ترکی کے میڈیا میں نفرت آمیز تقریر کا مقابلہ کرنا

ہرانٹ ڈنک فاونڈیشن ٢٠٠٩ سے نفرت آمیز گفتگو پر میڈیا واچ پروگرام چلا رہی ہے جس کا مقصد ترکی کے پریس میں تفریقی اور نسلی تعصب زدہ مواد کا مقابلہ کرنا ہے. پراجکٹ کے کوآرڈینیٹر میلیسا اکان اور نوران اگان ہمیں اس سرگرمی سے آگاہ کر رہے ہیں.

ترکی میں ہم میڈیا میں اکثر متعصب اور جانبدرانہ آوازوں کا استعمال دیکھتے ہیں. اشتعال انگیز اور نسل پرست شہ سرخیاں دقیانوسی تصورات کو طول دیتے ہیں اور سماج میں نفرت اور امتیازی سلوک کو فروغ دیتی ہیں.ہرانٹ ڈنک فاونڈیشن کے نفرت آمیز گفتگو پر میڈیا واچ پراجکٹ کا مقصد اس تعصب اور عدم برداشت کا مقابلہ کرنا ہے.میڈیا کی شہری نگرانی کی اہمیت نظر میں رکھتے ہوئے اس پراجکٹ کے مخصوص مقاصد میں اخبارات کا انسانی حقوق اور تفریق کی عزت بڑھانا، آرٹیکلوں میں نسل پرست اور تعصب زدہ زبان کی طرف توجہ کرانا اور اس طرح میڈیا کو نفرت آمیز مواد چھاپنے اور فروغ دینے سے روکنا ہے.

ابھی تک ہم نے میڈیا واچرز کی ایک ٹیم بنائی ہے جن کو نفرت آمیز تقریر کے تصور میں تربیت دی گئی ہے. ان واچرز نے یہ خیالات ترکی کے اخبارات میں متعارف کرائے اور ان روزنامہ اخبارات کا باقاعدگی سے تفریق آمیز مواد کے لئے جائزہ لیتے ہیں. جب کے سب سے زیادہ زور میڈیا میں لسانی اور مذہبی شناخت کے بنیاد پر تفریقی گفتگو پر ہے ہم ہمجنس پرستوں کے خلاف اور جنسی بنیادوں پر شائع ہونے والے نفرت آمیز مواد پر بھی نظر رکھتے ہیں. جب ہم ایسی خبریں اور کالم کا تعین کر لیتے ہیں جس میں اس قسم کا مواد ہوتا ہے تو ہم اپنی پراجکٹ ویب سائٹ پر اس کا اعلان کرتے ہیں اور ان کو ایکسپوز کرتے ہیں.

یہ ویب سائٹ تقریبا روز ہی اپ ڈیٹ کی جاتی ہے اور اس کے ذریعے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ کچھ مخصوص گروہوں کے خلاف نفرت آمیز گفتگو سیاسی سیاق و سباق کے مطابق کس طرح بدلتی ہے. اس سال ہرانٹ ڈنک کے قتل کے سلسلے میں عدالتی فیصلے کے بعد آرمینین کمیونٹی کو بتدریج نشانہ بنایا گیا. اس فیصلے کے بعد ہرانٹ ڈنک کے قتل کی پانچویں برسی پر ہزاروں لوگوں نے یہ نعرہ لگایا کہ ‘ہم سب آرمینین ہیں، ہم سب ہرانٹ ڈنک ہیں.’ خبروں اور کالموں کی ایک بری تعداد نے پوری آرمینین کمیونٹی اور احتجاجیوں کو ایسے نعرے لگانے پر تنقید کا نشانہ بنایا.نیو روز کی تقریبات اور کردستان ورکرز پارٹی کے ترکی کی فوج پر حملوں کے بعد کردش کمیونٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا. سیاسی ایجنڈا جو بھی ہو، آرمینینوں، کردوں، رومیوں، مسیحیوں اور یہودیوں کو باقاعدگی سے امتیازی اور تعصب زدہ مواد کا نشانہ بنایا جاتا ہے.

اس بارے میں آگاہی بڑھانے اور پبلک کو اس عمل کا حصہ بنانے کے لئے ہماری ویب سائٹ تجویز کے لئے کھلی ہے. ہم اپنے نتائج مختلف سوشل میڈیا کے پلاتفارمز کے ذریعے لوگوں سے شیئر کرتے ہیں اور اپنے آرٹیکلوں کی بنیاد پر باقاعدگی سے رپورٹیں بھی چھپتے ہیں جن میں نشانہ بناۓ گئے گروہوں کے بارے میں اعداد و شمار، استمعال ہونے والی مختلف اقسام کی نفرت آمیز گتگو اور یہ گفتگو کدھر سب سے زیادہ استمعال ہوتی ہے اس کے بارے میں معلومات شامل ہوتی ہے. اب تک ہم این جی او’ز، یونیورسٹیوں، اخباری ایڈیٹروں اور منسلک اداروں (جیسے کے پریس کونسل اور ترکی میں صحافیوں کی ایسوسیشن) کو آٹھ رپورٹیں بانٹ چکے ہیں. بہار ٢٠١٢ میں چھپنے والی ہماری رپورٹ پہلی دفع انگریزی میں بھی ترجمہ ہوئی. ہم نے نفرت آمیز گفتگو کے معاملے کو میڈیا میں لانے کے لئے اور مینسٹریم میڈیا میں نسل پرست اور تعصب زدہ مواد کا سب سے بہترین مقابلہ کرنے کے طریقے معلوم کرنے کے لئے ایک بین الاقوامی کانفرنس، این جی او’ز کے ساتھ میٹنگز اور عالموں اور صحافیوں کے ساتھ ورکشاپ بھی منعقد کئے ہیں.

ترکش یونیورسٹیوں میں ان معاملات پر مناسب توجہ نہیں دی جاتی. اس لئے اس فیلڈ میں کام کرنے والے عالموں اور این جی او نمائندوں کے ایک مشاورتی بورڈ کے ساتھ مل کر ہم نے یونیورسٹیوں کے لئے ایک سمسٹر کے کورس کا نصاب بھی تیار کیا ہے. ترکی میں نفرت آمیز گفتگو کے معاملے میں وسائل کی کمی پوری کرنے کے لئے ہم نصاب میں شامل موضوعات پر ایک کتاب چھاپنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں.

ہرانٹ ڈنک فاؤندیشن کے نفرت آمیز گفتگو پر کام کے بارے میں کئی سارے آرٹیکل حالیہ دنوں میں اخبارات میں چھپے ہیں. ہماری امید ہے کے ان آرٹیکلوں کے ذریعے نفرت آمیز مواد پیدا کرنے والوں تک یہ پیغم ضرور پہنچ جاۓ گا کہ ان کی زہریلی باتوں کے خلاف لوگ رد عمل کر رہے ہیں. اخباروں پر نذر ثانی کرنے والا ایک ادارہ نفرت آمیز گفتگو کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی نہیں ہے. اس لئے ہم نفرت آمیز اور تعصب زدہ گفتگو کا مقابلہ کرنے کے لئے دیگر این جی او’ز، میڈیا کارکنان، عالموں اور نوجوانوں کے ساتھ شراکت کے منتظر ہیں.

ملیسا اکان اور نوراں اگان ہرانٹ ڈنک فاؤندیشن کے میڈیا واچ پراجکٹ براۓ نفرت آمیز مواد کے کورڈینیٹر ہیں.

مزید پڑھئے:

کسی بھی زبان میں تبصرہ کیجئے

جھلکیاں

سب ہا‏ئيلائٹس ديکھنے کے ليے دائيں طرف سوا‏ئپ کيجئيے


آزادی اظہار راۓ آکسفرڈ یونیورسٹی کا ایک تحقیقی پراجکٹ ہے جو کہ سینٹ اینٹونی کالج کے ڈیرنڈورف پروگرام براۓ مطالعہ آزادی کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے

اوکسفرڈ يونيورسٹی