02تشدد

ہم نہ تشدد کی دھمکیاں دیتے ہیں اور نہ ہی پر تشدد ڈراوے کوقبول کرتے ہیں

حد کا تعیّن کدھر کیا جاۓ؟

بین الاقوامی تحت بارے سول اور سیاسی حقوق کے دفع ٢٠ میں یہ لکھا ہے کے ریاست کو ان چیزوں پی پابندی لگانی چاہیے جیسے کے ‘کوئی بھی ایسا فعل جو کے قومی، نسلی یا مذہبی نفرت بڑھے اور کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک، دشمنی یا تشدّد کی طرف اکساے’. اس میں تشریح کی بہت زیادہ گنجائش ہے. امریکا میں اشتعال انگیز فعل کی حد کو کافی اونچا رکھا گیا ہے. اس کو ‘برانڈنبرگ ٹیسٹ’ کہا جاتا ہے (سپریم کورٹ کے برانڈنبرگ بمقابلہ اوہایو کیس کے مطابق) اور اس کے مطابق تشدّد کی نیت ہونی چاہیے اور اس تشدّد کا بہت زیادہ امکان ہونا چاہیے. دوسری پرانی، لبرل جمہوری ریاستیں اس حد کو اور بھی نیچا رکھتی ہے اور ایسی باتیں جو دشمنی یا نفرت کی طرف اکسائیں ان کے ساتھ ساتھ تشدّد کی عام دھمکیوں کو بھی جرم قرار دیتی ہیں.

آزادی اظہار راۓ تعلّق رکھنے والی ہر چیز کی طرح بہت ساری چیزوں کا انحصار لہجے اور سیاق و سباق پر ہے. انگریز لبرل مفکر جان سٹورٹ مل نے مشور طور پہ کہا تھا کہ ہمیں یہ بات کرنے کی آزادی ہونی چاہیے کہ مکئی کے سوداگر غریبوں کو چوکا رکھتے ہیں لیکن ہمیں یہی پیغام اس وقت دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جب ایک اشتعال زدہ ہجوم مکئی کے سوداگر کے گھر کے باہر جمع ہو. (آج کے دور میں ہم اس کو انویسٹمنٹ بینکر کہ سکتے ہیں). جب برطانیہ کے گارڈین اخبار پڑھنے والے پہلے صفحے پر یہ سرخی پڑھتے ہیں کہ “چارلی بروکر: سائمن کاول کو پھانسی دو اور کرویسانٹ بانٹ دو’” تو وہ اس کو قتل کی طرف اکسانے کے طور پر نہیں لیتے.  ان کو پتا ہے کے یہ ایک لطیفہ ہے. لیکن جب لیبیا کے آمر معمر قذافی نے یہ دھمکی دی کے وو بنغازی کی ‘گلی سے گلی’ میں جا کر کسی کو ‘کوئی رحم’ نہای دکھاۓ گا، سب کو پتا تھا کہ یہ مذاق نہیں ہے.

تشدّد کی طرف اکسانے کا ایک شدید کیس روانڈا کے ریڈیو ٹی وی لائبریری کے مل کولینی کا ہے جس نے ہوٹو کے قاتلانہ گروہ کو بار بار یہ کہ کر اکسایا کے ایک ‘آخری جنگ’ کی جاۓ جوس میں ‘کاکروچوں کو ختم کر دیا جاۓ’ اور آٹھ لاکھ ٹوٹسی (اور متوسط ہوٹو) مرواۓ تھے. اگر آپ امریکہ کی پہلی ترمیم سے اتفاق کرتے ہیں، کے لوگوں کو ایک دوسرے کو ‘کاکروچ’ کہنے کی آزادی ہونی چاہیے (پی ٤ دیکھئے)، اس معاملے میں آپ کا فیصلہ یہ ہی ہوگا کے اس کو روکنا چاہیے تھا. تشدّد کی نیت بھی موجود تھی اور امکان بھی زیادہ تھا.

سیاق و سباق کا یہ بھی مطلب ہے کے کیا آپ کے پاس وو آزاد اور متنوع میڈیا ہے جس کے بارے میں ہم نے تیسرے اصول میں بات کی تھی؟ اشتعال انگیز، نفرت بھڑکانے والی باتوں کا مقابلہ باقی با اثر میڈیا میں بہتر اور زیادہ باتوں سے کیا جا سکتا ہے. سربیا پر سلوبدان ملوسویچ کے دور میں سفّاکانہ اقدامات کے اپر ایک مبسسر نے کہا ‘یہ تصوّر کیجئے کے جیسے امریکا میں تمام اہم چینلوں پہ کو کلکس کلان کا پھچلے سال تک قبضہ ہو گیا ہو’. سوسن بینش ایک پانچ حصّوں پر مشتمل ٹیسٹ تیّر کر رہی ہیں جس سے یہ متعین کیا جا سکتا ہے کے نفرت آمیز گفتگو کب ‘خطرناک گفتگو’ بن جاتی ہے، یانی کے ایسی گفتگو جس نتیجے میں تشدّد ہونے کا امکان ہو.

اتفاق سے ہم ادھر صرف ایک فرد یا گروہ کی طرف سے تشدّد کی بات کر رہے ہیں لیکن ریاست نہیں. اگرچہ معاہدے کا دفع ٢٠ یہ صاف صاف کہتا ہے کے ‘جنگ کے لئے کسی بھی قسم کا پروپگنڈہ قانون کے تحت ممنوع ہو گا’، بہت تھوڑے ملکوں میں ایسے قانون موجود ہیں جو کے ان کے لیڈران کو جنگ کا کیس بنانے اور پھیلانے سے روکتے ہیں (اگرچہ کچھ میں ایسے اصول موجود ہیں کہ وو یہ کرنے کے لئے کیا لائحہ عمل اختیار کریں).

ہتھیارے کے ویٹو کے خلاف

دوسرے اصولوں کی طرح اس اصول کا بھی مقصد یہ نہیں کے بلکل باریکی سے بتایا جاۓ کہ قانون کس چیز پہ پابندی لگاۓ اور کس چیز پہ نہیں. ہم اپنی رہنمائی کے لئے یہ اصول استعمال کرتے ہیں. اس کے دو حصّے ہیں: ١. ہم تشدّد کی دھمکیاں نہیں دیتے؛ ٢. ہم تشدّد اور دھمکیوں کو نہ مانتے ہیں، نہ ان سے جھکتے ہیں. یہ دونو ایک ہی سکّے کے دو رخ ہیں. اگر آپ تشدّد کی ایک دھمکی کے سامنے جھک جائیں، تو آپ دوسری کو حوصلہ افزائی دیتے ہیں . گروہ-بے، جو کے اس پر جنوں کی حد تک یقین رکھتا ہے کہ ‘وائی’ کو دکھانا یا کہنا نہیں چاہیے، اپنے آپ سے کہے گا ‘کیوں کے گروہ-اے نے ‘ایکس’ کو تشدّد کی دھمکی دے کر روک دیا تو ہمیں بھی یہی کرنا چاہیے’.

آزادی اظہار راۓ پہ موجود ادب میں اب یہ پرانے زمانے کے ہتھیارے کے ووٹ کی بات ہے. اگر کچھ لوگوں کو ایک بیٹھک میں بہت زور سے اور اور دیر تک شور مچانے کی اجازت دے دی جاۓ تو وہ سپیکر کو اس کے بولنے کے حق سے محروم کر دیتے ہیں. آج کل ہم اس ہتھیارے کے ویٹو کا اکثر سامنا کرتے ہیں. کوئی بھی فرد یا گروہ یہ سادہ سا پیغام بھیج دیتا ہے: ‘اگر تم نے یہ بولا تو ہم تمہے مار دیں گے’. کبھی کبھی یہ اپنے وعدے پر پورا اترتے ہیں. دنیا بھر میں سینکڑوں مرد اور عورتیں صرف کچھ کہے دینے کی وجہ سے قتل کئے جا چکے ہیں – مافیا کے بارے میں لکھنے والے، مذہب یا کسی کسی حکومت پر طنز یا تنقید کرنے والے، باغی، کارٹونسٹ، پبلشر، ناول نگار، اور تحقیقی صحافی. کئی سارے اور لوگ ہیں جو کے مختلف قسم کے ہتھیاروں کے خوف میں زندہ رہتے ہیں.

دھمکیاں دینا اور مصالحت

اس اصول کے دونوں حصّوں کی برابر اہمیت ہے. ہم پر جتنی ذمداری تشدّد کی دھمکی کا مقابلہ کرنے کی ہے اتنی ہی خود یہ کرنے سے گریز کرنے پر بھی ہے. اس سلسلے میں پچھلے کچھ سالوں کے دوران کئی نام نہاد آزاد ممالک کی بہت خراب کارکردگی ہےیہ بار ہا تشدّد کی واضح اور غیر واضح دھمکیوں کے سامنے جھکتے رہے ہیں – کبھی مذہب کی ‘عزت’ کے نام پر (اصول ٧ دیکھئے)، کبھی ‘کمیونٹیوں میں ہم آہنگی’، کبھی عام نظم و ضبط’ اور ‘ملٹی کلچرلسم’ کے نام پر – نا کے قانون کی پوری قوت اور ایک متحد سماج کا عزم لے ان کا بھرپور مقابلہ کیا جاۓ.

میرے امریکی پبلشر ییل یونیورسٹی پریس نےکچھ عرصہ قبل غلط مصالحت کی ایک اچھی مصال پیش کی. ییل کے پروفیسر جائت کلاوسن کا حضرت محمّد پی بناۓ گے دانش کارٹونوں کے بارے میں ایک انتہائی سنجیدی علمی کام چھپنے والا تھا جس کا نام ‘دی کارٹونس دیت شک دی ورلڈ’ (‘وو کارٹون جنہوں نے دنیا کو ہلا دیا’) تھا. اس سلسلے میں خاکوں کا ایک پلندہ تیار کیا گیا جس میں وو پورا صفحہ شامل تھا جو کے دانش اخبار جیلّنڈس-پوسٹن میں کارٹونوں سمیت چھاپا تھا، تاکے آپ ان کارٹونوں کو ان کے اصل سیاق و سباق میں دیکھ سکیں اور، تاریخی پسمنظر کے پیش نظر رکھنے کے لئے، با سمیت حضرت محمّد کی مغربی اور اسلامی فنون میں پرانی اکاسیاں شامل تھیں. پبلیکشن سے کچھ عرصہ قبل ہی ییل یونیورسٹی اور پریس نے ان خاکوں کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا. اس کے نتیجے میں پڑھنے والے ایک ایسی کتاب جس کا نام ‘وو کارٹون جنھوں نے دنیا کو ہلا دیا’ ہے اس میں جو چیز موجود نہیں وو وہی کارٹون ہیں جنہوں نے دنیا کو ہلا دیا!

اپنے بیان میں پبلشر نے ‘انٹلیجنس، قومی سلامتی، قانون ساز ادارے اور سفارتی حلقوں کے ماہرین، اور اسلام اور مشرق وسطیٰ پر ممتاز ماہرین’ کا حوالہ دیتے ہونے کہا کہ کارٹونوں کو واپس شائع کرنے سے پریس ‘تشددو اکسانے کا کافی خطرہ مول رہی ہے’. ییل یونیورسٹی پریس کے ڈائریکٹر جان ڈونٹیخ نے کہا کے وو تنازعہ سے دور نہیں ہٹتے لیکن ‘جب اس میں اور میرے ہاتھوں پر کسی کے خون کے درمیان انتخاب کرنا ہو تو کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا’.

یہ بحث صرف غیر واضح ہی نہیں بلکے بلکل الٹی ہے. ییل یونیورسٹی پریس تشدّد کو نہیں ‘اکسا’ رہے، بلکے تشدّد اکسا وو لوگ رہے ہوتے جو کے اس بلکل مناسب فعل کے جواب میں تشدّد کی دھمکی دیتے. کسی تشدّد کی صورت میں ‘ہاتھوں پر خون’ ڈونتیخ کے نہیں بلکے تشدّد کرنے والے کے ہوتا. نا انصافی کا شکار اس کا مرتکب نہیں ہوتا. اگر ایک عظیم یونیورسٹی کی پریس ایک علمی کام ایسی چیز نہیں چھاپ سکتی تو پھر تشدّد کی بنا پر دھمکانا کامیاب ہو جاتا ہے. دنیا کی سب سے آزاد ممالک میں اس طرح میڈیا، فنون اور مقامی کمیونٹیوں میں ساری ایسی مثالیں ہیں.

١٨٨٢ میں ایک برطانوی کیس اس الجھن پر روشنی ڈالتا ہے. سلوشن فوج کے ایک گروہ کو پولیس نے ایک ایسی مارچ کرنے پر گرفتار کر لیا جو کے پچھلے کئی موقوں پر ایک ایک مخالف گروہ کے ہاتھوں، جن کا نام سکیلٹن فوج تھا، تشدّد کا نشانہ بنا تھا. عدالت نے یہ فیصلہ دیا کے پولیس سکیلٹن فوج کو، جو کے پر تشدّد دھمکیاں دے رہے تھے، گرفتار چاہیے تھا نا کے تشدّد کے شکار سلوشن فوج کو. یہ فیصلہ ہمارے وقت کے ہر برے اعظم پر کیا جا سکتا ہے: اپنی سکیلٹن فوج کو روکئے، سلوشن فوجوں کو نہیں!

جرّت اور یکجہتی

تشدّد آمیز دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے قانون کی پوری قوت درکار ہوتی ہے. یہ پولیس سے خطرے میں موجود لوگوں کی حفاظت کا تقاضہ کرتی ہے نا کے وہ ان کو چپ رہنے کا بولیں. اس کے لئے ان غیر معمولی افراد کی جرات بھی درکار ہوتی ہے جو آزادی اظہار راۓ کے لئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور کبھی کبھی ان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھتے ہیں: جیسے کے روسی صحافی انا پولیٹکووسکایا، پنجاب کے گوورنر سلمان تاثیر، ترک-ارمینی صحافی حیرانت ڈنک اور برازیلی ماحولیاتی کارکن چیکو مینڈس. ہم سارے ناموں کی فہرست تو نہیں شروع کر سکتے لیکن بارے مہربانی ادھر اور نام ضرور شامل کیجئے، یہ وضاحت کے ساتھ آپ کو سوچتے ہیں کے ان کو اس عزت مآب فہرست پر کیوں ہونا چاہیے.

لیکن یہ بہادر لوگ یہ کام اکیلے نہیں کر سکتے، جس طرح ریاست کام اکیلے نہیں کر سکتی. ایک تیسرا ضروری جز معاشرے اور کومیونٹیوں کی یکجہتی ہے. جتنے زیادہ لوگ دھمکیوں کا بوجھ بانٹیں گے بوجھ اتنا کم ہو گا. جب سعودی ارب میں ایک آدمی خالد الجوہانی اکیلا اپنے دل کی بات کہنے کے لئے کھڑا ہوا تو اس کو جیل بھیج دیا گیا. لیکن جب قاہرہ کے تحریر چوک پر پانچ لاکھ لوگ ایک ساتھ کھڑے ہونے تو تشدّد کے محرک حسنی مبارک کو معزولہونا پڑا.

اس قسم کی یکجہتی کے لئے یہ ضرورت نہیں ہے کے آپ بولنے والے کے تمام خیالات سے متفق ہوں. کیوں کے اختلاف کرنے والوںکی راۓ اکثر مضبوط اور ایک دوسرے سے متصادم ہوتی ہیں، ان سب سے اتفاق کرنا ناممکن ہے. مثال کے طور پر آپ دو عظیم سوویت یونین کے مخالفین الکزانڈر سولزھنتسن اور آندڑے سقھاروو کے روس کے مستقبل پی دے گے لائحہ عمل سے اتفاق نہیں کر سکتے کیوں کے ان کے ایک دوسرے سے بنیادی اختلاف تھی؛ لیکن آپ پھر بھی دونو کے ساتھ برابر یکجہتی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں. والٹیر سے وابستہ ایک مشہور فقرہ ہے کہ ‘میں بات سے اتفاق نہیں کرتا، لیکن میں اپنی موت تک تمھارے یہ بات کہنے کے حق کا دفع کروں گا’. والٹیر نے اصل میں یہ کبھی نہیں کہا تھا – یہ بات بیوسی صدی میں اس کے ایک سنواح نگار نے کہی تھی – لیکن اس کے اس مشہور فقرے کی روح بلکل درست ہے. اور آج کل کے دور میں ہمیں ان اقدار کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے.

اگرچہ مختلف معاملات اور سیاق و سباق میں تشریح کی گنجائش ہوتی ہے، یہ ہمارے سب سے سادے اصولوں میں سے ایک ہے. اور یہ عمل کرنے کے معاملے میں بھی سب سے مشکل اصولوں میں سے ہے. اس پر عمل کرنے سے آپ قتل ہو سکتے ہیں.


تبصرے (10)

گوگل کے ترجمے آٹومیٹک مشین ترجمے فراہم نہیں کرتے. ان سے آپ کو کہنے والے کی بات کا لب لباب تو پتا لگ سکتا ہے لیکن یہ آپ کو بات کا بلکل درست ترجمہ بشمول اس کی پیچیدگیوں کے نہیں دے سکتا.ان ترجموں کو پڑھتے وقت آپ یہ بات ضرور ذہن میں رکھیے

  1. Hello All,
    I don’t know a great deal about all this and I’m sort of rushing through with a speed read and a quick reply. I think there are different varieties of violence, and sometimes a mixture of those varieties. I am of the strong belief that some people are inherently more violent than others, for medical reasons. Their childhood can be a big part of things. What I would call social leisure violence, such as football hooliganism, is a particular type that has spread out with the advance of media technology. War is another type of violence which is state organised, which tends to be re labeled and glorified as much as possible. Where government are involved, there many fine speeches made and many new words for violence used. Guantánamo Bay for example was an act of pure highly organised violence and false information that inhibited free speech. This together with the tenure of President Trump has set new values; or the lack of them. The global population has always been about the have and have not. Technology has taken us a long way, but greed and violence will increase across the world. Drugs and alcohol are certainly a major factor in the Streets of the UK where I live and no doubt across much of the world.

  2. “Many states, mainly for political reasons, and companies, mainly for commercial ones, have already eroded the original dream.”
    When dreaming, we are prepared to accept the most preposterous and nonsensical of ‘experiences’ as reality. Possibly because, until we wake, there is nothing against which to compare the encounter occurring inside an hermetically sealed enclosure. Similarly the interweb has, at the very minimum, proffered an alternate. One that although not necessarily without error, might at least indicate when it is being interfered with. Since where contrast should be found, there will only be uniformity of opinion.

    “If you find a site is blocked”
    it is a sure and certain sign that an ‘understanding’ is being artificially protected and maintained. Because unlike self supporting truth, it cannot stand up to even elementary enquiry? Such as: Please share with the rest of us, that infallible procedure you utilised to confirm your elected ideology’s validity. That we might embrace that evaluation peacefully, without the need for duress.

    “they may imprison people for exchanging information or speaking their minds.”
    Given that their ‘comprehension’ constitutes a perfect representation of reality. Surely allowing others to test it, and thus affirm that actuality, would be the ideal means for disseminating it around the planet. Anything else would be an open admission of doubt, or downright certainty concerning its lack of legitimacy.

    “Western democratic governments denounce these practices.”
    Yet refuse to submit their own ideologies to intimate examination? Which may explain, why those they are in conflict with cannot see a reason they should offer their notions up for objective evaluation either.

    “Google itself has enormous potential power to limit or distort free speech.”
    But also an Achilles’ heel, in the form of a vulnerability to mass boycott?

    “we can lobby our governments to change their laws”
    Some say that if voting had any effect it would be prevented. Might they be drawing that conclusion from examples such as ‘EU referendums’?

    What we appear to be attempting, is analogous to collectively assembling a jigsaw puzzle. Which might prove easier, were we to first identify and agree on the scene we are jointly endeavouring to recreate.

  3. The internet is an amazing innovation with no precedent and any limitations upon it would be a shame. To limit it slightly would be to set in action a cascade of fetters that would shatter everything the Internet could have been.

  4. If we think of what the idea of the internet was in the beginning, the vastest storage of information shared among the whole world, of course it is normal to assume that it would become a vastest opportunity for innumerate crimes. But the basic idea, the true meaning of the whole invention is so valuable and must be absolutely preserved.
    Between the concept of abuse and freedom of speech there’s sometimes a very thin line, but it is always more important to say it all than to oppress ideas.
    Liberty that has been given to some of the big, like Google, and their "privacy respect” is always questionable, like it happened these days in GB, with admitting that Google car has been collecting (and selling) more info than actually needed for "filming the streets”.
    Any clerk with access to information, can always be willing to sell them for a good offer (remember the Swiss bank account holders’ information scandal…). It is just something that can not be stopped. But it must be fought and punished.
    We all deserve to see/read/hear everything that might (or even that might not) interest us, and judge ourselves upon it. Let’s try to keep it that way.

  5. I share the importance of preventing the abuse of the content , however like in the comment above the dilemma of what should be considered as an abuse and who should define it is a big deal. And I think there is division in term of the priorities around that world. In the developed countries where there is a reasonable freedom of speech the abuse from the private side is more of an issue than in those countries where there is a constant state repression of the freedom of expression online. Moreover, this type of control does not guarantee protection of the other forms of abuse like child pornography. Thus I believe we the netizens should aim for liberating the online space to allow as much freedom of opinion expression as possible, even if it is at the cost of the abuse.

    • I agree with you that we have to consider different countries and their cultures. It is very hard to generalise the principles, because it may be that some parts of the world have a completely different view than other parts. So it is quite a challenge to agree on ten principles globally and it is also interesting. I also agree that we have to try to have media which are as open as possible, but I disagree with you that it is even at the cost of the abuse. We have to differentiate between the freedom of speech and abuse. Therefore we have to define principles globally in order to be able decide globally whether this "speech” is accetable or an abuse.

      Ich stimme Dir zu, dass wir verschiedene Länder und deren Kulturen berücksichtigen müssen. Es ist sehr schwer, die Prinzipien zu verallgemeinern, weil es sein kann, dass einige Teile der Welt eine ganz andere Meinung als andere Teile haben. So ist es durchaus eine Herausforderung, auf zehn Prinzipien global zustimmen und es ist auch interessant. Ich stimme auch zu, dass wir versuchen, die Medien so offen wie möglich halten müssen, aber ich stimme Dir nicht zu, dass es auch um den Preis des Missbrauchs ist. Wir müssen zwischen der Freiheit der Rede und Missbrauch unterscheiden. Deshalb müssen wir Prinzipien global definieren, um in der Lage zu sein zu entscheiden, ob diese global "Rede” annehmbare oder ein Missbrauch ist.

  6. The question of legitimacy is indeed very tricky.
    Public powers should indeed have the power to ‘legitimately’ restrict certain information. Taking an extremely libertarian approach claiming that all information should be ‘free’ is far from the pragmatic reality.
    I would even argue that as the question of legitimacy is such a delicate question that it is virtually impossible to define it in a general principle. When using a phrase like ‘for the greater good of the public’ to define the legitimacy of restricted information, executive powers might however be prone to exploit this principle.

  7. In Italy, two days ago, a lawyer denounced the President of the Republic, the Head of Government, all Ministers and all the Members for:

    – Attack on the integrity, independence and unity of the State;
    – Subversive associations;
    – Attack on the Constitution of the State;
    – Usurpation of political power;
    – Attack on the constitutional bodies;
    – Attack on the political rights of citizens;
    – Political conspiracy by agreement;
    – Political conspiracy by association;

    but … only one independent newspaper broke the news!
    Must be spoken.

  8. I’m here to tell the denied freedom of the press in Italy. This is a real problem.
    The censorship has reached unbearable levels! After the Treaty of Lisbon and the approval of the ACTA treaty, by the European Union, the only resource we have left to procure a real informaizoni is the net…but it also wants to censor the web!
    The project began long ago and came to the public through the bills SOPA and PIPA at the U.S. Congress. In Italy two politicians have already tried to censor the web through the fight pro-copyright.
    It’s necessary that we speak.

    I await the debate, thank you

    Bobo

  9. A quick glance through raises a couple of issues for WJR …

    This explanation appears a particularly net-centric view for a principle that includes "all other forms of communication” ?

    And, why the overly complicated language regarding corruption – "illegitimate encroachments” – why not just corruption. In seeking to define, a principle should not be limited by complexity.

کسی بھی زبان میں تبصرہ کیجئے

کیا آپ اس اصول سے اتفاق کرتے ہیں؟

جی ہاں نہیں


آزادی اظہار راۓ آکسفرڈ یونیورسٹی کا ایک تحقیقی پراجکٹ ہے جو کہ سینٹ اینٹونی کالج کے ڈیرنڈورف پروگرام براۓ مطالعہ آزادی کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے

اوکسفرڈ يونيورسٹی