کمیونیٹی کے معیار

آزادی بیان پر بحث کے لیے وقف کردہ ویب سائٹ خود ایک دلچسپ سوال اٹھاتی ہے: کہ ہم کتنی آزادی سے آزادی بیان پر بحث کر سکتے ہیں؟ کیونکہ ہمارا موضوع آزادی اظہار راۓ  ہے، ہم چاہتے ہیں کے ہمارے تمام مصنفین سنگین تر مسائل پر بھی مکمّل آزادی سے اپنی آرا کا اظہار کریں. البتہ اس آزادی کا قطعا یہ مطلب نہیں کے ادھر کوئی بھی کسی بھی موضوع پر جو دل چاہے بول سکتا ہے اور یہ بھی کہ کوئی ادھر مصنوعات، سکیم یا سپیم پھیلانا شروع ہو جاۓ. اگر کوئی یہ کرنا شروع ہو جاۓ، تو بات چیت نا ممکن ہو جاۓ گی. آزادی کا مطلب انتشار نہیں ہے. آزادی اظہار راۓ پر ایک عالمی بحث کا مطلب یہ نہیں کے بیکار قسم کہ باتونی پنے پر اتر جایا جاۓ.

ہم اس ویب سائٹ کو ایک ایسی جگہ بنانا چاہتے ہیں جدھر ہر کسی کو ایک آزاد، مہذب اور نتیجہ خیز بحث میں حصّہ لینے کا موقع ملے. اور کچھ قانون بھی ہیں جن پر ہمیں عمل کرنا ہو گا – باوجود اس کہ کہ ہم میں سے کچھ لوگ ان قانونوں کو بدلنے کے حق میں ہوں. مندرجہ ذیل پیراگرافوں میں ہم ان معیارات کو واضح کریں گے جن کا آپ کو اس ویبسائٹ کا استعمال کرتے ہوئے خیال رکھنا ہو گا، اور ان نکات پر بھی روشنی ڈالیں گے جو اس ویب سائٹ کے مینیجروں کو گائیڈ کریں گے. ان حدود کو بنانا بھی آزادی اظہار راۓ پر جائز حدود کے بارے میں سوچنے کی ایک مشق تھی!

لچکدار تہذیب. ہمارے چوتھے اصول (ہم تمام انسانی تفریقات و اختلافات کے بارے میں کھلے اور مہذب طریقے سے بات کرتے ہیں) اور اس پراجکٹ کی روح سے تسلسل کے ساتھ ہم تمام افراد کو آزادی اظہار پر بحث سے متعلق کسی بھی موضوع پر بات کرنے کی توثیق دینا چاہتے ہیں. ہمیں اس پر بھی یقین ہے کہ ایسی بحث کو پروان چڑھانے کے لئے، خاص طور پر جب مختلف ممالک، ثقافتیں اور زبانیں شامل ہوں، تہذیب کا ایک بنیادی لیول ضروری ہے. لیکن تہذیب کی حدود سیاق و سباق کے مطابق بدلتا رہتا ہے – مثلا جب ہم مزاح کرتے ہیں. ہم اس اصول کو ‘لچکدار تہذیب’ کہتے ہیں.

قانون. آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ میں قائم ہیں اور اس لئے اس پر انگلستان اور ویلز کا قانون لاگو ہوتا ہے. اسی وجہ سے آپ جو بھی مواد ویب سائٹ پر ڈالیں گے اس کو برطانیہ کے قانون کے متنازی نہیں ہونا چاہئے. کیوں کے اس ویب سائٹ تک اصولی طور پر ساری دنیا سے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے، اس بات کا بھی خیال رکھیں کے آپ دوسرے ممالک کے قانون کے مطابق بھی قانون سے تجاوز کر سکتے ہیں.

اگر آپ کو لگے کے کوئی بھی چیز کمیونٹی کے معیار سے تجاوز کر رہی ہے تو کسی بھی صارف کے تبصرے کے نیچے دے گئے ‘رپورٹ’ بٹن کو استعمال کیجئے یا ہمیں اس ای میل ایڈریس پر ای میل کیجئے:

report@freespeechdebate

اگر کوئی خلاف ورزی رپورٹ کی جاتی ہے تو یونیورسٹی اس بات کا تعین کرے گی کے کیا کسی صارف نے کمیونٹی معیارات کی خلاف ورزی کی ہے کہ نہیں اور پھر اس پر مناسب ایکشن لیا جاۓ گا.

ہمارے کھلے پن، مطابقت اور لچکدار تہذیب کے مقصد حاصل کرنے کے لئے اس طرح کے مواد کو ساکتا ہے کہ ہٹا دیا جاۓ:

تشدد کی طرف اکسانا

ذاتی بدسلوکی اور بدنامی بشمول دھمکیاں اور بدتمیزی

نسل، جنس، مذہب، جنسی رویوں، معذوری یا قومیت کی بنیاد پر کسی اور کے خلاف نفرت اکسانا

فحاشی

دوسروں کے حق رازداری اور متعلقہ ڈیٹا پروٹیکشن قانونوں کی خلاف ورزی کرنا

دوسرے کی نقل کرنا یا کوئی بھی ایسا مواد جو کہ کسی اور شخص یا گروہ کے ساتھ آپ کی شخصیت یا قربت کی غلط نمائندگی کرے

کاپی رائٹ، ڈیٹا بیس رائٹ، ٹریڈمارک یا منسلک علمی پراپرٹی حقوق کی خلاف ورزی

کمرشل یا پروموشنل مواد بشمول سپیم کے

ایسا مواد جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہو

یونیورسٹی ان کمیونٹی معیارات کو اس صفحے کو بدل کر کسی بھی وقت پر بدل سکتا ہے. براہ مہربانی ان لنکس کو بھی دیکھئے: استعمال کی شرائط، کاپی رائٹ اور انتساب، پرائیویسی اور رسائی کی پالیسیاں.

print Print picture_as_pdf PDF

کسی بھی زبان میں تبصرہ کیجئے

کيا کسی اضافہ کی ضرورت ہے؟

کيا کوئی ايسی مہم چيز ہے جس سے ہم نے نہيں نمٹا؟ کوئی گيارہواں اصول؟ کوئي کيس اسٹڈی؟ دوسروں کا کيا ہوا تبصرا پڑہيے اور اپنا بھی شامل کيجيے۔ يا پھر اپنی زبان ميں اس گفتگو اور بحث کا آغاز کيجيے۔

إشترأک

آزادی اظہار راۓ آکسفرڈ یونیورسٹی کا ایک تحقیقی پراجکٹ ہے جو کہ سینٹ اینٹونی کالج کے ڈیرنڈورف پروگرام براۓ مطالعہ آزادی کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے

اوکسفرڈ يونيورسٹی