آزادی اظہار راۓ پر بحث

تیرہ زبانیں. دس اصول. ایک گفتگو

Log in | اندراج کروائیں | میل کرنے کی فہرست

Loading...
1ہم تمام انسانوں کو بلا کسی رکاوٹ یا سرحد کہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی اور دوسرے لوگوں کے خیالات وصول کرنے کی آزادی ہونی چاہئے.»
2ہم انٹرنیٹ اور دوسرے ذرائع مواصلات کا نجی اور عوامی اداروں کی طرف سے تمام قسم کے غیر قانونی قبضے کے خلاف دفاع کرتے ہے.»
3ہمیں ایک کھلا اور متنوع میڈیا درکار ہے تاکے ہم با شعور فیصلے لیں اور سیاسی زندگی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں.»
4ہم تمام انسانی تفریقات و اختلافات کے بارے میں کھلے اور مہذب طریقے سے بات کرتے ہیں.»
5ہم معلومات پر بحث کرنے اور اس کے پھیلاؤ میں کوئی ٹیبوز کی اجازت نہیں دیتے.»
6ہم نہ تو پرتشدد دھمکیاں دیتے ہیں اور نہ ہی ایسی دھمکیوں کو قبول کرتے ہیں»
7ہم ہر شخص اور مؤتقد کا احترام کرتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایمان کے مواد کا بھی کریں»
8ہمیں اپنا حق رازداری محفوظ کرنے اور اپنی ذات و ساخ پر الزامات کا جواب دینے کا حق ہے لیکن یہ حق نہیں کے ہم وسیع تر مفاد کے تحت عوامی چھان بین کو روکیں.»
9ہم ان علمی جائداد کے قانون اور عملیات کے خلاف ہیں جو کہ بلا جواز آزادی اظہار راۓ اور سوالات کو روکے.»
10ہمیں آزادی اظہار راۓ اور معلومات تک رسائی پر ان تمام حدود کو چیلنج کرتے ہیں جن کا جواز قومی سلامتی، عوامی نظم و ضبط اور اخلاقیات ہوں.»

نادان سوچ؟ نا ممکن کام؟

Challenge or comment on the project so far. Help us make it better. Suggest alternative approaches.

مسکن | مطالعتی کیس | ترکی میں ‘مذہبی نوجوان’ بڑے کرنا

ترکی میں ‘مذہبی نوجوان’ بڑے کرنا

ارم کوک اور فندا استک ہمیں ایک ایسے قانون کے بارے میں بتاتے ہیں جس کے تحت والدین اپنے بچوں کو چھوٹی عمر سے اسلامی سکول بھیج سکتے ہیں اور جس نے ترکی میں سماج کو تقسیم کر دیا ہے.

Turkish PM Erdogan Holds Final Pre Election Rally
(Photo by Burak Kara/Getty Images)

کیس

فروری ٢٠١٢ میں ترکی کے وزیر اعزم نے اپنی حکومت کی اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ ‘مذہبی نوجوانوں کی ایک نسل کو بڑا’ کرنا چاہتے ہیں. مذہبی آزادی جدید ترکی میں مختلف ادوار سے گزرا ہے: ١٩٢٠ سے ابھی تک فوج کی نگرانی کے نیچے ملک کی سیکولرزم؛ ١٩٨٠ کے فوجی کو کے بعد دبے ہوئے بائیں بازو کے مقابلے میں اعتدال پسند اسلام کی کلبندی؛ ١٩٩٠ کی دھائی کے دوران اسلامی سیاست کے خلاف لڑائی کی کوشش اور اے کے پی کا ٢٠٠٢ کے بعد سے اکثریت میں ہونا؛ یہ سب ترکی میں سیاست اور مذہب کی تاریخ میں اہم سنگ میل ہیں. لیکن اردوگان کے تبصرات کی بنا پر فوجی اثر ٠ رسوخ سے باہر ایک قدامت پسند حکومت کا مذہبی رجحان بڑھانے کے بارے میں ایک نئی بحث چھڑ گئی. اس بات سے ترکی میں دوسری مذہبی اور غیر مذہبی اقلیتوں کے مقام پر بھی ایک شدید بحث چھڑی جیسے کے علوی، عیسائی، یہودی اور خدا پر نا یقین رکھنے والے لوگ (ترکی میں مذہبی تعلیم پر ایک تفصیلی تجزیے کے لئے آپ اقوامی متحدہ کی رپورٹ یہاں پڑھ سکتے ہیں).

وزیراعزام کے تبصرات کے بعد یہ تنقید کی گئی کے ان سے ملک کے لوگ مذہبی اور غیر مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہو جایئں گے. رپبلکن پارٹی، جو کہ سیکولرسٹ خیالات کے محافظ سمجھے جاتے ہیں، کے لیڈر کمال کلچداروگلو نے اردوگان کو ملک کو دو حصّوں میں تقسیم کرنے کے الزام میں ایک ‘دین بیچنے والا’ قرار دے دیا. اس کے جواب میں اردوگان نے کہاں کہ ایک قدامت پسند، جمہوری پارٹی ہونے کے طور پر ان کی حکومت ایک ‘ایسی نسل کو بڑا کرنا چاہتے ہیں جو کہ قدامت پسند اور کمہوری ہو، اور اپنی قوم کی روایتی اور تاریخی اقدار کو قبول کرے’، لیکن وہ ایک ایسی نسل کو فروغ نہیں دیں گے جو خدا کو مانتی ہی نہ ہو. انہوں نے ‘سڑک پر بسنے والے، انھیلنٹ پر انحصار کرنے والے بچوں’ کی مثال دیتے ہوئے یہ کہنے کی کوشش کی کے مذہبی نوجوان اخلاق اور اقدار کو اپنائیں گے نا کہ ایک ایسی غیر مذہبی نسل جس کی زندگی میں مقصد اور اخلاق دونوں ہی کی کمی ہو.

مصنف کی راۓ

ہم سمجھتے ہیں کے حکومت کا ایک ٹاپ ڈاؤن طریقے سے ایک مذہبی نسل کو بڑا کرنے کا تعلیمی پروگرام کئی وجوہات کی بنا پر غلط ہے. اولا ایک خاص سوچ سمجھ رکھنے والی نسل کو بڑا کرنے کا مقصد ہی جمہوریت کی بنیادی روح کے خلاف ہے کیوں کے اس کی وجہ سے پوری قوم میں ایک ہی راۓ غالب ہو جاۓ گی اور لوگوں کے پیس اختلاف راۓ کی چوائس ختم ہو جاۓ گی. جمہوریت کا مقصد تمام نقاط نظر کو کھلے اور مہذب طریقے سے سننا ہے نا کہ ریاست کی خواہشات کے بنیاد پر کسی ایک نقطہ نظر کو دوسرے پر حاوی کر دیا جاۓ.

دوسرا یہ کہ ترکی میں مذہبی تعلیم (جو کے زیادہ تر سننی اسلام کے حنفیہ عقیدے سے تعلق رکھتی ہے) کی بنیاد پر پہلے ہی تفریقی نتائج دیکھے جا چکے ہیں. غیر مسلم طالب علموں کے لئے یہ کلاس لینا ضروری نہیں لیکن یہ حق علویوں اور دوسرے ایمان نا رکھنے والوں کو یہ حق حاصل نہیں کیوں کے اس کلاس کو مذہب نہیں بلکہ ‘عالمی تہذیبات’ کے زمرے میں دیکھا جاتا ہے. ترکی کے تعلیمی سسٹم پر از بخد غور کرنے کے بعد (فنڈا) میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ عیسائی اور یہودی طالب علموں کو ہماری جماعت سے الگ کرنے کے نتیجے میں ایک ‘ہم بمقابلہ وہ’ ذہنیت پنپی گئی اور یہ بات ذہین میں بس گئی کہ وہ لوگ کبھی ‘ہم’ میں سے نہیں ہو سکتے. تیسرا ہمیں اس بات پر پکا یقین ہے کہ ‘ہر انسان کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی آزادی ہونی چاہئے، جب تک کے وہ دوسروں کو یہ ہی کرنے سے نہیں روکتا یا روکتی’ (اصول ٧ کا تعارف دیکھئے). ایک مذہبی نسل کو بڑا کرنے کا مقصد ہمارے کسی مذہب میں یقین کرنے یا نا کرنے کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے جو کہ ایک بنیادی انسانی حق ہے: یانی کے امان رکھنے (یا نا رکھنے) کا حق. چوتھا یہ بات کے مذہبی ہونے سے آپ کے اخلاق بہتر ہوتے ہیں اور غیر مذہبی ہونے سے یہ اچھے نہیں ہوتے بہت ہی کمتری دکھانے والا اور غلط جواز ہے. انسان کے اچھے اخلاق رکھنے کے پیچھے وجوہات اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہیں. اور آخر میں یہ بات عجیب ہے کے اردوگان. جنہوں نے دوسرے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے سیکولر ہونے کی تجویز پیش کی ہے، کھلے طور پر ایک مخصوص مذہبی نقطہ نظر کو فروغ دے رہے ہیں اور اس نقطہ نظر کو نوجوان نسل میں پھیلانے کی اپنی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں.

ہمارے خیال میں ترکی میں موجودہ اکثریتی سننی اسلام اور غیر مذہبی و اقلیتی جماعتوں کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں ایک ‘مذہبی نوجوان نسل’ کو بڑا کرنے کی خواہش بہت مشکل اور پریشانکن بات ہے. سیاسی پارٹیوں کے مذہب کے بارے میں کچھ مخصوص نظریات ہو سکتے ہیں لیکن اگر ان کو حکومت بنانے کے لئے ووٹ مل بھی جائیں تو ان کو یہ حق نہیں حاصل کے وہ اپنے عقائد اور نقطہ نظر کی بنیاد پر دوسروں کو ان سے مطابقت کرانے کا ایک سماجی انجنیرنگ پراجکٹ شروع کر دیں.

- ارم کوک اور فندا استک
Print
Published on: اپریل 18, 2012 | 1 تبصرہ

تبصرے (1)

گوگل کے ترجمے آٹومیٹک مشین ترجمے فراہم نہیں کرتے. ان سے آپ کو کہنے والے کی بات کا لب لباب تو پتا لگ سکتا ہے لیکن یہ آپ کو بات کا بلکل درست ترجمہ بشمول اس کی پیچیدگیوں کے نہیں دے سکتا.ان ترجموں کو پڑھتے وقت آپ یہ بات ضرور ذہن میں رکھیے

  1. I think that when a Prime Minister, Turkish or of whatever country, says that religious youth would embrace morals and values as opposed to a non-religious youth who would lack both morals and a purpose in life, he doesn’t know what he is talking about. To try to reason with such a person, to try to tell him that God doesn’t exist and that all the religious thought in the world is deadly negative for mankind, is useless.
    I think that sooner or later, the sooner the better, politicians and priests of all countries should be sent to life retirement, otherwise, our planet in their hands will have a short life.
    Who will take their position? Anyone, even a baboon will create a better place where to live.

کسی بھی زبان میں تبصرہ کیجئے


آزادی اظہار راۓ آکسفرڈ یونیورسٹی کا ایک تحقیقی پراجکٹ ہے جو کہ سینٹ اینٹونی کالج کے ڈیرنڈورف پروگرام براۓ مطالعہ آزادی کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے www.freespeechdebate.ox.ac.uk