نفرت انگیز اظہار (ہیٹ سپیچ) کے خلاف قانون سازی کے نقصانات

ہیٹ سپیچ قانون سازی غیر محفوظ اقلیتوں کی حفاظت سے زیادہ آزادیِ اظہار کو نقصان پہنچاتی ہے. آزادیِ اظہار کے وکیل ایوان ہیر کا جیریمی والڈرون سے اختلاف.

جیسا کہ میرے مضمون کے عنوان سے ظاہر ہے، میں ہیٹ سپیچ پر پابندی سے متعلق قانون سازی کے خلاف ہوں. میرا یہ اختلاف اصولی اور عملی ہے. اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے میں چوتھے اصول کا ذکر کرنا چاہوں گا.

جہاں چوتھا اصول “کھل” کر بات کرنے کا ذکر کرتا ہے تو میرے خیال میں اس سے مقصد لوگوں کو انسانوں کے فرق سے متعلق اظہار کی حوصلہ شکنی نہیں – چاہے تمثیلی طور پر یا اپنے لباس، رویہ یا نجی سطح پر. میں اس سے یہ بھی سمجھتا ہوں کہ جب ہم عوامی سطح پر بات کریں تو تمیز کے دائرے میں رہ کر. اسی طرح میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ چوتھے اصول کو صرف انسانی تفرقہ تک ہی کیوں محدود کر دیا جاۓ. کیوں نہ ہم جب بھی عوامی سطح پر کسی قسم کی بھی بات چیت میں شامل ہوں تو تمیز کو ملحوظ خاطر رکھیں؟ پیش کردہ وضاحتوں کی روشنی میں، عوامی بول چال کے طریقہ کار کے سودمند رہنما کے طور پر میں چوتھے اصول کی توثیق کرتا ہوں.

لیکن ٹموتھی گارٹن کی تفسیر اور جیریمی والڈرون کے جواب سے صاف ظاہر ہے کہ بات صرف عوامی سطح پر گفتگو کی رہنمائی کی نہیں. کچھ لوگ نہ صرف قانون سازی کے ذریعے اس کو لاگو کرنا چاہتے ہیں بلکہ ہیٹ سپیچ کے قوانین کے تحت اسے مجرمانہ ممانعت کا شکار بنانا چاہتے ہیں. یہ ایک سنگین غلطی ہو گی، کیونکہ یورپ اور کینیڈا میں رائج ہیٹ سپیچ کے قوانین بنیادی سطح پر آزادیِ اظہار کے برعکس ہیں.

آزادیِ اظہار کا سب سے قائل کر دینے والا جواز یہ ہے کہ یہ ہماری جمہوری خود-حکمرانی میں شمولیت کے لئے ناگزیر ہے. یعنی کہ عوامی دلچسپی کے ان تمام مباحثوں میں ہماری شرکت کا حق جو ہم سب کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں. نسل پر مباحثے (مثلا امیگریشن، شمولیت، یکسانیت وغیرہ) بیشتر جدید جمہوریتوں کے عوامی مباحثوں میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں. ہیٹ سپیچ قوانین کے ذریعے اس موضوع پر سخت گفتگو اور اشتعال انگیز خیالات کے اظہار پر ممانعت سے، مقررین اور حاضرین کا بھرپور عوامی بحث میں شریک ہونے کا حق چھن جاتا ہے.

یہ کوئی مناسب جواب نہیں کہ مقرر اپنی بات “شائستگی” سے بیان کر کے قانونی ذمہ داری سے بچ سکتا ہے. عموما ہیٹ سپیچ قوانین کے حصار میں ایسے مضامین (نسل، مذھب، ہم جنسیت) ہوتے ہیں جن پر لوگوں کے سخت اور انتہائی قسم کے خیالات ہوتے ہیں اور بولنے والوں کو یہ اختیار ہونا چاہیے کہ (دیگر عوامی مباحثوں کی طرح) اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کر سکیں. یوں بھی کسی کی لئے اپنی گمراہی میں زیر تنقید دوسرے کے خلاف نفرت اکساۓ بغیر، ایک نسل کی دوسری پر برتری یا ہم جنسیت کے گھناؤنے پن پر بات کیسے ممکن ہے؟

ظاہر ہے کہ عام مباحثے کا حق مطلق نہیں اور اگر کوئی اپنے مؤقف کے بھرپور پرچار اور مجرمانہ سرگرمیوں پر اکسانے کے بیچ کی باریک لکیر کو عبور کرے تو اس کے خلاف قانونی کاروائی جائز ہے. یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ حق عام مباحثے کی لئے ہے نہ کہ منہ در منہ دھمکیوں یا حملوں کے لئے.

ایسے قوانین کی عملی مشکلات کے بارے میں یہاں صرف اتنا کہوں گا کہ ہیٹ سپیچ کے تحت قانونی چارہ جوئی سے انہی خیالات کا مزید پرچار ہوتا ہے جن کی روک تھام کے لئے یہ قوانین تشکیل دیے گے تھے، اور گنے چنے قابل تاسف نفرت پھیلانے والوں کو خوامخواہ شہیدِ آزادیِ اظہار ہونے کی چمک دمک حاصل ہو جاتی ہے. اس کے برعکس، عوامی چھان بین اور نظر ثانی ان نفرت پھیلانے والوں کے خیالات کے مضحکہ پن سے پردہ اٹھا دیتی ہے.

ان قوانین کے حق میں مثبت دلائل کیا ہیں؟

پروفیسر والڈرون کا مؤقف ہے کہ ہیٹ سپیچ قانون سازی کا مقصد غیر محفوظ اقلیتوں کو جرائم، اور وقار یا اجتماعی ساکھ کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان سے بچانا ہے. بظاہر یہ ایک پرکشش دلیل ہے. اس فورم سے منسلک ہمارے جیسے زیادہ تر لوگوں کو ہم جنسیت کے خلاف رویّوں سے ہمدردی نہیں ہے (جیسے مغربی بیپٹسٹ چرچ کے، جو پروفیسر والڈرون کے جواب میں فراہم کردہ تصور سے ظاہر ہیں)، یا ان سفید فام بالادستی کا پرچار کرنے والوں سے جو اپنے محلے کے واحد سیاہ فام خاندان کے باغ میں جلتی ہوئی صلیب گاڑتے ہیں. لیکن ہیٹ سپیچ کی قانون سازی اس طرح کام نہیں کرتی؛ وہ اقلیّتوں کے خلاف نفرت اکسانے کو منع نہیں کرتی، بلکہ کسی کے بھی خلاف – چند خصوصیات مثلاً نسل کی بنیاد پر. لہٰذا یہ عین ممکن ہے (اور تحقیق بتاتی ہے کہ زیادہ خدشہ اسی کا ہے) کہ یہ قوانین نسلی یا دوسری اقلیّتوں کے اپنے ہی خلاف استعمال کیے جایں اگر وہ اکثریت کے خلاف سخت الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار کریں. اگر پروفیسر والڈرون کا مقصد غیر محفوظ اقلیّتوں کو بدگوئی سے بچانا ہے تو ہیٹ سپیچ کے قوانین جس شکل میں زیادہ تر یورپ اور کینیڈا میں موجود ہیں، غیر مؤثر اور غیر پختہ ہیں.

بہرطورلبرل قانونی نظام عموما گروہوں کی شہرت سے متعلق انصاف کی فراہمی کو قوانین سے محفوظ نہیں کرتیں، اور ایسا کرنے کی معقول وجہ موجود ہے. اس بات کا کیا معنی ہے کہ مجھے اپنی ذات کی نیک نامی کے علاوہ اپنے گروہ جس سے میں منسلک ہوں، کی نیک نامی سے متعلق بھی دعوی کرنے کا حق حاصل ہے؟ تو پھر کیا تنقید زدہ گروہ کے لوگوں کی گفتگو بھی قابل سزا ہے؟ گروہی بدگوئی کے تصور کا مذھب سے متعلق ہیٹ سپیچ پر عقلمندانہ اطلاق کس طرح ممکن ہے (جس کا ذکر پروفیسر والڈرون نے بھی کیا ہے) جہاں پیروکار دوسرے مذہب کی کمتری کا ضمنی یا کھلا اظہار کرتے ہیں؟ کسی بھی صورت میں، گروہی بد گوئی کا ازالہ (کم از کم عام قانون کی دنیا میں) سول قوانین کے ذریعے ہونا چاہیے نہ کہ ہیٹ سپیچ پر ممانعت کے فوجداری قوانین کے ذریعے.

جہاں تک انسانی وقار پر مبنی دلائل کا تعلق ہے، اس بات میں شک نہیں کہ انسانی حقوق سے متعلق ہمارے بیشتر اصول اسی خیال پر مبنی ہیں. ہیٹ سپیچ کہ پیراۓ میں انسانی وقار کا حق ناراض نہ ہونے یا توہین نہ کیے جانے کے حق میں تبدیل ہو جاتا ہے.  اس میں مشکل یہ ہے کہ ایسا کوئی انسانی حق نہیں کہ عوامی گفتگو میں ہم ناراض نا ہوں – اور یہی مناسب ہے. قانون نے اس وقت سفید فام نسلی برتری پر یقین رکھنے والے کی حفاظت نہیں کی جب ١٩٦٠ کی دہائی کے امریکہ میں سول حقوق کی مہم کے نسلی برابری اور علیحدگی کے خلاف پیغام سے اس کے وقار کو شدید دھچکا پہنچا اور نہ ہی وہ اس مذہبی انتہا پسند کو ڈھال فراہم کرتا ہے جو انسانی ارتقاء کے ماہرین کے اس دعوی سے نالاں ہے کہ اس کی اولاد بندروں کی نسل سے نکلی ہے. پروفیسر والڈرون کی دلیل کے نتیجے میں ایک تشویش (اور وہ بھی نہایت غیر واضح) کو ایک بنیادی حق پر ترجیح ملتی ہے: جو کہ انسانی حقوق کی حفاظت کے عمومی عزائم کے بلکل برعکس ہے. یہاں یہ بھی صاف ظاہر ہے کہ پروفیسر والڈرون کا ہیٹ سپیچ قانون سازی اور ماحولیاتی قانون کے مابین قیاس بھی ناقص ہے: آلودگی پھیلانے والا کوئی بنیادی حق استعمال نہیں کر رہا جب کہ عوامی مباحثے کا شریک ایسا کر رہا ہے.

ان (اور بہت ساری) وجوہات کی بنا پر میں چوتھے اصول کا اس کی حقیقت کے مطابق خیر مقدم کرتا ہوں: یعنی ایک اصول کی طور پر. اس کے قانوناً نفاذ کی کوشش ایک خطرناک اضافہ ہو گا جو ہمارے بنیادی حقوق اور عام مباحثے کی کشادگی کو نقصان پہنچاۓ گا.

یہ مضمون یوروزین میں شائع ہوا.

ایوان ہیر لندن میں بلیک سٹون چیمبر میں زیر پریکٹس بیرسٹر ہیں اور انسانی حقوق کے کیسوں میں ماہر ہیں. وہ ‘شدت پسند اظہار اور جمہوریت’ (او یو پی ٢٠٠٩) کے مصنف ہیں اور ‘ڈی سمتھ کا قانونی جائزہ’ کے مصنفین میں سے ایک ہیں. وہ ٹرنٹی کالج کیمبرج کے فیلو رہ چکے ہیں ١٩٩١ – ٢٠٠٣.   

مزید پڑھئے:


تبصرے (0)

گوگل کے ترجمے آٹومیٹک مشین ترجمے فراہم نہیں کرتے. ان سے آپ کو کہنے والے کی بات کا لب لباب تو پتا لگ سکتا ہے لیکن یہ آپ کو بات کا بلکل درست ترجمہ بشمول اس کی پیچیدگیوں کے نہیں دے سکتا.ان ترجموں کو پڑھتے وقت آپ یہ بات ضرور ذہن میں رکھیے

  1. آپ کا تبصرہ ماڈریشن کے مراحل میں ہے۔

    Hate Speech Legislation: The other end of the spectrum
    Three SL language and Literature students Luca Zanichelli, Tommaso Garutti, and Jaco Fourie refer to German law concerning hate speech and draw on examples from John Stuart Mill, Jeremy Waldron and Feinberg to prove that the answer to Hate Speech is not a simple yes or no.

    Although yes, valid points are raised in Ivan Hare’s article “The harms of hate speech legislation” numerous arguments presented by John Stuart Mill and Joel Feinberg may entice you to reconsider your position.

    Jeremy Waldron, an ardent supporter of free speech legislations, defends his views by explaining that if hate speech legislation is not present then the resulting hate speech will incite violence between people of a community. Furthermore he explains how hate speech legislation works with the first amendment on free speech by stating that we already have legislation against different forms of speech such as threatening speech, incitement, defamation and distribution of child pornography so legislation restricting a form of speech is not so strange after all. But he does admit that a lot of thought must be put into the specific legislation implemented considering the extreme delicacy of the matter, even though since other nations have managed to implement legislation successfully he does not see too much of a problem in doing so. In conclusion though he does say that in the end whatever legislations are made must have some place or “safe havens”, outside of public context, in which people are allowed to express themselves in whatever way they deem fit.
    A relevant example that he makes are of how Muslims were targeted, through hate speech, by people in the state of New Jersey after the September 11 attacks and how the government didn’t intervene because it wasn’t able to with existing laws. This shows how without legislation the government wasn’t able to do its task in protecting its citizens from abuse, a thing that should not be happening in a well-ordered society, this thus sends a subliminal message from Waldron that he believes that a well ordered society has as part of its core legislation against forms of hate speech that protects minorities or people targeted for unfair reasons.

    Obvious instances do exist where there is a mutual recognition of when hate speech is inappropriate. Those instances being when it is meant to sway the audience into committing physical harm or illegal crimes. However, hate speech can also be used in a manner that abuses the fundamental right to human dignity and equality of concern and respect. An example being German law where it is a strict offense to violate the dignity of another and subsequently impedes the exploitation of these aforementioned principles.

    In the article “The harms of hate speech legislation” Ivan Hare affirms that “To prohibit the expression of strongly worded and provocative views on the subject of race through hate speech laws deprives those speakers and their audience of their right to participate fully in that public discourse” this claim begs the question, does omitting words which may offend your audience really detract from your argument and thus hampers your ability to fully participate in the said public discourse? As a seasoned public speaker (Jaco Fourie) I acknowledge the use of certain profanities (In a harmless context) to maintain the interest of the audience, but contrary to what was stated in Hare’s article, I would specifically neglect any words or phrases from my speech that may offend my audience. I would do this mainly out of respect to my listeners but also partially to maintain the size of my crowd. Examples include both Bill Clinton and Barack Obama which had to publicly apologize after swearing in front of an audience because the audience was offended. A more recent example would be Obama’s Euro-Diplomat Victoria Nuland who during negotiations regarding the Ukraine Crisis said “ F**k the EU”, this hampered negotiations and did nothing to expedite the process. Were miss Nuland to have censored herself and said something more appropriate, then surely the current subsequent tensions would not have arisen.

    The above examples alludes into an entirely different issue, Hate speech amongst diplomats or anyone who represents their country. Once again, consider the above example. Viktoria Nuland is a US diplomat who was entrusted not only by her Government, but also by her country, to represent them to the best of her abilities. Her comment, as German Chancellor Angela Merkel puts it, was “Absolutely unacceptable”. The comment also sparked tensions between America and Russia. All of this, simply because a US diplomat said one word “f**k”. Nuland used the word to express her negative judgement of the Europeans, something which could easily have been done by not using “f**k and would not solicit the same kind of unwanted response.

    Granted that it is unreasonable to consider outlawing everything that may cause offence, situations may arise where exceptions may be made. Mill states that “some actions, if done publicly are a violation of good manners and coming thus within the category of offenses against others may rightly be prohibited”. This reinforces Mills position on the importance of autonomy, he continues to say, “There are intimate matters, which do not concern anyone but the individual so long as they are done in private. But when they are done publicly, they might cause offence to others and state may legitimately control them”. A 2006 example in mall in Maryland includes two students who were making a religious-themed speech to iranian students and several bystanders. They were ridiculing the Islam religion and were explicitly labelling it as evil. Police arrived at the mall and described the scene by saying that the two students were harassing people who appeared to be from Middle Eastern origin. The Police proceeded to escort the students out of the mall. A witness was interviewed saying “The disruptive party was harassing the iranian students, and the officers sent them on their way and told them they couldn’t do that”. Furthermore, some personal intimate bedroom matters of an individual which are of no significance to a group and contain hate speech can rightfully solicit forceful response from authority.

    Other examples also exist where intervention from an authoritative group can be considered just. The Skokie March in 1977 was led by Nationalist Social Party Frank Collin through a predominantly Jewish community. The march included verbal assaults in the form of chants and degrading posters carried by the participants. Considering the time (not long after World War two which saw the extermination of 6 million jews) and nature of the march, the US Supreme Court thought it necessary to intervene and assess the march.

    What the above illustrates is that in the event that the target group or audience is incapable of avoiding exposure to the speaker or whatever medium of communication, it would be considered morally wrong to continue to subject them to hate speech which may contradict their ideals/beliefs/ethnicity etc.

    Mill employs an analogy of a corn dealer, that suggests that it is acceptable to express anger through speech and the printed page. The corn dealer, who deliberately charges excessively high prices, angers the poor. Expressing this anger is acceptable as long as no harm is done towards the dealer as a result. Mill believes that we must have the right to free speech since we have liberty of thought; the two are interdependent. He asserts that speech should be restricted only when the purpose goes past offending the target: speech should never incite physical or psychological harm. At this point, speech should be limited as it violates their human rights.

    Feinberg offers some fundamental parameters, which can define if a claim for offense, due to hate speech, is sincere and valid. These three norms consist of the target group experiencing an uncomfortable and hostile situation, being able to prove that this state was caused by another’s wrongdoing, and showing that the victim “resent[s] the other for his role in causing [him or her] to be in that state”. He further states that the gravity of a verbal assault will be determined by three more principles: the vigorousness and extent of the assault, the “ease with which unwilling witnesses can avoid the offensive displayers”, and whether the victims, in any way, increased the possibility of the assault. Furthermore he supports Mill’s argument that this offense has to be a legitimate source of discomfort, and not simply a minor nuisance.

    The issue of hate speech legislation is an intrinsically complicated one which entails numerous exceptions and special cases. It will not suffice to simply label hate speech as an acceptable affair, nor will it be satisfactory to simply ban it. All aspects must be considered before a decision that affects everyone can be made, and its not as easy as yes or no.

    Works Cited
    Cohen-Almagor, Raphael. Speech, Media, and Ethics: The Limits of Free Expression. Basingstoke: Palgrave Macmillan, 2004. Print.
    "Join Academia.edu & Share Your Research with the World.” Harm Principle, Offence Principle, and Hate Speech. Web. 20 Mar. 2014. .
    Mcconnell, Michael W. "You Can’t Say That.” The New York Times. The New York Times, 23 June 2012. Web. 20 Mar. 2014. .
    Mill, David Van. "Freedom of Speech.” Stanford University. Stanford University, 29 Nov. 2002. Web. 19 Mar. 2014. .
    "Obama’s Euro-Diplomat Apologizes for Cursing Out EU.” Newsmax. Web. 20 Mar. 2014. .
    "Police Intervene in Offensive Speech.” The Diamondback. Web. 20
    Mar. 2014. .

کسی بھی زبان میں تبصرہ کیجئے

جھلکیاں

سب ہا‏ئيلائٹس ديکھنے کے ليے دائيں طرف سوا‏ئپ کيجئيے


آزادی اظہار راۓ آکسفرڈ یونیورسٹی کا ایک تحقیقی پراجکٹ ہے جو کہ سینٹ اینٹونی کالج کے ڈیرنڈورف پروگرام براۓ مطالعہ آزادی کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے

اوکسفرڈ يونيورسٹی