آزادی اظہار راۓ پر بحث

تیرہ زبانیں. دس اصول. ایک گفتگو

Log in | اندراج کروائیں | میل کرنے کی فہرست

Loading...
1ہم تمام انسانوں کو بلا کسی رکاوٹ یا سرحد کہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی اور دوسرے لوگوں کے خیالات وصول کرنے کی آزادی ہونی چاہئے.»
2ہم انٹرنیٹ اور دوسرے ذرائع مواصلات کا نجی اور عوامی اداروں کی طرف سے تمام قسم کے غیر قانونی قبضے کے خلاف دفاع کرتے ہے.»
3ہمیں ایک کھلا اور متنوع میڈیا درکار ہے تاکے ہم با شعور فیصلے لیں اور سیاسی زندگی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں.»
4ہم تمام انسانی تفریقات و اختلافات کے بارے میں کھلے اور مہذب طریقے سے بات کرتے ہیں.»
5ہم معلومات پر بحث کرنے اور اس کے پھیلاؤ میں کوئی ٹیبوز کی اجازت نہیں دیتے.»
6ہم نہ تو پرتشدد دھمکیاں دیتے ہیں اور نہ ہی ایسی دھمکیوں کو قبول کرتے ہیں»
7ہم ہر شخص اور مؤتقد کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایمان کے مواد کا بھی کریں»
8ہمیں اپنا حق رازداری محفوظ کرنے اور اپنی ذات و ساخ پر الزامات کا جواب دینے کا حق ہے لیکن یہ حق نہیں کے ہم وسیع تر مفاد کے تحت عوامی چھان بین کو روکیں.»
9ہم ان علمی جائداد کے قانون اور عملیات کے خلاف ہیں جو کہ بلا جواز آزادی اظہار راۓ اور سوالات کو روکے.»
10ہمیں آزادی اظہار راۓ اور معلومات تک رسائی پر ان تمام حدود کو چیلنج کرتے ہیں جن کا جواز قومی سلامتی، عوامی نظم و ضبط اور اخلاقیات ہوں.»

نادان سوچ؟ نا ممکن کام؟

Challenge or comment on the project so far. Help us make it better. Suggest alternative approaches.

مسکن | مباحث اور تبادلہ خیال | آرٹیکل ١٩: آزادئ اظہار راۓ بین الاقوامی قانون میں مضبوطی سے مربوط ہے

آرٹیکل ١٩: آزادئ اظہار راۓ بین الاقوامی قانون میں مضبوطی سے مربوط ہے

جیف ہاورڈ وضاحت کرتا ہے کہ کسی ریاست کا ICCPR کافریق ہونے کا کیا مطلب ہے اور کس طرح افراد آزادئ اظہار راۓ کی خلاف ورزی سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق میں اپیل دائر کر سکتے ہیں.

ICCPR parties and non-parties

آزادئ اظہار راۓ کو بین الاقوامی قانون میں ثبت کرنے میں سول اور سیاسی حقوق کا بین الاقوامی معاہدہ (ICCPR) مرکزی حیثیت رکھتا ہے. دنیا کے بیشتر ممالک نے اس پر دستخط کیے ہیں اور اس کی توثیق بھی کی ہے. وہ اقوام جنہوں نے دستخط تو کیے ہیں لیکن توثیق نہیں کی ان میں چین، کوموروس، کیوبا، نورو، پلاؤ، ساؤٹومے اور سینٹ لوسیا شامل ہیں.وہ اقوام جنہوں نے نہ تو دستخط کیے اور نہ ہی توثیق کی ان میں سعودی عرب، انٹیگوا اور باربودا، بھوٹان، برونائی، میانمار، فجی، کیریباتی، ملائیشیا، جزائر مارشل، مائکرونیزیا، عمان، قطر، سینٹ کٹس اور نیوس، سنگاپور،جزائر سلیمان، ٹونگا، ٹوالو، متحدہ عرب امارات اور ویٹی کن شامل ہیں.

لیکن ICCPR پر دستخط یا توثیق کرنے کا مطلب کیا ہے؟ اور اگر آپ کا ملک ICCPR  میں فریق ہے (تصدیق کے لئے یہاں دیکھیے)، تو آپ اس کو ذاتی طور پر اپنی انفرادی آزادئ راۓ کو فروغ دینے کے لئے کس طرح استعمال کر سکتے ہیں؟

I. ICCPR  میں فریق ہونے کا مطلب کیا ہے

جب ایک ریاست ICCPR پر دستخط کر دیتی ہے، تو اس پر لازم نہیں کہ وہ اس پر قانونی طور پر کاربند ہو، بلکہ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ وہ اس پر کاربند ہونے کا ارادہ رکھتی ہے، اور تب تک  یہ وعدہ کرتی ہے کے ان تمام افعال سے گریز کرے گی جو اس معاہدے کے اغراض و مقاصد کی نفی کرتے ہیں. توثیق (یا اگر دستخط کیا گیا ہو تو ‘الحاق’) سے ایک ریاست ICCPR کی قانونی طور پر پابند ہوجاتی ہے. بہرحال یہ غیرواضح ہے کہ قانونی طور پر پابند سے دراصل کیا مراد ہے. عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگرکوئی قانون کہیں پر لاگو ہے تو اس پر زبردستی پابندی کروائی جا سکتی ہے. لیکن ICCPR اور دیگر بین الاقوامی قوانین کے بارے  میں یہ کہنا صحیح نہیں. ICCPR کی بین الاقوامی نفاذ کا کوئی سرکاری طریقہ کار موجود نہیں ہے.

تو پھر قانوناً پابند ہونے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا صرف یہ مطلب ہے کے معاہدے توثیق کرنے والے فریق پر لازم ہے کے وہ یہ یقین دہانی کراۓ کہ اس کے داخلی سیاسی نظام ان حقوق کا تحفظ کریں جن کا اعادہ ICCPR میں کیا گیا ہے، ان میں رسمی قانون سے ہٹ کر دیگر اقدامات (مثلاً تربیت اور حوصلہ افزائی) بھی شامل ہیں. اس تحفظ کے نفاذ کے لئے کوئی خاص ادارتی طریقہ کار نہیں تجویز کیا گیا؛ اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق جس کو ICCPR کے خصوصی مطالبات کی تشریح و تعریف کا کام سونپا گیا تھا، کا کہنا ہے کہ:” حکومت کی تمام شاخیں (ایگزیکٹو، قانون ساز اور عدالتی) اور دیگر عوامی یا سرکاری حکام  ہر سطح – قومی، علاقائی یا مقامی – پر اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ ریاستی پارٹی کی زمہ داریوں میں مشغول ہو سکیں.” اس زبان سے حقوق کے تحفظ کا کوئی حتمی طریقہ کار کا تعین نہیں ہوتا، لیکن قنون نافذ کرنے والے اداروں کی شمولیت پر ضرور اصرارسامنے آتا ہے؛ ریاستی جماعتیں “قانونی چارہ جوئی کو ممکنہ بنانے” پر پابند ہیں. ان ممالک کے کافی جیورسٹ بین الاقوامی انسانی حقوق کو داخلی سطح پر لاگو کرنے میں (باوجود معاہدے پر دستخط کے) ہچکچاتے ہیں، کچھ علماء نے وکالت کی ہے کہ ایک ملک کے لیے ICCPR یر کاربند ہونے کا بہترین طریقہ یہ ہے کے اس کے جیورسٹ یہ “دریافت” کریں کہ معاہدے کے حقوق پہلے ہی ان کے ملکوں کی قانونی روایت کا حصّہ ہیں. ایک قانونی عالم نے شناخت کیا ہے کہ آسٹریلیا نے اس وقت ICCPR کی آزادی اظہار راۓ کی شق کو اپنایا جب یہ متعین کیا گیا کہ جمہوری عمل کا حق پہلے ہی اپنے اندر حق اظہار  راۓ کو سموے ہوئے ہے.

جہاں داخلی عدالتی نظر ثانی کی روایت موجود ہو، وہاں بھی عمل کا تمامتر دارومدار ججوں پر ہے کہ وہ ICCPR (یا اس سے متعلقہ داخلی قانونی شقیں جو کہ نظام قانون کو اس کے مطابق رکھتی ہیں) کی قانونی بالا دستی کو نبھانے کی ذمہ داری کو کسقدر سنجیدگی سے لیتے ہیں. ہم اس بنیادی سوال پر آتے ہیں: ایک ملحق یا توثیق شدہ ریاست کے شہری کے لئے کیا قانونی چارہ جوئی دستیاب ہے؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ  آیا آپ کے ملک نے ICCPR میں فریق ہونے کے علاوہ پہلے اختیاری پروٹوکول پڑ بھی دستخط کیا ہے یا نہیں.

 . پہلا اختیاری پروٹوکول  II

 پہلا اختیاری پروٹوکول ایک مخصوص معاہدہ ہے جو شہریوں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق کو شکایات پیش کر سکیں کہ ان کے ملک نے ICCPR کی کسی شق کی خلاف ورزی کی ہے. ایک سو چودہ ممالک اس پروٹوکول سے ملحق یا توثیق شدہ ہیں.ICCPR سے ملحق یا توثیق شدہ ٥٣ ممالک ایسے ہیں جنہوں نے پروٹوکول کی توثیق یا اس سے الحاق نہیں کیا. یہ جاننے کے لئے کہ کیا آپ کا ملک اس کا رکن ہے، یہاں دیکھیے.

پہلے اختیاری پروٹوکول کے تحت،اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق باضابطہ  طور پر پروٹوکول کے فریق ممالک کے شہریوں کی شکایات قبول کرتی ہے، اور فیصلہ کرتی ہے کہ آیا متنازعہ فیہ قوانین یا ریاستی اعمال ICCPR کی رو سے درست ہیں یا اس کے خلاف ہیں. یہ قانونی احکام مستند ہوتے ہیں لیکن قابل نفاذ نہیں.

سابق سوویت ریاستوں کے شہریوں کو اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق میں اپنے کیس جیتنے میں کافی حالیہ کامیابی کا تجربہ ہوا ہے. ٢٠٠٩ میں کمیٹی نے مولونوو اور سعدی بمقابلہ ازبکستان کیس میں فیصلہ سنایا کہ ازبک حکومت نے ایک ایسے اخبار جو تاجک زبان بولنے والوں کو درپیش تعلیمی اور پیشہ ورانہ نا نصافیوں کا  معائنہ کرتا ہے کی رجسٹریشن کی تجدید سی انکار کر کے ازبک شہریوں کی حقوق کی پامالی کی ہے. ٢٠١١ میں کمیٹی براۓ انسانی حقوق نے کنگروو بمقابلہ ازبک حکومت کیس میں فیصلہ سنایا کہ ازبک حکومت نے “جمہوریت اور حقوق” نامی غیر سرکاری ادارے کی رجسٹریشن سے انکار کر کے آرٹیکل ١٩ کی خلاف ورزی کی ہے. ایک اور کیس ٹوکٹکنوو بمقابلہ کیرگیزستان  کا فیصلہ تھا کہ کیرگیزستان کی وزارت قانون نے سزاے موت اور قیدیوں کے اعدادو شمار بہم فراہم کرنے سے انکار کر کے  آرٹیکل ١٩ کے تحت شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے. اور زالسکایا بمقابلہ بیلاروس (٢٠١١) میں، کمیٹی نے شہریوں کے حق میں فیصلہ سنایا جب انہیں دو رجسٹرشدہ اخبارات – تووارش (“کامریڈ”) اور نارودنایا ولیا (“مرضئِ عوام”) – کو پہلے منظوری حاصل کیے بغیر تقسیم کرنے کے جرم میں بھاری جرمانہ عائد کیا گیا.

اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق کا دائرہ فقط مشرقی یورپ تک محدود نہیں. دیساناکیہ بمقابلہ سری لنکا (٢٠٠٨) میں سری لنکا کی پارلیمنٹ کے ایک ممتاز رکن نے دعوی کیا کہ وہ  سپریم کورٹ کے صدر اور وزیر دفاع کے مابین طاقت کی تقسیم سے متعلق شرمناک فیصلے کو ماننے سے انکار کرتے ہیں؛ ان کو توہین عدالت کے جرم میں ٢ سال قید کی سزا سنائی گئی. اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق نے فیصلہ دیا کہ یہ سزا آرٹیکل ١٩ کے تحت ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہے. کولمین بمقابلہ آسٹریلیا (٢٠٠٦) میں اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق نے فیصلہ دیا کہ شہری کونسل نے اجازت نامے کے بغیر کان کنی، زمینی حقوق اور دیگر اہم سیاسی معاملات پر عام تقریر کرنے پر  قید اور جرمانہ عائد کر کے  آرٹیکل ١٩ کے تحت شہری کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے. اور شن بمقابلہ جمہوریہ کوریا (2004) میں اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق نے فیصلہ سنایا کہ ایک تصویر جس میں جنوبی کوریا کو امریکہ کی کٹھ پتلی دکھایاگیا ہے  بنانے کے جرم میں قید کی سزا دے کر آرٹیکل ١٩ کے تحت  مصّورکے حقوق کی خلاف ورزی کی گئی.

 اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق میں دائر کردہ درخواستیں ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتیں. یہاں یہ باور کرانا ضروری ہے کہ ازالے کے تمام داخلی وسیلوں کو آزمانے کے بعد ہی کمیٹی میں شکایت پیش کی جاے ورنہ کمیٹی سماعت نہیں کرتی. کئی کیس کبھی اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق کے زیر غور نہیں آتے مثلاً جب درخواست کنندہ کے ملک میں مزید اعلیٰ عدالت موجود ہو جہاں درخواست دائر کی جا سکتی ہے.ایسی صورت میں اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق کیس پر مزید کسی راۓ کا اظہار نہیں کرتی. حال میں ایسا مشہور واقعہ سید احمد اور عبدالحمید بمقابلہ ڈنمارک (٢٠٠٨) تھا – جو ڈینیش کارٹونوں کے بحران سے متعلق تھا. کیونکہ داخلی سطح پر درخواست پہلے ہی زیر غور تھی کہ آیا اس اخبار کو جس نے محمد کے اشتعال انگیز کارٹون شائع کیے تھے، جرم کا مرتکب ٹھہرایا جا سکتا ہے کہ نہیں، کمٹی براۓ انسانی حقوق نے کیس کی سماعت سے انکار کر دیا.

   اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق معمول میں ایسے کیسوں کی سماعت سے انکار کر دیتی ہے اور ان کو داخلی اداروں کی طرف رجوع کر دیتی ہے جں میں ثبوت غیر توثیق شدہ قرار دیے جائیں. ساما گبونڈو بمقابلہ جرمنی (٢٠٠٨) کیس میں سیرا لیون نژاد جرمن شہری کو بہتان کے جرم میں سزا دی گئی جب اس نے ایک پولیس افسر کو  نقل و حمل کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے دوران نسلی بنیاد پڑ توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے پر، نسل پرست قرار دیا. مجرم کا اصرار تھا کہ سزا  اس کے حق آزادی اظہار کی خلاف ورزی ہے؛ اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق نے فیصلہ دیا کہ دعوی کی جانچ پڑتال کی لیے وجوہات اور ثبوت ناکافی ہیں. ایسے معاملات میں تبصرہ نہ کرنے کا طریقہ کا ر اپنایا جاتا ہے اور داخلی فیصلہ قائم رہنے دیا جاتا ہے.

ایسے کیس بھی ہوتے ہیں جہاں اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق کاروائی کی بعد فیصلہ سناتی ہے کہ ICCPR کی خلاف ورزی نہیں ہوئی. ہرٹزبرگ اور دیگر بمقابلہ فن لینڈ (١٩٨٥) میں اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق نے اس بنیاد پر کہ “زمہ دار قومی حکام کی صوابدید کی گنجائش رہنی چاہیے” یہ فیصلہ دیا کہ فن لینڈ کے مواصلاتی ادارے نے ہم جنس پرستی سے متعلق ٢ ٹیلی ویژن پروگراموں کو سنسر کر کے آرٹیکل ١٩ کےپیرآۓ میں رہتے ہوۓ عمل درآمد کیا ہے. ٢٠٠٨ کے ایک کیس، ڈی جارج اسنسی بمقبلہ اسپین میں جب ایک فوجی کرنل نے شکایات کی کہ ترقی کے عمل میں مناسب انتخابی طریقہ کار نہیں اختیار کیا گیا، تو اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق نے فیصلہ دیا کہ طریقہ کار کے خفیہ ہونے سے اس کے کسی بھی ICCPR سے محفوظ شدہ حق – جس میں معلومات کی رسائی اور حصول سے متعلق آرٹیکل ١٩ بھی شامل ہے – کی خلاف ورزی نہیں ہوئی. نیم بمقبلہ کوریا (٢٠٠٣) میں اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق نے فیصلہ سنایا کہ کورین زبان کی غیر-حکومتی نصابی کتب کی اشاعت پر پابندی کےقانون سے مصنّفوں کے اپنے پیشہ وارانہ علم کے عام اظہار کے حق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی. اور رابرٹ فورسوں بمقابلہ فرانس (١٩٩٦) میں، جو ایک عالم کے آشوٹز میں گیس چیمبر کے وجود سے انکار کے بارے میں تھا، کمیٹی کا فیصلہ تھا کہ فرانس کا گے سوٹ قانون، جس کے تحت نیورمبرگ مقدمات کے نتائج سے اختلاف جرم ہے، آرٹیکل ١٩ کی خلاف ورزی نہیں کرتا.

اگر اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق فیصلہ سنائے کہ ICCPR کی خلاف ورزی ہوئی ہے، تو وہ ممبر ملک کو کیس پر دوبارہ غور کرنے کے لیے “دباؤ” ڈالتی ہے، کئی بار ICCPR سے متنازعہ قانون کو قانونی طور پر ہٹانے اور، کیس کے حساب سے، تعزیری اور متلافی نقصان بھرنے کی بھی تجویز کرتی ہے.  کئی بار اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق کے فیصلے سے داخلی تبدیلی آ جاتی ہے اور کئی بار نہیں. اقوام متحدہ کی کمیٹی براۓ انسانی حقوق ممبر ممالک سے رپورٹ طلب کرتی ہے کہ انہوں نے کس طرح متعلقہ تبدیلی نافذ کی، لیکن بہت دفعہ کمیٹی کو رپورٹ موصول نہیں ہوتی.

 پہلے اختیاری پروٹوکول کے خلاف مزاحمت: امریکی کیس III

جن ممالک نے ICCPR کا ممبر ہونے کے باوجود پہلے اختیاری پروٹوکول پر دستخط نہیں کیا، ان کے لئے رسمی طور پر شکایت کا طریقہ کار موجود نہیں. امریکہ نے سب سے پہلے اختیاری پروٹوکول کے قیام کی حمایت میں ووٹ دیا، اور ابھی تک خود اس کی توثیق کرنے سے منکر ہے. – انسانی حقوق کے گروہ طویل عرصے سے امریکہ کے اس انکار کی تنقید کر رہے ہیں، جو – ICCPR سے متعلق امریکی تحفظات کی طویل فہرست سے مل کر – امریکہ کی داخلی قانونی پریکٹس پر ICCPR کے اثر کو زائل کر دیتا ہے. امریکا کے اس بظاہر بعیدالعقل موقف پر، جہاں وہ ایک طرف تو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی توسیع کی بھرپور وکالت کرتا ہے اور دوسری طرف اس کا پابند ہونے سے مسلسل انکار کر رہا ہے، عالمانہ مباحثوں سے مختلف ممکنہ وجوہات سامنے آتی ہیں. چند مقبول وجوہات میں امریکی سیاسی اور قانونی حلقوں میں امریکی غیر معمولیت کے تصور کا کردار ہے، یعنی: امریکہ اور اس کے ادارے اخلاقی معیار میں دوسری اقوام کے درمیان منفرد ہیں لہٰذا بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون ان کے لئے ہیں جو امریکی آئین کی طرف سے پہلے ہی محفوظ ہونے کی خوش قسمتی نہیں رکھتے. منفی سطح پر علما اس عمومی شک و شبہے اور شاید غرور کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو نہ صرف امریکی عوام بلکہ خواص میں غیر ملکیوں اور دوسری ثقافتوں کے خلاف موجود ہے.  کونزرویٹیو داخلی قانونی مشوروں میں غیر ملکی قانون کی شمولیت کا مذاق اڑاتے ہیں. ایک مورخ نے اس کو “دنیا سے متعلق قبیلہ پرست اور غیر ملکی چیزوں سے متعلق مشکوک نقطہ نظر” کی پیداوار قرار دیا ہے جو جنگ کے بعد سے رائج ہے.

 ایک اور عالم امریکی غیر معمولیت کے تصور کو امریکہ کی انسانی حقوق کے کنونشن کی مزاحمت کی وضاحت کے طور پر قبول نہیں کرتے. چلیے ہم ان کے تجزیے کو پہلے اختیاری پروٹوکول کی سلسلے میں زیر غور لاتے ہیں. وہ امریکی مزاحمت کے ضمن میں چار عوامل کا ذکر کرتے ہیں. پہلا امریکہ کی اہم جغرافیائی و سیاسی طاقت ہے، جس سے سودہ بازی میں اس کا پلڑہ بھاری رہتا ہے. حقیقت پسند بین الاقوامی تعلقات کا نظریہ کہتا ہے کہ اگر ایک قوت ایسے معاہدے کر سکتی ہے جو منصفانہ حد سے بڑھ کر اس کے لئے فائدہ مند ہیں، تو وہ کرے گی. لیکن کیونکہ انسانی حقوق کے کنونشن سودہ بازی کے بجاۓ قانونی طور پر نافذ ہوتے ہیں تو پہلے اختیاری پروٹوکول پر دستخط کر کے امریکہ اپنے مفاد کے لئے دباؤ ڈالنے کی قوت کھو دے گا. اسی طرح شاید اپنے فوجیوں کی مجرمانہ ذمہ داری کے بارے میں خدشات کی بنا پر بین الاقوامی فوجداری عدالت سے امریکی مزاحمت بھی اسی خیال کی تائید کرتی ہے- دوسرا امریکہ میں گہرے اور مستحکم جمہوری ادارے موجود ہیں. جہاں پنپتی ہوئی جمہوریتوں کی اعتدال پسند قیادت شاید نازک ملکی اداروں کو اندرونی خطرات سے بین الاقوامی تحفظ دینا چاہیں، وہاں امریکہ جیسی مستحکم جمہوریت کو اس سے کچھ خاص حاصل نہیں. تیسرا یہ کہ، اس بات سے الگ کہ امریکہ کو پہلے اختیاری پروٹوکول پر دستخط کر کے کوئی خاص فائدہ نہیں، بہت سارا امریکی دایاں بازو، اگرچہ انسانی حقوق کے علمی معیار کا عمومی طور پر قائل ہے، لیکن ان معیاروں کی تفصیل اور تشریح سے اختلاف رکھتا ہے.  اگر جنوب کی عوام واشنگٹن ڈی سی میں بیٹھے اشرافیہ کی دخل اندازی پسند نہیں کرتے تو غیرملکیوں کے اس عمل کی مزید شدّت سے مخالفت حیران کن نہیں. آخر میں یہ کہ امریکی سیاسی نظام انتہائی غیر مرکزی ہے؛ نظام جتنا غیر مرکزی ہو گا ویٹو کے اتنے ہی مواقع ہوں گے اور بین الاقوامی زمہ داریوں کا قبول کیا جانا اتنا ہی کم ممکن ہے. اس نظریے کی تعمیم کی جا سکتی ہے: علاقائی غلبے، جمہوری استحکام، نظریاتی قدامت پرستی، اور غیر مرکزیت سب بین الاقوامی کنونشنز، خاص طور پر پابند کرنے والی کنونشنزکی منظوری کے خلاف جاتے ہیں. یہ تجزیہ پہلے اختیاری پروٹوکول اور خود ICCPR، دونوں پر لاگو ہوتا ہے. سعودی عرب، جس کا ہم آخری حصے میں تجزیہ کریں گے، علاقائی طور پر غالب بھی ہے اور نظریاتی طور پر قدامت پسند بھی. اس نے نہ تو ICCPR پر دستخط کے ہیں اور نہ ہی اس کی توثیق کی ہے.

IV. ICCPR کے خلاف مزاحمت: چینی کیس (دستخط بغیر توثیق)

انیس سو ستتر میں ICCPR پردستخط کرنے کی بعد آخرکار امریکہ نے ١٩٩٢ میں اس کی توثیق کردی. یہ تاخیر شاید ایک رجحان بن گئی: اگرچہ چین نے ICCPR پر ١٩٩٨ میں دستخط کر دیے تھے لیکن اب تک توثیق نہیں کی. چینی حکومت نے ICCPR کی توثیق کے ارادے سے متعلق کئی سرکاری دستاویزات جاری کی ہیں تاہم کوئی مخصوص ٹائم لائن فراہم نہیں کی. مثلاّ ایک دستاویز میں ہے:” چین نے سیاسی اور شہری حقوق کے بین الاقوامی عہد پر دستخط کر دیے ہیں اور اس معاہدے کے ساتھ بہتر منسلک ہونے کے لئے قانونی، عدالتی اور انتظامی اصلاحات جاری رہیں، تاکہ ICCPR کی توثیق کی راہ ہموار کی جاۓ”.

بہرحال اس بات کی کوئی سرکاری وضاحت نہیں کی گئی کہ ICCPR کی عہدنامے اور  چینی داخلی قوانین کے مابین آخر وہ کون سے تنازعے ہیں جن میں مفاہمت کی ضرورت ہے. سرکاری قانونی علما کے مطابق اس کا آرٹیکل ١٩ کے آزادی اظہار راۓ کے حق کے تحفظ کی شق سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ آزادئ اظہار راۓ کا حق تو پہلے ہی چینی آئین کے آرٹیکل ٣٥ کے تحت محفوظ ہے. قانونی بحثوں سے دو اہم نکات ظاہر ہوتے ہیں، سزاۓ موت اور مشقت کے ذریعے دوبارہ تربیت. کیونکہ تعزیرات چین میں بہت سے مبہم جرائم (مثلاً عوامی نظم و ضبط یا عوام کے تحفظ کو خطرے میں ڈالنا) کی سزا موت ہے. چین کے “مشقت کے ذریعے تربیت” کی نظام کے تحت چھوٹے جرائم مثلا چھوٹی موٹی چوری یا عصمت فروشی پر لوگوں کو ٣ سال تک لیبر کیمپ میں رکھ کر مشقت کروائی جا سکتی ہے. یہ سزائیں عدالتی نظام کے بجاۓ پولیس جاری کرتی ہے، جو ICCPR کے آرٹیکل 9.4 کے خلاف ہے. مفاہمت کی راہ میں دیگر مسائل میں آرٹیکل ١٢ کی کھلی نقل و حرکت کی ضمانت شامل ہے جو چین کے حوکو رہائشی پرمٹ کے نظام کے خلاف ہے. اور آرٹیکل ٢٢.١ میں موجود ایسوسی ایشن کی آزادی کی حفاظت جس کے تحت ٹریڈ یونین کی تشکیل اور اس میں شامل ہونے کا حق حاصل ہے، چین کے قانون کے خلاف ہے جس کے تحت آل چین ٹریڈ یونین نظام سے الگ یونین بنانا ممنوع ہے.

چین میں ICCPR سے مفاہمت کی سست رفتار کے حق میں دلائل میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ انسانی حقوق کے مکمل تحفظ کے لئے اقتصادی ترقی ناگزیر ہے. دعوی یہ ہے کہ وقت سے پہلے انسانی حقوق کے نظام کو اپنانا چین کی ترقی کے دور کو، جو تمام چینیوں کو مادی ترقی اور خوشحالی دے گا، مجروح کر دے گا. جیسا کہ چین کے ایک اسٹیٹ کونسلر نے ٢٠٠٥ میں کہا: ” علاقے میں انسانی حقوق کی ترقی کی راہ میں سب سے اہم رکاوٹ غربت ہے. لہذا ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم ترقی کو – یعنی اقتصادی، معاشرتی اور ثقافتی حالات کو – سب سے زیادہ اہمیت دیں.” لیکن ان بیانات سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کی مخالفت میں بتدریج کمی ہو گی؛ لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا. چینی حکام کے بیانات کو ذرا شک کی نظر سے ہی دیکھنا چاہیے؛ نیویورک ٹائمز نے حال ہی میں رپورٹ شائع کی ہے کہ چینی حکام “میڈیا اور انٹرنیٹ پر سخت ترین حدود کی حمایت کر رہے ہیں.”

    سے مزاحمت: تحفظات اور اعلاناتICCPR .V

اگر چین ICCPR پر دستخط اور اس کی توثیق کر دے گا تو یقیناً بہت سے دیگر ممبران کی پیروی کرتے ہوۓ واضح تحفظات کے ساتھ: ایسی شرائط جو معاہدے سے ان کی وابستگی کی حدود ظاہر کرتی ہیں. اگرچہ تحفظات عہدنامے کے”اغراض و مقاصد” کے متضاد نہیں ہو سکتیں، لیکن یہ سرکاری حکام کے نظریاتی اور اپنے مفاد کی بنیادوں پر ICCPR سے اختلاف کی عوامی علم میں موجود ننگی مثالیں ہیں. کچھ علما اور کارکن تحفظات کو ایسا عمل جانتے ہیں جو معاہدے کے بنیادی مقاصد کو خطرے میں ڈالے بغیر اخلاقی اختلاف راۓ، تشریحی اور ادارتی تفریق کی اجازت دیتا ہے؛ جب کہ دوسرے اس کو تنگ نظر ممالک کے لئے ایسی راہ سمجھتے ہیں جس کے زریعے وہ انسانی حقوق کو کھوکھلا کرنے کے باوجود ICCPR کے دستخط کنندہ ہونے کا دعوی کر سکتے ہیں.

بحرین ایک اہم مثال ہے: وہ صنفی امتیاز کے خلاف دفعات (شق ٣)، مذہبی آزادی (شق ١٨)، اور خاندان کے حقوق (شق ٢١) کو یوں تشریح کرتا ہے کہ: “اسلامی شریعت کے اصولوں پر کسی بھی طرح اثرانداز نہیں” ( یہاں پر یہ بات نوٹ کی جاۓ کہ بحرین پہلے اختیاری پروٹوکول کا ممبر نہیں؛ اس کے شہریوں کے پاس شکایت کا کوئی سرکاری طریقہ کار موجود نہیں). یہاں یہ بحث کی جا سکتی ہے کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی گروہ میں یہ قلیل شمولیت انسانی حقوق کو مکمل تسلیم کرنے کی جانب  ارتقاء کے سست عمل کی شروعات ہیں. پاکستان ایک اور ایسا ملک ہے جس نے ICCPR کی شقوں کی پاکستان کے جزوی طور پر شرعی قانون کی بنیاد پر بنے ہوۓ آئین سے مطابقت کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے. بہرحال ناقدین کا اصرار ہے کے اس قسم کے تحفظات ان ممالک میں آزادی کی تگ و دو کو فروغ دینے کے بجاۓ کمزور کرتے ہیں.

 آرٹیکل ١٩ سے متعلق جں تحفظات کا حوالہ سب سے زیادہ دیا جاتا ہے وہ ممالک کی تمام مواصلات کے لئے لائسنس کی ضرورت کو برقرار رکھنے کی خواہش ہے؛ لکسمبرگ، موناکو، آئر لینڈ اور اٹلی، سب ان تحفظات میں شامل ہیں.  آرٹیکل ١٩ سے متعلق مالٹا کی تحفظات میں سے ایک یہ تشریح ہے کہ یہ اس مطالبے کے مطابق ہو کہ کام کے اوقات کے دوران سرکاری افسران کو فعال سیاسی بحث میں شامل ہونے کی اجازت نہیں. اس سے بھی زیادہ پریشان کن یہ ہے کہ مالٹا آرٹیکل ١٩ کو اس داخلی قانون سے تسلسل میں  قرار دیتا ہے جس کا مقصد “غیرملکیوں کی سیاسی سرگرمیوں کی حدود کو قابو میں رکھنا” ہے.

VI. ICCPR کے خلاف مزاحمت: سعودی عرب کا کیس (نہ ہی دستخط اور نہ ہی توثیق)

 سعودی عرب نے نہ تو ICCPR کو مانا ہے، نہ اس پر دستخط کیے ہیں اور نہ ہی اس کی توثیق کی ہے. چونکہ خارجہ پالیسی کے بارے میں سعودی عرب میں کوئی شفاف سیاسی بحث و مباحثہ منظر عام پر نہیں لہذا ICCPR کے دستخط اور توثیق نہ کرنے کی صحیح وجہ کاانتخاب کرنا مشکل ہے.  پہلے اختیاری پروٹوکول کے تحت نفاذ کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں، اس لئے اس جھجھک کی وجہ زبردستی نفاذ کا خوف نہیں ہو سکتی. صنف کی بنیاد پر امتیازی سلوک جاری رکھنے کے باوجود سعودی عرب نے عورتوں کے خلاف امتیازی سلوک کی تمام اقسام کے خاتمے کے کنونشن کی توثیق کر دی ہے. پھر ICCPR پر دستخط کیوں نہیں کرتا؟

چلیے سعودی عرب کی جانب سے کسی اصولی دلیل کا تصور کرتے ہیں. اس ممکنہ وضاحت کی بنیاد اس نقطہ نظر پر ہے کہ ICCPR دراصل ایک بین الاقوامی معاہدہ نہیں، اور یہ واقعتاً تمام معاشروں کی اجتماعی اخلاقیات کے بیان کی جدوجہد نہیں ہے.  بلکہ یہ ایک مخصوص مغربی معاہدہ ہے جو انسانی حقوق کا ایک ایسا نقطہ نظر پیش کرتا ہے جو سعودی عرب کے لوگوں کی اخلاقی قدروں اور عزائم سے مختلف ہے. لہذا یہ کہنا درست ہو گا کہ یہ مغرب کی مصنوعات میں سے ہے جو کہ ان لوگوں کے گہرے عقائد کی نمائندگی نہیں کر سکتا جو انسانی وقار سے متعلق مغربی نقطہ نظر کی تشریح سے بنیادی اختلاف رکھتے ہیں. مشرق وسطی کی ضرورت مختلف ہے – جو اس کے پاس موجود ہے: 2004 کا انسانی حقوق پر عرب چارٹر، ایک عالم کے مطابق یہ سعودی قیادت میں “اس تاریخی اور بنیادی سوال کہ آیا اسلامی اصول انسانی حقوق کی عالمیت سے مطابقت رکھتے ہیں سے نمٹنے کا نیا فارمولا” بنانے  کی کوشش ہے. ICCPR  سے کمتر حقوق کا تذکرہ کر کے اس چارٹر کا جواب “ہاں” میں ہے.

 لہذا سعودی یہ بحث کر سکتے ہیں کہ: ہم ICCPR پر دستخط یا اس کی توثیق کیوں کریں جب ہمارے پاس ہماری اپنی دستاویز موجود ہے جو ہماری اقدار سے بہتر مطابقت رکھتی ہے؟ اس جواب سے انسانی حقوق کے محافظ مطمئن نہیں ہوں گے جو یہ سمجھتے ہیں کہ لبرل جمہوریت صرف ایک مغربی اختراع نہیں بلکہ عالمی سطح پر حکومت کا صحیح نظام ہے. جب اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کے عرب ممالک سے توثیق شدہ عرب چارٹر کے تصور پر جوش و خروش کا اظہار کیا (1994 کے عرب چارٹر کے برخلاف جس کی کبھی توثیق نہیں ہوئی)، تو اس کا یہ خیال نہیں تھا کہ یہ اخلاقی طور پر ایک قلیل دستاویز ہو گی. 2004 کا چارٹر پہلے پہل اقوام متحدہ کے منتخب شدہ عرب ماہرین کا بنایا ہوا تھا، اور ICCPR سمیت مختلف انسانی حقوق کی دستاویزات سے ماخوذ تھا. لیکن عرب لیگ نے اس میں حد درجہ ترامیم کی. جیسا کہ ایک عالم نے نوٹ کیا، ” چند بنیادی ترامیم کی گئیں جن کی وجہ سے بد قسمتی سے چند دفعات بین الاقوامی قانون سے متضاد ہو گئیں اور چند اہم شقیں خارج کر دی گئیں”. کارکن اور علما عرب چارٹر کے١٩٩٠ کے اسلام میں انسانی حقوق کے قاہرہ اعلانیہ کے منظوری تذکرے سے خصوصی طور پر فکرمند ہیں جس میں تمام انسانی حقوق کو واضح طور پر شرعی قانون کے ماتحت قرار دیا گیا تھا؛ ایک عالم کے مطابق یہ منظوری عرب چارٹر کی “سالمیت کو مشکوک کر دیتی ہے”. آزادئ اظہار راۓ کے موضوع پر چارٹر “سرحدوں سے قطع نظر معلومات کے حصول کا حق، راۓ اور اظہار کے حق کی آزادی، معلومات کی تمام ذرائع سے تلاش، حصول اور ترسیل کا حق” – جو کہ انسانی حقوق کے عالمی منشور سے ماخوذ ہے – کی  یقین دہانی کرتا ہے، تاہم آرٹیکل ٣٢ (٢) میں اس انتباہ کا اضافہ کرتا ہے کہ یہ تمام حقوق اور آزادیاں معاشرے کے بنیادی فریم ورک میں عمل پذیر ہوں گی. پابندیاں صرف وہاں عائد ہوں گی جہاں دوسروں کے حقوق یا نیک نامی کی حفاظت کا سوال ہو یا پھر قومی سلامتی، عوامی نظم و ضبط، صحت یا اخلاقیات کی حفاظت کا معاملہ ہو”.

ہم ان اضافاجات کا مذاق اڑائیں یا ان کو عرب دنیا کی آزادی کی سست راہ میں ضروری تاخیر سے تاویل کریں ، زیر بحث ہے. کئی علما کا خیال ہے کہ اسلامی معاشرے صرف اس وقت لبرل اقدار کی حمایت کریں گے جب رائج قرانی تفاسیر لبرل جمہوریت کو بنیادی اسلامی اصولوں کا منتقی تسلسل قرار دیں گی، اور اس میں وقت درکار ہے. “عرب بیداری” سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ “وقت درکار ہے” کی دلیل شاید صرف عرب جابر حکمرانوں کے لیے یہ کہنے کا سہل بہانہ ہو کہ ابھی ان کے لوگ جمہوریت کے لیے “تیار نہیں”.

تمام باتوں سے قطع نظر، عرب چارٹر کو ICCPR کے متبادل کے طور پر فروغ دینے اور ICCPR پر دستخط یا اس کی توثیق سے انکار کر کے، سعودی عرب نے (اپنے سربراہوں کے مطابق ) اسلامی سیاسی اقدار کی ضروریات کے دفاع میں مرکزی کردار اختیار کیا ہے. ایسا کرنے سے وہ سعودی عرب کے اس دوسرے تصور کے برعکس گیا ہے جو اس کے مغربی قوتوں سے قریبی تعلقات کی بنا پر اس کو اسلامی دنیا کی قیادت کے لئے نا اہل کرتا ہے – اور جس تصور کو ایران فروغ دینا چاہتا ہے.

(اضافی تحقیق جیکب ایمس)

 

Print
Published on: فروری 10, 2012 | 6 تبصرے

تبصرے (6)

گوگل کے ترجمے آٹومیٹک مشین ترجمے فراہم نہیں کرتے. ان سے آپ کو کہنے والے کی بات کا لب لباب تو پتا لگ سکتا ہے لیکن یہ آپ کو بات کا بلکل درست ترجمہ بشمول اس کی پیچیدگیوں کے نہیں دے سکتا.ان ترجموں کو پڑھتے وقت آپ یہ بات ضرور ذہن میں رکھیے

  1. Essoulami says:

    Hi Jeff,

    Congratulations for the good project you launched. I just have one question. Wich is the country in red in North Africa which has not ratified the CCPR? Mauritania has and also Morocco. Are you singling out Western Sahara which no a state at all to be party to any international convention? Please explain to me this red colour there and which you do not ention in your introduction.

    All the best,

    Said Essoulami

  2. Martinned says:

    @Essoulami: That’s the Western Sahara, whose exact status under international law has been unclear for several decades. Most people these days tend to simply accept the reality on the ground and count it as a part of Morocco, but technically that is not correct.

  3. Martinned says:

    And for the lawyers, just the actual free expression language of the ICCPR and the ECHR:

    Art. 19 ICCPR:
    1. Everyone shall have the right to hold opinions without interference.

    2. Everyone shall have the right to freedom of expression; this right shall include freedom to seek, receive and impart information and ideas of all kinds, regardless of frontiers, either orally, in writing or in print, in the form of art, or through any other media of his choice.

    3. The exercise of the rights provided for in paragraph 2 of this article carries with it special duties and responsibilities. It may therefore be subject to certain restrictions, but these shall only be such as are provided by law and are necessary:

    (a) For respect of the rights or reputations of others;

    (b) For the protection of national security or of public order (ordre public), or of public health or morals.

    Article 10 ECHR:
    1. Everyone has the right to freedom of expression. This right shall include freedom to hold opinions and to receive and impart information and ideas without interference by public authority and regardless of frontiers. This article shall not prevent States from requiring the licensing of broadcasting, television or cinema enterprises.

    2. The exercise of these freedoms, since it carries with it duties and responsibilities, may be subject to such formalities, conditions, restrictions or penalties as are prescribed by law and are necessary in a democratic society, in the interests of national security, territorial integrity or public safety, for the prevention of disorder or crime, for the protection of health or morals, for the protection of the reputation or rights of others, for preventing the disclosure of information received in confidence, or for maintaining the authority and impartiality of the judiciary.

  4. jeffhoward says:

    @Essoulami and @Martinned:

    Thanks to you both for your contributions. I did not include Western Sahara in the introduction precisely because of its disputed status in international law. Morocco does control most of the territory as a de facto matter, but many countries — more than 50 — recognize the Sahrawi Arab Democratic Republic as the rightful sovereign, though it only controls a small portion of the territory.

    This issue raises the crucial matter of what Hannah Arendt called “the right to have rights”: the thesis that unless one has status as a legal subject within a particular recognized state, one cannot have any of the further protections that we take so seriously. Statelessness, on this view, is a fate we would not wish on our own worst enemy.

    My question is whether this view is outdated. How crucial IS a state on this view to the protection of freedom of expression? We can think about this question by considering a familiar objection to international human rights practice. Critics of the ICCPR note that it lacks coercive bite: so long as we retain the familiar order of nation states, in which internal high courts are the last line of appeal, there won’t be any international enforcement mechanism unless states collectively cede that feature of their sovereignty. Of course, we do see innovations on this front, such as the European Court of Human Rights; however, while its decisions are usually complied with, the court does not yet have the power to itself strike domestic laws invalid. This raises the issue: even if our state is a party to the ICCPR, protecting free expression in such a state is not and never shall be something that can be outsourced entirely to legal authorities. It is the enduring responsibility of all citizens — in their families and religious organizations and civil society groups and businesses, here and there — to advocate tirelessly for its continued maintenance. And if THAT is true, what share of the burden even can the law carry? How important is the law to freedom of expression? Would be really interested to hear people’s thoughts.

  5. ThinkRights says:

    I’m just wondering how this all fits with the UK Terrorism Act 2006 (pt1 s 3 relating to internet activity). Can limiting the fundamental right to freedom of expression in relation to “statements considered likely to be understood by some or all of the members of the public…as a direct or indirect encouragement or other inducement to them to the commision, preparation or instigation of acts of terrorism” be justfiied in terms of national security?

  6. jeffhoward says:

    @ThinkRights:

    Really interesting question. Section 3(b) of Article 19 stipulates that “the protection of national security or public order” can justify restrictions on free speech rights, so long as the restrictions “are provided by law and are necessary”. Like so many provisions in international law, the use of the word “necessary” here is frustratingly vague (a predictable consequence of the fact that ICCPR was a negotiated agreement among numerous countries with divergent guiding political philosophies). “Necessary” will be, and has been, predictably interpreted by different countries in whatever way that facilitates their own restrictions on free speech. But let us suppose that a restriction is necessary if its enactment would, in fact, (a) impact a reasonably great majority of potential cases in which the permitted exercise of free speech would actually imperil national security by endangering lives or causing serious criminal harm and (b) would impact very few other kinds of cases. (I add this condition [b] since suspending all free speech rights on all topics, always, might be thought to yield considerable benefits for national security, as terrorist communications are a set of the total amount of communications; however, this would make the “necessary” condition far too weak to satisfy.)

    So the question becomes: does the UK Terrorism Act satisfy these conditions? One worry stems from Part I, Section 1, in which the act stipulates that “a person commits an offence” of encouraging terrorism if “he publishes a statement to which this section applies or causes another to publish such a statement, and…at the time he publishes it or causes it to be published, he….intends members of the public to be directly or indirectly encouraged or otherwise induced by the statement to commit, prepare or instigate acts of terrorism or Convention offences; or…is reckless as to whether members of the public will be directly or indirectly encouraged or otherwise induced by the statement to commit, prepare or instigate such acts or offences.” It is the provision of “recklessness” that flags immediate alarm bells, and signals a worry that the act could be applied in such a way to violate condition (b) above. More specifically, it raises a worry that people engaging in such exercises as political satire could be held to have committed a crime under this act, despite the fact that it is unlikely they would, in fact, be seen as encouraging terrorism — and thus endangering national security — through their satire.

    Making criminally liable those who recklessly fail to take precautions to ensure that the public will not construe their publications as encouraging terrorism obviously has its point; we do not want people in positions of influence to use ambiguous language when, for example, discussing a putatively unjust Western policy, and the putatively understandable character of terrorist acts committed in ostensible response to such a policy. People need to take care that they are not advocating terrorism. But is the brush too broad? Especially given the fact that internet publications count, might some immature blogger be criminally liable? Or should we trust legal authorities to make the right decisions?

کسی بھی زبان میں تبصرہ کیجئے


آزادی اظہار راۓ آکسفرڈ یونیورسٹی کا ایک تحقیقی پراجکٹ ہے جو کہ سینٹ اینٹونی کالج کے ڈیرنڈورف پروگرام براۓ مطالعہ آزادی کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے www.freespeechdebate.ox.ac.uk