑوں میں ریاستی سچ ہے وہ اناطولیہ میں ریاستی جھوٹ ہے.

جب ایک نیک نیت جرمن وزیر قانون نے یورپی اتحاد کے دائرہ کار فیصلے کے ذریعے تمام رکن ممالک کو پابند کیا کہ وہ ایسے تاریخی مظالم کو جرم قرار دیں تو انھیں مشرقی یورپ کے ممالک کی تجویز کا سامنا کرنا پڑا کہ کمیونسٹ مطلق العنان مظالم کو بھی جرم قرار دیا جائے. ہنگری کی پارلیمان نے ٢٠١٠ میں قانونی طور پر مرگ انبوہ سے انکار کو جرم قرار دیا. اس سال کے آخر میں اس پارلیمان کی ایک نئی اکثریت نے قانون کی تشکیل کو تبدیل کردیا کہ “انھیں سزا ملنی چاہیے جو قومی، اشتراکی اور کمیونسٹ نظام کے تحت کی گئی نسل کشی کا انکار کرتے ہیں”. اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے.

ایک الزام دوہرے معیار کا بھی ہے. چند مسلمان کہتے ہیں “جو آپ – یورپی، عیسائی، روشن آزاد خیال – کے لئے مقدّس ہے اسکی قانوناً پاسداری کرتے ہیں، لیکن اس پر بضد ہیں کہ جو ہمارے لئے سب سے مقدّس ہے، یعنی حضرت محمّد کی یاد اور تصوّر، ہم مسلمان اس کی اجازت دیں کہ اس کو طنز و مزاح اور زیادتی کا نشانہ بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کی دفعہ ١٩ کی مستند تشریح اس نظریے کی حمایت کرتی ہے، جو کہ صاف الفاظ میں کہتی ہے کہ “وہ قوانین جو تاریخی حقائق کے مطلق اظہار راۓ کو جرم قرار دیتے ہیں، ان زمداریوں سے ہم اہنگ نہیں جو بین الاقوامی معاہدہ برائےشہری وسیاسی حقوق ممالک پر عائد کرتا ہے.

کوئی ممنوعات نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ “سب چلتا ہے”

اس تمام گفتگو کا قطعی یہ مقصد نہیں کہ تاریخ یا علم کی کسی بھی شاخ کے مطلق جھوٹ کو تسلیم کیا جائے. بلکہ، آزاد اور کھلی بحث کے ذریعے ان کا بھرپور مقابلہ کرنا چاہیے. ایک صدی تک مطلق العنان ریاستوں کے جھوٹ کے تجربے کے بعد ہم شاید وہ عظیم خوش امیدی نہیں رکھتے جس کا اظہار سترویں صدی کے انگریز شاعرجان ملٹن نے اپنے نغمۂ حق میں کیا تھا: “اسے باطل کے مدِّ مقابل ہونے دو، آزاد اور کھلے مقابلے میں کس نے حق کو گھاٹے میں پایا؟”. لیکن جھوٹ کا مقابلہ کرنے کا اس سے بہتر طریقہ ابھی تک نہی ملا.

ہم نہ ہی  یہ تجویز کر رہے ہیں کے جھوٹے دعووں کو ریاستی منظور شدہ مدرسوں میں پڑھایا جائے. یہ اصول نہ ہی اس کی حمایت کرتا ہے کہ خلقیات کو عوامی اسکولوں میں پڑھایا جائے اور نا ہی یہ کہ جاپانی درسی کتابیں دوسری جنگ عظیم میں جاپانی افواج کی پیشوائی کا غیر دیانتدار بیان پیش کریں. انفرادی میڈیا کو  تفریق کرنی چاہئیے کہ وہ کونسی معلومات کو بڑے پیمانے پر شائع  کرتے ہیں. ایک ٹھوس حوالہ پیش کیا جا سکتا ہے کے بم بنانے یا خدکشی کرنے کے طریقوں کو صفحہ اول پر نہیں شائع کرنا چاہیے. (گوگل کا سرچ انجن ان سے متعلق خود بخود تجاویز کو بدل کر پیش کرتا ہے). یہ مدیرانہ انتخاب ہیں جو نجی طاقتوں نی کئے ہیں.

ایک کٹھن اصول

اس مسودے کے الفاظ اصولی طور پر محتاط انداز میں ہیں جو صرف یہ کہتے ہیں کہ کوئی ممانعت نہیں ہونی چائیے – یعنی کوئی قطعی ممانعت، جس کا نفاذ ایک زور آور طاقت کرے، اور جس کا کوئی بدل عام طور پر نا ملے. اس کا ایک پہلا مسودہ یہ کہتا تھا کہ علم کے “حصول” میں کوئی ممانعت نہیں ہونی چاہیے. لیکن ہمارے چند ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ دراصل تحقیق میں ایسی ممانعت پائی جاتی ہیں. اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ تہذیب کا انحصار ان پر ہے. مثال کے طور پر، ہم جیتے انسانوں پر کئی قسم کے تجربے نہیں کرتے، جن کا ظالمانہ ارتکاب نازیوں نے کیا تھا. تو اس لئے ہم نے اس کو بدل کر “علم کی بحث اور پھیلاؤ” کر دیا.

اس طرح کے محتاط الفاظ کے استعمال کے باوجود پانچواں اصول کٹھن ہے. تفریق کے ساتھ رہنے کی طرح، علم کی کھلی بحث اور پھیلاؤ کے ساتھ رہنا بھی مشکل ہے.

ایک چھوٹی مثال آپ کے غور و فکر کے لئے حاضر ہے. ٢٠٠٥ میں دنیا کی عظیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک کے صدر ہوتے ہوۓ، لیری سمرز نے ایک علمی کانفرنس میں ان وجوہات کا اظھار کیا جن کی بنا پر سائنس اور انجنئیرنگ کی اعلیٰ تدریجی عہدوں پر مردوں کے مقابلے میں کم خواتین فائز ہیں. انہوں نے متواتر کہا کہ انکے مفروضے غلط ثابت ہو سکتے ہیں. نزاع کا ایک طوفان برپا ہوا جس کے نتیجے میں وہ ہارورڈ کی صدارت سے مستعفی ہو گئی. بیشک اس کہانی میں اس کانفرنس کی تقریر کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے لیکن اگر صرف اس کو پڑھا جاۓجو لیری سمرز نے کہا تو یہ بالکل ویسے دلائل پر مبنی علم سے متعلق آزاد، کشادہ ذہن اور بےباک بحث ہے جس کے نتیجے میں کسی کو استعفیٰ دینے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے. اس کو دیکھیے اور ہمیں بتائیےکہ آپ کیا سوچتے ہیں.

” بحث براۓ آزادی راۓ ” میں دیگر تمام چیزوں کی طرح اس اصول کا مسودہ بھی برعکس ثبوت، برخلاف دلائل اور نظر ثانی کا حامل ہے. اگر ایسا نا ہو تو یہ خود کا اختلاف کرے گا.


تبصرے (14)

گوگل کے ترجمے آٹومیٹک مشین ترجمے فراہم نہیں کرتے. ان سے آپ کو کہنے والے کی بات کا لب لباب تو پتا لگ سکتا ہے لیکن یہ آپ کو بات کا بلکل درست ترجمہ بشمول اس کی پیچیدگیوں کے نہیں دے سکتا.ان ترجموں کو پڑھتے وقت آپ یہ بات ضرور ذہن میں رکھیے

  1. "We require and create open, diverse media so we can make well-informed decisions and participate fully in political life.”
    Reading threw the explanation and the discussion sparked by it, I have several considerations.
    Firstly, we could consider if the right of free speech should entail a right to mislead or not. Should I be free to try and convince others with arguments that I know are bias or false? If not, should the right of free speech go hand in hand with the duty to inform oneself about the topic and the arguments being used? (Do keep in mind, that this would limit free speech to people with specific intellectual capabilities, an academic background and time.)
    Secondly, we should consider if ‘the media’ have different duties and rights then the individual? Just as confidentiality is inherently a part of professions in the law or medical sector, should the search and presentation of non-bias, objective facts (if there is such a thing) be a part of journalism? If so, where do we draw the line between an individual and a ‘member of the media’?
    Thirdly, what are the rights and duties of people receiving information? Who is responsible for filtering out bias information, the media or the people that choose to use that medium? Does this go hand in hand with a right of education and a right to learn how to think critically? As mentioned earlier, some people in China don’t see the benefit of free media, have their rights been violated? To what extent would we be pushing a ‘western’ education on different cultures?

  2. I particularly like number 3, because, despite the huge variety of corporate media organizations, they often follow a very particular kind of narrative which defeats the whole purpose of diversity.

  3. We require and create open, diverse media so we can make well-informed decisions and participate fully in political life.
    Similar to acellidiaz I agree with the statement that I feel like this hasn’t been phrased correctly. This would be the ideal situation, yet unfortunately there is a difference in the ideal and the realistic.

    The recent election of Francois Hollande in France; The "Président Normale”, however in my opinion he’s "Président irréaliste” was a clear sign of society not making a well informed decision eventhough information was widely available. I am of the opinion that the vote was more an anti-Sarkozy vote, rather then a vote based on a political agenda. Policies attempting to make France the only country in the EU to decrease its pension age and where on earth are you going to get 60000 ‘good ‘teachers from to help substandard schools are simply unrealistic and only takes common sense to realize that this will not be obtainable without causing further problems.

    I don’t think we will ever be able to make well informed decisions as a whole society. Simply as educational boundaries exist and interest levels with politics vary. This is an ideal that we can strive to achieve but will never be exactly the case.

  4. I, personally agree with the principle, however after a semester in China I came across a view where people do not find it necessary to have the right o participate in political life. Moreover, they believe that free media is harmful for their reality. I wonder what could said in response to that?

    • Yes I agree with this. In China people are not subjected to the same degree of freedom of media or democracy and as a result the general public do not feel the necessity of it. However, China has limited certain restraints such as allowing more people to use the internet. Of course, the information is highly censored but even still there are approximately 500 million people online and this is the first generation to experience this extent of social freedom; there exists a freedom of expression that you don’t get in other forms of media. This leads to higher expectations and even exposes corruption, putting a lot of pressure on the government. Moreover, it forces me to raise the question: is it harmful or not? Will it ruin or benefit the state of China?

      • Also even though the public may not believe in free media to the fullest extent it is crucial to mention this point: in my opinion it is not so much the government people are dissatisfied with, rather the corruption and the inability to actually reach vital information. Moreover, the more China develops, the more these problems will surface and the government will be forced to deal with them. There is hence a paradox: people may not feel the necessity of complete freedom, yet they want a system without corruption and without censorship. Is this possible?

  5. We require and create open, diverse media so we can make well-informed decisions and participate fully in political life.
    I personally do not disagree with the essence of this principle but with the way how it has been stated. I could be able to stand against a principle that in execution will be ideal for the development of a representative democracy. It is within a democratic context how I understood it.
    Nevertheless, I have my doubts in how we are actually able to create new diverse media and how we are able to "fully” participate in political life. When creating new diverse media, I believe it is important to take into account the eminent relationship that exists between power and knowledge. Although we live in a highly complex and globalized world, in which billions of persons are interconnected through different kinds of media, I am very sceptic in the power that independent media has. And with this term I refer to all type of media that is not predominant: social networks, blogs, and home-made videos, among others. Some people may say that great and recent movements of change, such as the Arab Spring, emerged thanks to the immediateness and spread-capacity of social networks like Twitter or Facebook. However, the final international image of the revolutions, the words that mostly ignited global debate about what was going on in the Middle East, was lastly framed by big TV Networks such as Al-Jazeera, BBC and CNN. These three mainstream media giants, with their own independent interests, certainly chose what images and what comments to broadcast. Together with others, they constitute some kind of oligopoly when we talk about accessing to information about what is going on in the world. It is very hard for me to completely trust in their intentions of delivering the Truth –if there’s actually one.
    I believe that there is actually little possibility for an independent or rising media network to win a space in the media scene. Taking an example of my home country, Venezuela, where there is a clear polarisation of the media, the chances for a more “plural”, “balanced” or “impartial” media network for winning the attention of the public are minimal. For instance, I can compare the success of two relatively new websites. The first one is called redigital.tv and was founded by the family of a former independent candidate for Mayor of Caracas, the capital. The second one is lapatilla.com which was founded by the former director of now the biggest TV channels that opposes to the current government, Globovision. Both were founded around 2008 and 2010. Today, lapatilla.com counts with one million followers in Twitter: a figure that cannot be compared to the amount of followers of redigital.tv. When speaking to my friends, lapatilla.com belongs already to the common word: everybody reads their sometimes vain and superficial articles about sex, celebrities or astrology, together with the usual portion of politics. This is different from redigital.tv, that not only does not count with the same amount of attention –for not a lot of people know about it-, but it still lacks clients for advertisement in their website. Obviously, the founder of lapatilla.com, Alberto Federico Ravell, counts with a wider range of contacts in the business because of its former role in Globovision. At the end, the media works like the market. Only the top dogs survive.
    Regarding the last part of the principle and possibility for citizens to make well-informed decisions and fully participate in political life; I find it difficult to not relate it with the principles that define a democracy. For what do we mean by “full” participation in political life? Is the principle referring to a direct democracy, where active citizens that dedicate their lives to comprehend the characteristics of their society or nation in order to give a strongly based argument or vote? Or does it refer to a representative democracy, where the citizen, among many of his lifetime activities, dedicates a portion of his time to think about politics and about the best way to live together in society? When I read the principle, I understood it under the principles of a direct democracy. Which in modern times, when we have states of millions of people, I believe it is impossible.
    But if it actually referred to the second interpretation, how is it possible to “fully” participate in political life if this is not the priority of all the citizens? What are the limits that contain the meaning of this adverb? Is it “fully participating” just watching the news and vote for a representative that takes care of making political decisions? If this is the case, then yes. I would agree. Otherwise, I believe the principle needs clarification. I would put it this way:
    “We require and attempt to create open, diverse media so we can make well-informed decisions and participate as much as it is possible in political life”

کسی بھی زبان میں تبصرہ کیجئے

کیا آپ اس اصول سے اتفاق کرتے ہیں؟

جی ہاں نہیں


آزادی اظہار راۓ آکسفرڈ یونیورسٹی کا ایک تحقیقی پراجکٹ ہے جو کہ سینٹ اینٹونی کالج کے ڈیرنڈورف پروگرام براۓ مطالعہ آزادی کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے

اوکسفرڈ يونيورسٹی