کیا سلمان رشدی کا کوئی وجود ہے؟

تاریخدان فیصل دیوجی لکھتے ہیں ‘جیپور تنازعہ میں یہ صاف ظاہر تھا کہ یہ آزادی اظہار راۓ پر کوئی مذہبی حملہ نہیں’.

حال میں منعقد ہوئے جیپور ادبی میلے میں سلمان رشدی کی عدم موجودگی کو دقیانوسی طور پر آزادی اظہار راۓ کو خطرے کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے. وہ جارحانہ مسلمان جنہوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا اور وہ ہندوستانی حکام جنہوں نے ان کی حمایت بلکل قابل مذمت ہیں. لیکن آزادی اظہار کے پرانے بیانیے کے پیچھے اس تنازعہ کا سیاسی پہلو میرے خیال میں نا تو رشدی سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی کچھ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے مجروح ہونے سے. اس کے برعکس اس معروف مصنف کو ایک قسم کا بل بورڈ بنا دیا گیا ہے جس سے کسی بھی قسم کی وجوہات کو منسوب کیا جا سکتا ہے. اور یہ ہی وہ پہلوات ہیں جن کی وجہ سے کچھ لوگوں کے لئے ‘سلمان رشدی’ ہندوستان میں آزادی اظہار راۓ کے کچلنے کے خلاف ایک علامت دکھتا ہے جب کہ کچھ لوگ اس کو دھمکیاں دے کر اپنے مختلف ایجنڈوں کو آگے بڑھاتے ہیں. اس طرح دیکھا جے تو سلمان رشدی، جن کی ادبی ساکھ سٹینک ورسس کے بعد سے زوال میں ہے، ایک مصنف نہیں بلکے اپنے ہی کسی خیالی کردار جیسے کہ گبریل فرشتہ یا ماہوند کی طرح بن کر رہ گیا ہے. جیپور تنازعہ میں جو ایک چیز بلکل بھی ضروری نہیں تھی وہ آزادی اظہار راۓ پر کوئی مذہبی حملہ تھا.

ظاہر سی بات ہے کے رشدی کے کئی حامیوں نے ان پر لگاۓ گئے الزامات میں موقع پرستی کے رجحان کا اعتراف کیا ہے کیوں کے یہ واقعہ اتر پردیش میں ریاستی انتخاب کے قریب ہی پیش آیا جب مختلف سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کے ووٹوں کے لئے ایک دوسرے سے لڑ رہی تھیں. یہ ہی وجہ ہے کہ رشدی کی اس میلے پر ٢٠٠٧ میں سابقہ موجودگی اور ان کے ہندوستان میں وقتاً فوقتاً دوروں پر کوئی بھی انگلی نہیں اٹھاتا تھا. لیکن آزادی اظہار راۓ کے پیچھے بدلتی ہوئی سیاست، وقت اور جگہہ کے عوامل پر زیادہ غور کرنے کے بجاۓ اس کے حمایتیوں نے اس کو مذہبی انتہاپسندی اور اس کی ماش میں مداخلت کا ایک دقیانوسی معاملہ بنا دیا. یہ کرنے میں ان افراد نے بھی اپنے دھسمنوں ہی کی طرح کی ‘ملائیت’ کا مظاہرہ کیا. کسی نے بھی اپنے دشمنوں کی پرزور مذمت کے دوران اپنے بیانیے پر شک کرنے یا اس پر مخالفین کی تنقید تک سننے کی زحمت نہیں کی. رشدی خود بھی اس سلسلے میں آگے آگے دکھائی دئے جب انہوں نے ہندوستانی صحافی برکھا دت کو ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے مشہور قوم پرست جامعہ دیوبند کے سیکرٹری جنرل، جنہوں نے ان کی جیپور میں آمد کی مخالفت کی تھی، پر طالبان کی نموداری کا غلط طور پر ذمہ دار ٹھہرا دیا.

رشدی کے حمایتی کہتے ہیں کہ آزادی اظہار راۓ کے خلاف دھمکیوں کا برداشت ہندوستان میں ١٩٨٨ سے بدلہ نہیں ہیں جب ان کی کتاب سیٹینک ورسس پر پابندی لگائی گئی تھی. اور یہ ہی برداشت آج مسلم ووٹ حاصل کرنے کے لئے استمعال کیا جا رہا ہے. یہ تاریخ کے بلکل خلاف ہے. ایک ایسا بیانیہ جس میں سب کچھ امر ہے ہندوستانی معاشرے میں ان تبدیلیوں کو نظرانداز کر دیتا ہے جو کہ پچھلی دو دھائیوں میں رونما ہوئی ہیں. اور اسی لئے وہ ان سیاسی حالات کو بھی سمجھنے سے قاصر ہیں جو آج ان کے تنازعات کے پیچھے ہیں. ‘ووٹ بینک’ کو قابو کرنے کے برعکس اتر پرادیش میں آج مسلم آبادی کی نمائیندگی کی سیاست ہندوستان کی تاریخ بے مثل ہے. ہندوستان کی وسیع اور زیادہ تر غریب و پسماندہ مسلم آبادی آج بغیر کسی مؤثر قیادت کے ١٩٤٧ کے بٹوارے کے بعد اپنی سب سے بڑی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے. اْس برس پاکستان بننے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے مسلمان اپنا سیاسی کردار کھو چکے تھے اور پچھلے پچاس سالوں میں اس آبادی کے لوگوں نے ہندوستان کی سیاست میں زیادہ تر خود فروش موقع پرستوں کے طور پر حصہ لیا ہے.

آج یہ مسلمان ہندوستان میں تحفظات کے سلوک کے وسیع نیٹورک (تعلیم و روزگار میں مثبت امتیاز) میں شامل ہونے کے لئے تیار ہیں جس نے پچھلی دو دہائیوں میں کئی نچلی ذات کے گروہوں کو ملک میں اقتدار کی رسیاں تھما دی ہے. ہلانکے تحفظات کا یہ سسٹم کئی طرح سے مسائل اور تضادات سے لدا پڑا ہے لیکن موجودہ حالات میں یہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے ملک میں سیاسی یکجہتی اور شمولیت کو فارغ دیا جا رہا ہے. کیوں کے مسلمان ابھی تک ہندوستانی سیاست میں سہی طرح رچے بسے نہیں ہیں اسی لئے وہ ابھی بھی کچھ حالات میں ‘مذہبی’ جذبات و تشدد پسندی کی طرف رخ کرتے ہیں. مسلمانوں کو ذات کی بنیاد پر سیاسی ومعاشی دائرے میں لانے کی تکنیک نا صرف سیاسی طور پر مذھب کی جگہ لے سکتا ہے بلکے اس سے ابھی سے اس ‘کمیونٹی’ میں معاشی حیثیت کے تحت دراڑیں پر گئی ہیں کیوں کے ‘نچلے’ گروہوں کو ‘ترقی شدہ’ گروہوں’ پر فوقیت دی جاتی ہے. اسی لئے جیپور جیسے تنازعہ کو استمعال کر کہ مسلمانوں میں صرف مذھب کی بنیاد پر یکجہتی قائم کرنا ان لوگوں کی خواہش ہو سکتی ہے جو کہ مسلمانوں کو طبقاتی بنیاد پر سرگرم ہونے سے روک کر ان کو ‘غیر سیاسی’ بنانا چاہتے ہیں. لیکن اس عمل کی ام حمایت نا ہونے کے باعث ہم یہ ضرور کہ سکتے ہیں کہ یہ کوشش ہندوستان کے مسلمانوں کے کیس میں بڑی طرح ناکام ہو گئی ہے.

یہ سب آزادی اظہار راۓ کا دفاع کرنے والوں کے لئے کسی بھی اہمیت کا باعث نہیں کیوں جو تنازعہ وں کو اتنا پریشان کرتا ہے اس میں رشدی اور ان کی نثر تو اصل میں غیر متعلقہ ہیں. میرا خدشہ یہ ہیں کہ شعور کی یہ ناکامی آزادی اظہار راۓ کے دقیانوسی بیانیہ کا حصہ ہے کیوں کے اس کا وجود اس کے خلاف مذہبی اور فرسودہ دھمکیوں پر قائم ہے. لیکن کچھ تکفیری کے مطالبات کے سوا (جنہوں نے ١٩٨٨ کے احتجاجات کے ایک آسان سا فرسودہ ماسک پہنا دیا تھا)، یہ تو اصل ‘رشی تنازعہ’ کے قریب بھی نہیں تھا جب احتجاجی مسلمان ایک مذہبی دلیل کے سب سے قریب اس وقت ے تھے جب انہوں نے اپنے مذھب کی برطانیہ کے توہین مذھب قانون میں شمولیت کا مطالبہ کیا. کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس تنازعہ کے سب سے روایتی مذہبی عنصر کا تعلق عیسائیت سے اور مسلمان مہاجرین کی برطانوی معاشرے میں شمولیت سے تھا. اس کے علاوہ تو مسلمانوں کے رشدی کے خلاف احتجاج حضرت محمد کی غلط نمائیندگی اور نفرت آمیز گفتگو، بدنامی اور ہرجانے کی سیکولر زبان استمعال کر رہا تھا. یہاں تک کے آیت اللہ خومینی کے مشہور فتوے میں بھی کوئی مذہبی نقطہ نہیں اٹھایا گیا تھا، اور یہ بات بھی ضرور ہے کہ ان کے شیعہ عقیدے کے مطابق مقدس کتابوں میں رشدی کی طرح کہانیاں ڈالنے کی کوئی حیثیت نہیں تھی.

عظیم مصنفوں کی اپنے معاشرے اور اس کے مسائل پر گہری نظر و سوچ ہونی چاہئے لیکن رشدی اس تنازعہ کے مذہبی عنصر پر توجہ دینے والے واحد آدمی تھے. سیٹینک ورسس کا مقدس کتاب میں کہانی ڈالنا ان کے مسلمان دشمنان کے لئے کبھی اتنا بڑا معاملہ نہ تھا. بلکے یہ مرد و عورتیں اس رسول کی حرمت کا دفاع کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھی جو ان کے لئے محظ ایک مذہبی شخصیت سے زیادہ ایک ذاتی شناخت کا حصہ بن چکا تھا جس کی وجہ سے اب وہ حملوں سے زیادہ غیر محفوظ تھا. بلکے ایک وجہ کے رسول اور اس کی کتاب کے برعکس خدا پر حملے مسلم ممالک میں کوئی زیادہ رد عمل نہیں پیدا کرتے یہ ہے کہ خدا کی نظریاتی طور پر ایک ‘موت’ ہو چکی ہے جب کے رسول اور اس کی کتاب زیادہ سے زیادہ آسمانی نشانات سے زیادہ انسانی علامات بنتے جا رہے ہیں. ‘رشدی تنازعہ’ نہ صرف اسلام کی بڑھتی ہوئی عالمگیریت کی نشانی تھا بلکے یہ اس مذھب کا روایتی عالموں اور اولیاء کے دائرے سے نکل کر ایک ‘جمہور’ کی شکل میں ابھرنے کی علامت بھی تھا. بلکل اسی اصلاحتی عمل کی طرح جو مسلم تشدد پسندی کے کئی سارے ناقدین اسلام میں لانا چاہتے ہیں یہ سوچے بغیر کے یہ عمل عیسائی یورپ میں کتنے خون خرابے کا باعث بنا تھا.

رشدی کے کام کا مداح ہونے کے باعث ١٩٨٨ میں ان کی کتاب سیٹینک ورسس سے میں مایوس ہوا تھا. میرے خیال میں یہ صحیح سمت میں اشتعال انگیز نہیں تھی کیوں کے اس میں مسلمان دنیا میں ارسا دراز سے مردہ ایک مذہبی معاملے پر ایک کافی سرسری سی روشنی ڈالی تھی. مجھے کتاب ان لوگوں کے عقیدے کے بارے میں جن کے بارے میں وہ تھی وی خاص بات کرتی نہیں نظر آئی اور مصنف حد درجہ تک نو آبادیاتی دور کے ایک مقامی خبری کے طور پر دکھائی دیے جو غیروں کی داد حاصل کرنے کے لئے اپنے اگوں کی مخبری اور برائی کرتا ہے. ظاہر سی بات ہے اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ان کی کتاب پر پابندی لگانا یا رشدی کو دھمکیاں دینا ٹھیک ہے مجھے زیادہ دلچسپ یہ بات لگی کے اس تنازعہ کے بیچ میں ان کے مسلمان نقاد اس گفتگو میں زبردستی گھس گئے جو رشدی نے اپنے اور ان کے مذھب کے درمیان رکھی تھی. حالنکہ یہ بلکل نا قابل برداشت تھا، رشدی کے خلاف دھمکیوں نے ان کو آزادی اظہار راۓ کا سب سے بڑا چئمپین بننے کا موقع دے دیا. لیکن ان کو خود بھی کبھی اپنے عقائد پر پکا یقین نہیں رہا ہے، پہلے انہوں نے راجیو گاندھی کی کتاب پر پابندی لگانے کی اس وقت مذمت کی جب کئی ہندوستانی شہری فائرنگ میں ہلاک ہو رہے تھے، پھر انہوں نے کتاب لکھنے پر ایرانی حکومت سے معافی مانگ لی اور بعد میں اس کو اس وقت واپس لے لی جب ایران نے اس کو کافی نہ سمجھا.

جیپور میں بھی، جدھر انہوں نے برکھا دت کے ساتھ ایک ٹی وی انٹرویو میں اعتراف کیا کہ ان کی زندگی کو کوئی ٹھوس دھمکی نہیں دی گئی تھی، آزادی اظہار راۓ کے اس بڑے چئمپین نے یہ کہ کر اپنے آپ کو چھڑا لیا کہ وہ دوسروں کو تشدد سے بچانا چاہتے ہیں. یہ بڑے معزز خیالات ہیں لیکن رشدی کی شہر میں موجودگی کے دوران جو ہجوم دونوں طرف سے جمع ہوتا اس کو کنٹرول اور بلڈنگوں کی حفاظت ضرور کی جا سکتی تھی. کیا ان کو آزادی اظہار راۓ کے لئے نہیں مول لینا چاہیئے تھا؟ لیکن اصولوں کے اس نبی نے ہمیشہ اس قسم کی بہادری دکھانے سے گریز کیا ہے جس سے ہندوستان کو آزادی ملی تھی اور اس کے بجاۓ اپنے دشمنان کے خلاف ریاست کے جبر کا سہارا لیا ہے. حالانکہ قانونی طور پر ان کو اس قسم کی حفاظت کا حق ہے لیکن اس ضروری اصول کے لئے اسٹینڈ نہ لینا ان کے حامیوں کے لئے کچھ زیادہ حوصلہ افزائی کا باعث نہیں ہے. وہ واحد لوگ جنہوں نے اس پورے معاملے میں وقار کا مظاہرہ کیا وہ جےپور ادبی میلے کے انتظامی ہیں جنہوں نے ادارے، اس کے سپانسر، شریکین اور حاضرین کی طرف اپنے فرائض کو سہی طریقے سے سمجھا اور آزادی اظہار راۓ پر سارے تماشے کے پیچھے ان سارے گھناونے عزائم کو بھانپا جو تقریبات کو روکنا چاہتے تھے. اس تنازعہ میں کسی سیاسی پارٹی کے کردار لینے سے انکار کر دینے کا (چاہے یہ اپنے مخالفین پر پوائنٹ مارنے کے لئے ہی کیوں نہ ہو) ووٹروں کو اپنے سے دور سے زیادہ تعلق نہیں تھا. اس کا زیادہ تعلق آج کے ہندوستان میں، جدھر نئے مسائل تو ہیں پر ایک بھرپور جمہوری مستقبل کا وعدہ بھی ہے، رشدی کے تنازعات سے بھری شخصیت ہیں.

فیصل دیوجی آکسفورڈ یونیورسٹی کے سینٹ اینٹونی کالج میں ہندوستانی تاریخ کے فیلو ہیں اور دو کتابوں کے بھی مصنف ہیں: ‘لیندسکپس آف جہاد: تشدد، اخلاقیات اور جدیدیت’ اور ‘انسانیت کی تلاش میں دہشتگرد: عسکریت پسند اسلام اور عالمی سیاست’.

یہ مضمون پہلی دفع حالات حاضرہ کے آن لائن اور سہ ماہی بلٹن کرنٹ انٹیلیجنس میں ٣٠ جنوری ٢٠١٢. یہ ادھر تهیسیگر اور کمپنی لمیٹڈ کی اجازت سے شائع کیا گیا ہے.

مزید پڑھئے:


تبصرے (1)

گوگل کے ترجمے آٹومیٹک مشین ترجمے فراہم نہیں کرتے. ان سے آپ کو کہنے والے کی بات کا لب لباب تو پتا لگ سکتا ہے لیکن یہ آپ کو بات کا بلکل درست ترجمہ بشمول اس کی پیچیدگیوں کے نہیں دے سکتا.ان ترجموں کو پڑھتے وقت آپ یہ بات ضرور ذہن میں رکھیے

  1. I would like to take this opportunity to discuss the topic ‘we respect the believer, but not necessarily the content of the belief’. It depends. I do not respect the content of Islam, and I cannot respect Muslim terrorists, who in their view are believers implementing and defending Islamic dogma. Nor can I respect many ordinary Muslims, come to think of it, for their blind submission to a religion that does not appear to have many redeeming qualities. What good has Islam ever done? Look at how women are treated in Islam, look at the cruel punishments meted out to petty criminals in many Muslim countries, look at the widespread intolerance towards over faiths in Muslim countries and among Muslims in general. Add to that their incomprehensibly naive belief in the superiority of Islam, which flies in the face of the abject conditions that prevail in most Muslim countries, and the victimhood narrative with which they cloak themselves, a la ‘Our innocent Muslim brothers are once again being attacked by the blasphemous, decadent infidel Crusaders!’ Give me a break – the Crusades were centuries ago. We have evolved greatly since then. Unfortunately, the same cannot be said for Islam, which exists in a pre-medieval world all its own.

کسی بھی زبان میں تبصرہ کیجئے

جھلکیاں

سب ہا‏ئيلائٹس ديکھنے کے ليے دائيں طرف سوا‏ئپ کيجئيے


آزادی اظہار راۓ آکسفرڈ یونیورسٹی کا ایک تحقیقی پراجکٹ ہے جو کہ سینٹ اینٹونی کالج کے ڈیرنڈورف پروگرام براۓ مطالعہ آزادی کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے

اوکسفرڈ يونيورسٹی