پاکستان میں توہین رسالت قانون اور تشدّد پسندی
٢٠٠٩ میں ایک مسیحی پاکستانی خاتون آسیہ بی بی پر توہین رسالت کا الزام لگایا گیا. پنجاب صوبے کے گورنر جنہوں نے کیس پر نظر ثانی کی اپیل کی ان کو ٢٠١١ میں قتل کر دیا، ایاز ملک لکھتے ہیں.

Karachi, Pakistan (Photo by Syed Zargham/Getty Images)
کیس
جون ٢٠٠٩ میں پانچ بچوں کی ماں آسیہ بی بی کا، جو کے پاکستاں کے شیخوپورہ ڈسٹرکٹ میں رہنے والی ایک مسیحی خاتون ہیں، اپنے گاؤں والوں کے ساتھ جھگڑا ہوا جنہوں نے ان پر کنوے کا پانی چھو کر ناپاک کرنے کا الزام لگایا. اس کے بعد ایک مقامی مولوی قاری سلیم نے آسیہ بی بی پر رسول خدا حضرت محمّد کے خلاف توہین آمیز الفاظ استمعال کرنے کا الزام لگایا اور ان کو پاکستان کے پینل کوڈ کے دفع ٢٩٥-سی (جو کہ توہین رسالت قانون بھی کہلاتا ہے) کے تحت گرفتار کر لیا گیا. ٨ نومبر ٢٠١٠ کو شیخوپورہ ڈسٹرکٹ کورٹ نے آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے جرم کا مرتکب پایا اور ان کو موت کی سزا سنائی گئی. ان کے شوہر اسحاق مسیح نے، جو کے ایک مزدور ہیں، کہا کے آسیہ کی سزا ‘جھوٹے الزامات’ کی بنا پر ہے اور انہوں نے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چلینج کیا.
برطانوی راج کے زمانے میں متعارف کرآئے گئے توہین رسالت قانون پاکستان میں ١٩٨٦ میں جنرل ضیاء ال حق کی فوجی حکومت کے دوران ترمیم کے بعد اپنی موجودہ شکل میں ظاہر ہوئے. اس کے بعد سے کئی افراد پر، جن کا عام طور پی تعلّق مذہبی اقلیتوں سے ہے، اس قانون کے تحت فرد جرم عائد کیا گیا ہے. اگرچے اس قانون کے تحت آج تک کوئی بہی تختہ دار پہ نہیں چڑھایا گیا ہے، اس کے تحت الزام عائد کئے گئے ٣٢ لوگوں کو غیر قانونی طور پہ قتل کیا جا چکا ہے. جب کے کم از کم دو جج صاحبان، جنہوں نے ملزمان کو بےقصور قرار دے کر بری کر دیا تھا، کو بھی قتل کیا جا چکا ہے.
آسیہ بی بی کے کیس میں بین الاقوامی غصّے اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کی طرف سے اپیلوں کے بعد صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے کچھ انتہائی اہم، ہمدردی کے بیان دیے جن میں انہوں نے اس کیس کی نظرثانی اور اس قانون میں اصلاحات کی اپیل کی. ایک الزام دہندہ مسیحی عورت کی حمایت کرنے اور قانون کے پراسس میں عمل دخل کرنے پر سلمان تاثیر کو ملک کے اندر کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا. ٣ جنوری ٢٠١١ کو ان کو اپنے ہی ایک بوڈی گارڈ نے پاکستان کے دار الحکومت اسلامآباد میں دن دہاڑے قتل کر دیا. ان کے گارڈ ممتاز قادری نے قتل کا اعتراف کر لیا اور ایک انسداد دہشتگردی عدالت نے اس کو سزا موت کا حقدار پایا. لیکن اس کے حق میں ہمدردانہ گروہوں اور مذہبی پارٹیوں نے احتجاجات منعقد کئے. جس جج نے ممتاز قادری پر فرد جرم عائد کیا تھا اس کو اپنی جان کی حفاظت کے لئے سعودی عرب فرار ہونا پڑا. ١ مارچ ٢٠١١ کو اقلیتوں کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو، جو کے توہین رسالت قانون میں اصلاحات کے ایک نمایاں حامی تھے، اسلامآباد میں نامعلوم افراد نے گولیاں مار کے ہلاک کر دیا. ٢٠١٢ کے شروع تک شہباز بھٹی کے قاتلوں کو نہیں پکڑا گیا تھا اور آسیہ بی بی ابھی تک لاہور ہائی کورٹ سے اپنی اپنی اپیل پر فیصلے کی منتظر تھی.

Why the judge, at the end, escaped Pakistan only to go to Saudi Arabia is beyond me.
I completley agree with Ayyaz, and for that reason, i can’t help but think Partition was a mistake.