آزادی اظہار راۓ پر بحث

تیرہ زبانیں. دس اصول. ایک گفتگو

Log in | اندراج کروائیں | میل کرنے کی فہرست

Loading...
1ہم تمام انسانوں کو بلا کسی رکاوٹ یا سرحد کہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی اور دوسرے لوگوں کے خیالات وصول کرنے کی آزادی ہونی چاہئے.»
2ہم انٹرنیٹ اور دوسرے ذرائع مواصلات کا نجی اور عوامی اداروں کی طرف سے تمام قسم کے غیر قانونی قبضے کے خلاف دفاع کرتے ہے.»
3ہمیں ایک کھلا اور متنوع میڈیا درکار ہے تاکے ہم با شعور فیصلے لیں اور سیاسی زندگی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں.»
4ہم تمام انسانی تفریقات و اختلافات کے بارے میں کھلے اور مہذب طریقے سے بات کرتے ہیں.»
5ہم معلومات پر بحث کرنے اور اس کے پھیلاؤ میں کوئی ٹیبوز کی اجازت نہیں دیتے.»
6ہم نہ تو پرتشدد دھمکیاں دیتے ہیں اور نہ ہی ایسی دھمکیوں کو قبول کرتے ہیں»
7ہم ہر شخص اور مؤتقد کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایمان کے مواد کا بھی کریں»
8ہمیں اپنا حق رازداری محفوظ کرنے اور اپنی ذات و ساخ پر الزامات کا جواب دینے کا حق ہے لیکن یہ حق نہیں کے ہم وسیع تر مفاد کے تحت عوامی چھان بین کو روکیں.»
9ہم ان علمی جائداد کے قانون اور عملیات کے خلاف ہیں جو کہ بلا جواز آزادی اظہار راۓ اور سوالات کو روکے.»
10ہمیں آزادی اظہار راۓ اور معلومات تک رسائی پر ان تمام حدود کو چیلنج کرتے ہیں جن کا جواز قومی سلامتی، عوامی نظم و ضبط اور اخلاقیات ہوں.»

نادان سوچ؟ نا ممکن کام؟

Challenge or comment on the project so far. Help us make it better. Suggest alternative approaches.

3

ہمیں ایک کھلا اور متنوع میڈیا درکار ہے تاکے ہم با شعور فیصلے لیں اور سیاسی زندگی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں.

ٹموتھی گارٹن ایش
ایک ذاتی تعارف

یہ آزادی اظہار راۓ کی ضرورت کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے. ہم واقعے کے حقائق جانے اور اس بارے میں دوسروں کی راۓ سنے بغیر ایک دانشمندانہ فیصلہ کس طرح کر سکتے ہیں؟ اور ہم تمام باشندوں کی راۓ کو مدنظر رکھے بغیر کس طرح ایک مضبوط اور خودمختار ریاست قائم کر سکتے ہیں؟. (مزید…)

کیا آپ اس اصول سے اتفاق کرتے ہیں؟ جی ہاں نہیں

مباحث اور تبادلہ خیال

  • 5566075309_550544f167_z

    George Orwell, Burma and the challenges of freedom

    The 2013 Orwell Lecture was held in Burma at the Irrawaddy Literary Festival by Timothy Garton Ash.

    اپریل 23, 2013 | تبصرات 0
  • 601px-Seal_of_Prime_Ministry_of_the_Republic_of_Turkey.svg

    A Turkish journalist’s censored plea for press freedom

    Kerem Oktem introduces our translation of a column by Hasan Cemal, which his newspaper, Milliyet, refused to print.

    اپریل 12, 2013 | تبصرات 1
  • 402-the-delaunay-bar

    Who should guard the Guardian?

    Alan Rusbridger, editor-in-chief of the Guardian, argues that Britain needs both a free press and reform of its failed regulatory system. Since this will require both time and openness, a new independent press regulator should therefore be given a year's trial run.

    اپریل 2, 2013 | تبصرات 0
  • buildings in Zawiyah damaged in fighting 2011

    Free speech and the gun in Libya

    Libyan media are crippled by their Gaddafi legacy. Without new regulations and, above all, bravery to stand up to violent intimidation, freedom of speech remains a distant dream, writes Jerry Timmins.

    مارچ 29, 2013 | تبصرات 0
  • 8509961275_b2c99ea907_z

    Is Burma Sliding Back Into Censorship?

    For all its talk of press freedom the government has produced a surprise new bill containing oppressive provisions and undermining the press council it created, writes Ellen Wiles.

    مارچ 21, 2013 | تبصرات 0

مزید مباحث

مطالعتی کیس

مزید مطالعتی کیس


آزادی اظہار راۓ آکسفرڈ یونیورسٹی کا ایک تحقیقی پراجکٹ ہے جو کہ سینٹ اینٹونی کالج کے ڈیرنڈورف پروگرام براۓ مطالعہ آزادی کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے www.freespeechdebate.ox.ac.uk