چین میں یاہو، آزادی اظہار راۓ اور حق گمشدگی

سال ٢٠٠ میں یاہو کی دی ہوئی نجی معلومات استمعال کرتے ہوئے چینی حکام نے وانگ زیاؤننگ کو دس سال کے لئے جیل بھیج دیا. جڈتھ بروہن اخلاقی توقعات اور قوانین ے درمیان تضاد پر روشنی ڈال رہی ہیں.

٢٠٠ اور ٢٠٠١ میں شینیانگ میں مقیم انجنئیر وانگ زیاؤننگ نے ایک آنلائن بحث کے گروپ پر گمنام طریقے سے چین میں جمہوری اصلاحات اور سنگل پارٹی حکومت کے خاتمے کے حق میں کچھ چیزیں لکھیں. ٢٠٠٢ میں چینی حکام نے اس کو اس وقت گرفتار کر لیا جب امریکی کمپنی کے ہانگ کانگ کے ادارے نے حکومت کو ایسی معلومات فراہم کی جس کے ذریعے اس کی پہچان کر لی گئی. وانگ کو ستمبر ٢٠٠٣ میں بغاوت اکسانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا اور ١٠ سال قید کی سزا سنائی گئی.

٢٠٠٧ میں وانگ اور شی تاؤ نے (چینی صحافی جس کو بھی یاہو کی طرف سے حکومت کو معلومات کرنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا) سان فرانسسکو کی ایک عدلت میں کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا. مقدمہ میں امریکہ میں لاگو انسانی حقوق کے قوانین جیسے کے ایلین تورٹس قانون اور ایکٹ براۓ حفاظت تشدد متاثرین کا حوالہ دیا گیا. امریکی پارلیمانی کمیٹی براۓ خارجہ امور کی ایک میٹنگ کے دوران، امریکی نمائندے ٹوم لانٹوس نے یاہو کے سی ای او جاری یانگ کو متاثرین کے خاندانوں سے معافی مانگے کو کہا اور انٹرنیٹ کے اس دیو کو ‘اخلاقی بونے’ قرار دیا. یانگ نے عام طور پر عدالت میں معافی مانگ لی اور مقدمہ ایک ہفتہ بعد حل ہو گیا. ٣١ اگست ٢٠١٢ کو وانگ کو اپنی سزا کی مدت پوری کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا جب کہ شی تاؤ ابھی تک جیل میں ہے.

مزید پڑھئے:

کسی بھی زبان میں تبصرہ کیجئے

جھلکیاں

سب ہا‏ئيلائٹس ديکھنے کے ليے دائيں طرف سوا‏ئپ کيجئيے


آزادی اظہار راۓ آکسفرڈ یونیورسٹی کا ایک تحقیقی پراجکٹ ہے جو کہ سینٹ اینٹونی کالج کے ڈیرنڈورف پروگرام براۓ مطالعہ آزادی کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے

اوکسفرڈ يونيورسٹی