اصولوں کو عوامی اداروں کی معلومات پر عوام کے حق کی تائید کرنی چاہیئے

اوپن سوسائٹی جسٹس انیشیٹو کی سینئر قانونی افسر سینڈرا کولیور کا کہنا ہے کہ معلومات کے حصول کا حق آزادی اظہار راۓ کے لئے ناگزیر ہے.

عوامی اداروں کی تحویل میں موجود معلومات تک رسائی آزادی اظہار کا اہم جزو ہے اور مختلف وجوہات کی بنا پر اس اہمیت کا حامل ہے کہ اس کے لئے ایک الگ اصول مختص کیا جائے.

اولاً اور سب سے اہم یہ ہے کہ اگر لوگ باخبر بحث میں شامل ہونا چاہتے ہیں، حکومت کا احتساب کرنا چاہتے ہیں، انسانی حقوق، صحت، عوامی حفاظت، اور ماحول کا تحفظ اور عوامی ذرائع کی منصفانہ بنیاد پر رسائی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تو ان کو عوامی اداروں اور ان پرائیویٹ اداروں کی جو عوامی خدمات سرانجام دیتے ہیں یا عوامی فنڈز حاصل کرتے ہیں، تحویل میں موجود معلومات تک رسائی ہونی چاہیے.

عمومی طور پر جو معلومات حکومت سے درکار ہےں وہ دو زمروں میں آتی ہیں. ہمیں حکومتی خدمات کے صارفین کے طور پر معلومات درکار ہیں، اس میں خدمات کی رسائی کا طریقہ کار اور حقداری کا تعین شامل ہے، اور اس بات کی جانچ کہ ہمارے لیے کونسی حکومتی خدمات – اسکول، ہسپتال، ذرائع نقل و حمل – موزوں ہیں.  عوام اور خاص طور سے نگراں اداروں (واچ ڈاگز) کو بھی حکومتی اداروں کی کارکردگی کے بارے میں معلومات چاہئیں- ان کے بجٹ، پیداوار، پالیسیاں، افسروں کی تنخواہیں، بیرونی ٹھیکے، نظر رساں اداروں کی رپورٹیں – تاکہ یہ جانچ کی جا سکے کہ آیا حکومتی ایجنسیاں پیسے کا بہترین استعمال کر رہی ہیں اور کیا ان کی کارکردگی بین الاقوامی اور قومی قانونی اور آئینی مطالبات سے مطابقت رکھتی ہے.

عوامی ایجنسیاں ایسی معلومات فراہم کرنے سے گریزاں ہوتی ہیں جن سے عوام ان کو یا اہم عہدہ داروں کو جوابدہ ٹھہرا سکیں. صارفین کو کچھ معلومات وہ شاید اس لئے فراہم کرنا نہیں چاہتے کیونکہ اس کی تالیف اور تحقیق میں دشواری درپیش ہوتی ہے، یا معلومات کی فراہمی سے ان ہستیوں کی زیادتی یا بد انتظامی سامنے آتی جو یہ معلومات خفیہ رکھنے کے لیے دباؤ ڈال رہیں ہوں. مثلا امریکی ایجنسی براۓ صارفین نے کافی عرصے تک مصنوعات سے متعلق شکایتوں کو عام کرنے میں اس بنیاد پر مزاحمت کی کہ شاید کچھ شکایات بےبنیاد ہوں اور اشاعت سے بنانے والی کمپنی پر ناحق منفی اثرات مرتب ہوں اور بدنامی کے کیسوں کا باعث ہوں. آخرکار ٢٠١١ میں ایجنسی دستبرداری کی شق کے ساتھ اشاعت پر راضی ہو گئی.

دوسری بات یہ کہ “معلومات اور خیالات کے حصول اور فراہمی” کی آزادی جیسے تصورات، جن کا اظہار پہلے اصول میں ہے، مکمل طور سے “عوامی اداروں کی تحویل میں موجود معلومات کی رسائی” کے تصور کا حصار نہیں کرتے.” معلومات اور خیالات کے حصول اور فراہمی کی آزادی”، جس کا اظہار انسانی حقوق کے عالمی اعلانیے اور بعد ازاں اقوام متحدہ اور علاقائی معاہدوں  میں کیا گیا ہے، سے عمومی طور پر صرف باہمی رضامندی اور حکومتی مداخلت کے بغیر  ہستیوں کے درمیان معلومات کے تبادلے سے متعلق تصور کیا گیا ہے، نا کہ شہریوں کے ایسے عوامی اداروں سے معلومات حاصل کرنے کے مطالبات سے متعلق جو اس اظہار پر راضی نہ ہوں.

تیسرا یہ کہ بینالاقوامی اور قومی ماہرین ، اداروں اور قوانین نے حال ہی میں اس حق کا اقرار کیا ہے کہ حق آزادی اظہار میں عوامی اداروں کی تحویل میں موجود معلومات کی رسائی بھی شامل ہے. مثلا اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق نے ٢٠١١ ہی میں اعلان کیا ہے کہ سول اور سیاسی حقوق کا بینالاقوامی معاہدے کے آرٹیکل ١٩ میں عوامی اداروں کی تحویل میں معلومات کی رسائی بھی شامل ہے. ١٨ ممبر ممالک کے ماہرین پر مشتمل اس کمیٹی کا کام ہے کہ اس معاہدے کے لاگو ہونے سے متعلق مستند تشریح کریں، جو کہ انسانی حقوق کے عالمی اعلانیے کے ایک جزو کی تدوین کرتا ہے. بینالاقوامی سطح پر اس حق کی اہمیت کو حال ہی میں تسلیم کیے جانے اور حکومتوں کے معلومات کی فراہمی کی زمہ داری سے منحرف ہونے کے رجحان کے مدّ نظر، ایک الگ اصول کی ضرورت ہے.

٥٠ سے زیادہ ممالک کے آئین اب معلومات کے حق کو آئینی درجہ دیتے ہیں؛ اور تقریبا ٩٠ ممالک میں قومی سطح پر حق معلومات سے متعلق قوانین وقواعد موجود ہیں – جن میں برازیل، چین، ہندوستان، انڈونیشیا، روس اور امریکہ جیسے کثیر آبادی والے ممالک، یورپ اور وسطی ایشیا کے بیشتر ممالک، لاطینی امریکہ کے نصف سے زیادہ ممالک، ایشیا اور پیسیفک کے درجن سے زیادہ ممالک، افریقه کے سات ممالک، اور مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے تین ممالک شامل ہیں. 5.2 بلین لوگ اس وقت ان ممالک میں رہائش پزیر ہیں جو اپنے داخلی قوانین میں، کم از کم کاغذی حد تک، حکومت سے معلومات کے حصول کو قابل نفاذ حق تسلیم کرتے ہیں. ( ان تمام آئین اور عدالتی فیصلوں کی عبارت اوپن سوسائٹی جسٹس انیشیٹو کی ویب سائٹ پر موجود ہے).

لہٰذا میں ایک نئے اصول کا اضافہ کرنا چاہوں گی، جس کی عبارت کچھ یوں ہو:

“ہم معلومات کی رسائی کا حق رکھتے ہیں، عوامی اداروں سے بھی، تاکہ باخبر بحث میں حصہ لے سکیں؛ اپنی حکومتوں کا احتساب کر سکیں، اپنے انسانی حقوق، عوامی حفاظت، صحت اور ماحول کاتحفظ کر سکیں؛ اور عوامی ذرائع اور خدمات تک اپنی منصفانہ رسائی کو یقینی بنا سکیں.”

یہ اصول اوپر دیے گئے نکات سے مخاطب ہے، اور مزید دو نکات کو اپنے اندر سموے ہوئے ہیں. پہلا یہ کہ ہماری معلومات کی ضرورت میں حکومتی اداروں کی تحویل میں موجود معلومات شامل ہیں مگر یہاں تک محدود نہیں. اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق اور بیشمار بینالاقوامی قوانین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ لوگوں کو ان غیر عوامی اداروں سے بھی معلومات درکار ہے جو عوامی خدمات سرانجام دیتے ہیں یا عوامی فنڈز حاصل کرتے ہیں، خاصی حد تک حکومت کے کنٹرول میں ہیں، یا قانونی طور پر قائم کردہ ہیں. کچھ جدید قوانین اور آئین، جن میں جنوبی افریقہ شامل ہے، یہ تسلیم کرتے ہیں کہ لوگوں کو ہر اس ہستی سے معلومات کی ضرورت ہو سکتی ہے جو ان کے حقوق کو نقصان پہنچاۓ. دوسرا یہ کہ عوامی اداروں کی تحویل میں موجود معلومات کی ضرورت فقط شہریوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک انسانی حق ہے، اور آزادی اظہار کی طرح اس میں بھی کارآمد اور بنیادی – دونوں قسم کی خصوصیات موجود ہیں. ہماری انسانیت اور آزادی کے لئے یہ بنیادی ضرورت ہے تاکہ ہم باخبر انتخاب کر سکیں اور اظہار کے قابل بھی ہو سکیں. جہاں استعمال کی بات آئے، وہاں ملک کا کوئی بھی باسی (چاہے شہریت کا حامل ہو یا نہیں)، اور وہ لوگ جو حکومت کے ایکشن کی وجہ سے متاثر ہوئے ہوں، ان سب کو یہ حق یقینی حاصل ہے کہ اس حکومت کی تحویل میں موجود معلومات حاصل کر سکیں.

آخر میں یہ بھی کہوں گی کہ اصول ١٠ کو وسعت دے کر، بالخصوص آزادئ معلومات کا واضح حوالہ دیا جاۓ:

“ہمیں لازما آزادی معلومات کی تمام حدود کو قومی سلامتی، عوامی نظم وضبط، اور اخلاقی بنیادوں پر للکارنے کے لئے آزاد ہونا چاہیے.”

اس اضافے سے یہ صاف ظاہر ہونا چاہیے کہ نہ صرف لوگوں کو ایسے خیالات کے اظہار کی اجازت ہونی چاہیے جو حکومت کے لئے ناگوار ہوں، بلکہ قومی سلامتی اور دیگر عوامی مفاد کی بنیادوں پر رازداری کو چیلنج کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے.

مزید پڑھئے:


تبصرے (6)

گوگل کے ترجمے آٹومیٹک مشین ترجمے فراہم نہیں کرتے. ان سے آپ کو کہنے والے کی بات کا لب لباب تو پتا لگ سکتا ہے لیکن یہ آپ کو بات کا بلکل درست ترجمہ بشمول اس کی پیچیدگیوں کے نہیں دے سکتا.ان ترجموں کو پڑھتے وقت آپ یہ بات ضرور ذہن میں رکھیے

  1. Dear Timothy,

    I like your project so much, I refer to it in my Trial Brief.

    You may like to help me distribute my true to life story world wide.

    Louis Leclezio

    http://www.freespeech-internetcontrol.com

    I am the voice of the ‘little guy’ from Africa.

    Whereas, the fastest growing Internet markets are in Africa, Asia, the Middle East and South America.

    Whereas, the North American Internet market is saturated.

    http://www.internetworldstats.com/stats.htm

    Whereas, those fast growing markets should, if anything, be privileged and protected rather than adversely prejudiced.

    Whereas, the Internet success rests on the shoulders of hundreds of millions of little guys like me around the world.

    Whereas, scant mention is made in the media and/or in any proposed resolutions, ahead of WCIT2012, that address the problems encountered by the ‘little guys’ under the present US ruled system.

    Whereas the ITU is represented in the US by Scott Cleland as: “not to understand the voluntary nature of the Internet or how the Internet really operates and evolves – because the bottom-up collaborative Internet is the antithesis of top-down governmental command and control.”

    http://www.forbes.com/sites/ciocentral/2012/05/24/the-itunet-folly-why-the-un-will-never-control-the-internet/

    Whereas although the Internet is represented as a “bottom up collaborative” international ‘effort’ the vast multi billion dollar revenues that this “bottom up” US controlled ‘co-op’ generates is understandably jealously guarded by very few privileged US Corporations at the top of the Internet tree.

    Whereas no matter how powerful a nation is, or how well capitalized any US Corporation is, if it crucifies the ‘little guy’ once too often, it may end up killing its right to control the Internet goose that has laid so many golden eggs for so long for its privileged benefit.

    Check out Google Market value for example: http://finance.yahoo.com/q/ks?s=GOOG

    Now, therefore, be it resolved that the ITU, the US, Google and the world media should pay urgent attention when the human rights of the ‘little guy’ are not respected and are not protected by the US.

    After all, no one should ever forget that those golden eggs are increasingly collected from a multitude of ‘little guys’ located in Africa, Asia, the Middle East and South America.

    Whereas, those fastest growing Internet markets are outside USA borders!

    Who, in the world, should best protect the Internet nest and distribute the eggs fairly?

    My web site http://www.freespeech-internetcontrol.com tells part of the true story of the ‘little guy’ from Africa.

    Will the ITU, the US Congress & Senate, Google and the world media help me write the rest of the story?

    I look forward to hear from you.

    Louis Leclezio

  2. I agree that the principles should affirm the public’s right to information held by public bodies (access). However, a prior principle is also important, namely, that information generated by public bodies is the property of the public and should be kept and archived for public use. Typically this principle is implemented through an archives law, which logically precedes an access law. In Hong Kong there is no legal requirement that public bodies maintain archives, and consequently most information is destroyed, not archived. Although Hong Kong has a public records office, public bodies are not required by law to deposit information in the office. Thus, since 1997, when Hong Kong became a part of China, no public records have been transferred from the HK Chief Executives Office to the archive. The assumption apparently is that these public records are the private property of the Chief Executive. Still, China and most other countries have some kind of archives law. We in the Archives Action Group in HK are lobbying to introduce such a law, but so far have had little success. A legal requirement that public information be kept precedes the principle of public access to them.

  3. Completely agree, What is the point of free speech if societies are not well informed and are not given legitimate facts? When people protest for a cause against their government and their cause does not contain full information of the governments actions, the state will undermine protests due to an uninformed public. The government will act as they wish. The population is subjugated to the information governments want to show them (especially in country’s that control the media).

    Also, in country’s such as America media is ideologically and politically linked to the government, thus information the government does not want to share with the public will not be aired in the media.

  4. My concern, from experience, is that however well-intentioned the Freedom of Information acts are (as presently enshrined certainly within the UK) open to considerable abuse. In my years of dealing with FOI requests I cannot honestly say I have seen anything that resembles something I, as a citizen, would wish to defend. For the most part it is used by journalists who are simply fishing for stories, commercial vendors seeking to take advantage of business intelligence, lazy research students, or individuals who wish solely to tie up the internal processes of public bodies distracting them from the other work they need to do. I defend the principle of FOI, but in its present state, feel it is not being used for its original purpose.

  5. I would tend to disagree with the conceptual approach. Much as I agree with the proposed principle, I don’t see how this is an aspect of free speech, or even of fundamental rights generally.

    Instead, it is an issue of democracy and due process. Only if we have access to documents can we properly inform ourselves in order to vote for the best candidate, and only if we have access to documents can we properly take advantage of our right to due process of law. (Cf. this access to documents case from last month, about access to documents created in the course of an antitrust investigation. Without those documents, how can the private victims of the cartel sue?)

    The link between access to documents and free speech, on the other hand, is much more tenuous. Even in the absence of the relevant documents, relevant speech is still possible. No one knows for certain what happened in Guantanamo and the other black holes, but that doesn’t stop us from talking through various scenarios, arguing about right and wrong, and about what we would like the government to do. The details of the truth only really matter when the time comes to turn those opinions into a democratic vote, or when the time comes to bring a habeas petition on behalf of someone stuck in a black hole. Democracy and due process, not free speech.

    A further problem is that the proposed principle essentially implies a positive obligation for the government. As the previous commenter wrote, access to documents means that the government has to publish information and in many cases even prepare documents so that they can be published. In my humble opinion, on the other hand, the free speech debate should be first and foremost about the government getting out of the way, about negative liberty.

  6. The onus should be upon the public bodies to actively publish any material as it is created, together with a statement of public resources which have been expended.

کسی بھی زبان میں تبصرہ کیجئے

جھلکیاں

سب ہا‏ئيلائٹس ديکھنے کے ليے دائيں طرف سوا‏ئپ کيجئيے


آزادی اظہار راۓ آکسفرڈ یونیورسٹی کا ایک تحقیقی پراجکٹ ہے جو کہ سینٹ اینٹونی کالج کے ڈیرنڈورف پروگرام براۓ مطالعہ آزادی کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے

اوکسفرڈ يونيورسٹی