جے پور ادبی میلا

یہ معلوم ہونے کے بعد کہ ‘ممبئی کے اندر ورلڈ سے تعلق رکھنے والے والے پیشہ ور قاتل’ ان کی جان کے پیچھے ہیں مصنف سلمان رشدی نے جے پور کے ادبی میلے پر اپنی شرکت منسوخ کر دی، ماناؤ بھوشن لکھتے ہیں.

کیس

بوکر پرائز جیتنے والے ‘مڈنائٹ چلڈرن’ اور ‘سٹانک ورسز’ (جو کہ ہندوستان سمیت کئی ممالک میں بین ہے) کے مصنف سلمان رشدی کا نام ٢٠ سے ٢٤ کے درمیان منعقد ہونے والے جے پور ادبی میلے کے شرکا میں موجود تھا. ٢٠ جنوری کو دوپہر ١٢ بجے کے قریب رشدی نے یہ اعلان کیا کے وو میلے میں شرکت نہیں کر سکیں گے کیوں کہ ان کو ‘انٹیلجنس ذرائع سے یہ خبر موصول ہوئی ہے کہ ممبئی انڈر ورلڈ کے کچھ پیشہ ور قاتل ان کو قتل کرنے کے لئے نکل پڑے ہیں’. لیکن چار دن بعد ایک انٹرویو میں انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ اصل میں قتل کی غلط دھمکی کی خبر انٹیلجنس میں سے کسی نے ایسے ہی اڑائ تھی تاکے وو اپنی شرکت منسوخ کر دیں.

کئی دائیں بازو کے اسلامی گروہوں، جیسے کہ دارلاعلوم دیوبند، اور سیاسی پارٹیوں نے رشدی کی شرکت کی مخالفت کی جیسے کے کانگریس پارٹی جو کے راجھستان (جہاں جے پور واقع ہے) میں اقتدار میں ہے. رشدی کی شرکت منسوخ ہونے کے بعد منتظمین نے یہ وعدہ کیا کہ وہ ان کے لئے وڈیو لنک کے اہتمام کریں گے. لیکن وڈیو لنک شروع ہونے سے چند گھنٹہ پہلے ہی اس کو بھی سیکورٹی خدشات کی بنا پر کینسل کر دیا گیا.

مصنف کی راۓ

رشدی معاملے کو حکومت نے انتہائی شرمناک طریقے سے ہینڈل کیا ہے اور عام طور پی الیکشن کے قریب یہ ہی کہانی ہوتی ہے کہ تمام پارٹیوں کے نمائندے دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں (جیسے کے ابھی بیچ فرورنے میں شروع ہونے والے یو پی کے صوبائی الیکشن). لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر آزادی اظہار راۓ کی جدّوجہد میں ہمیں اس سے زیادہ جرت کا مظاہرہ کرنا پڑے گا جو کے رشدی اور میلے کے منتظمین نے دکھائی. یہ بات شروع سے عیاں تھی کہ رشدی کی زندگی کو کوئی سنجیدہ نوعیت کا خطرہ نہیں ہے اور ان کی ذاتی حفاظت کے لئے جو سیکورٹی درکار تھی وہ اس کا آسانی سے انتظام ہو سکتا تھا. حالانکہ یہ کھاتا ضرور تھا کے میلے میں احتجاجی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریں گے لیکن منتظمین آزادی اظہار راۓ کو محفوظ رکھنے کے لئے یہ خطرہ مول لے سکتے تھے. نہ صرف رشدی کی شرکت بلکے ویڈیو لنک منسوخ کرنے سے رشدی اور منتظمین نے ہندوستان میں شدت پسند عناصر کو اور زیادہ شے دی ہے اور یہ پیغام دیا ہے اس قسم کے شدید رویوں سے لوگوں کو مؤثر طریقے سے ڈرا دھمکا کر چھپ کرایا جا سکتا ہے.

- ماناؤ بھوشن

مزید پڑھئے:


تبصرے (0)

گوگل کے ترجمے آٹومیٹک مشین ترجمے فراہم نہیں کرتے. ان سے آپ کو کہنے والے کی بات کا لب لباب تو پتا لگ سکتا ہے لیکن یہ آپ کو بات کا بلکل درست ترجمہ بشمول اس کی پیچیدگیوں کے نہیں دے سکتا.ان ترجموں کو پڑھتے وقت آپ یہ بات ضرور ذہن میں رکھیے

  1. آپ کا تبصرہ ماڈریشن کے مراحل میں ہے۔

    Credo che il caso Rushdie abbia un valore particolarmente simbolico. Ogni cittadino, in quanto dotato di questo diritto e dovere di essere tale, dovrebbe impegnarsi contro ogni forma di violenza e intimidazione.
    Nel 2012 non dovrebbero esserci più paesi in cui esprimere i proprio pensieri risulti un pericolo. La violenza nel mondo esiste e quando le persone affrontano questo problema è bene non ostacolarle, ma aiutarle a continuare la loro missione.
    E’ indubbio che gli organizzatori e lo Stato indiano avrebbero dovuto trovare una soluzione al problema. Le intimidazioni non si devono per forza trasformare in azioni. Coloro che pensano di riuscire a fermare l’ondata di giustizia che tumulta negli animi della gente deve capire che il cambiamento è insito nella storia. Ogni paese, ogni epoca è caratterizzata da questa volontà.
    Impegnamoci a difendere i nostri diritti, come ci sono stati dati facilmente ce li possono togliere.
    Come afferma un importante filosofo del diritto italiano Norberto Bobbio "quando le sentinelle della democrazia si assopiscono allora è vicina la catastrofe”.
    Le sentinelle siamo noi. Ognuno di noi deve essere critico e deve cercare di far rispettare i diritti che stanno alla base di una vita dignitosa. Se non si può parlare liberamente la nostra esistenza perde la sua genuinità e la sua sicurezza.
    Il caso sopra presentato deve farci capire che non possiamo fermarci di fronte alle intimidazioni Dobbiamo essere più forti e dobbiamo impegnarci a non temere le conseguenze perchè se non tentiamo, se non lottiamo, non acquisteremo mai nessuna libertà e nessuna giustizia.

کسی بھی زبان میں تبصرہ کیجئے

جھلکیاں

سب ہا‏ئيلائٹس ديکھنے کے ليے دائيں طرف سوا‏ئپ کيجئيے


آزادی اظہار راۓ آکسفرڈ یونیورسٹی کا ایک تحقیقی پراجکٹ ہے جو کہ سینٹ اینٹونی کالج کے ڈیرنڈورف پروگرام براۓ مطالعہ آزادی کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے

اوکسفرڈ يونيورسٹی